عَنْ شَدَّادٍ قَالَ : كَانَ أَبُو ذَرٍّ يَسْمَعُ الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ الشِّدَّةُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ عَلَى قَوْمِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِيهِ بَعْدُ ، فَلَمْ يَسْمَعْهُأَبُو ذَرٍّ ، فَيَتَعَلَّقُ أَبُو ذَرٍّ بِالْأَمْرِ الشَّدِيدِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
شداد بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کوئی حدیث سنی ، جس میں کسی حکم میں سختی تھی ، پھر وہ اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں ( اس حدیث کے حوالے سے ) دعوت دیتے رہے ، اُس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے کے بارے میں رخصت دیدی ، لیکن سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے وہ رخصت نہیں سنی ، تو وہ اس شدت والے حکم کے پابند رہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَاصٍّ ، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا النَّاسِخُ وَالْمَنْسُوخُ ؟ قَالَ : وَمَا النَّاسِخُ وَالْمَنْسُوخُ ؟ قَالَ : فَمَا تَدْرِي مَا النَّاسِخُ وَالْمَنْسُوخُ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو رَاشِدٍ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر ایک عوامی خطیب کے پاس سے ہوا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پاؤں مارا اور بولے : کیا تم ناسخ اور منسوخ کے درمیان فرق سے واقف ہو ؟ اُس نے دریافت کیا : ناسخ اور منسوخ کیا ہوتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم یہ نہیں جانتے کہ ناسخ اور منسوخ کیا ہوتا ہے ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم ہلاکت کا شکار ہوئے اور تم نے ( دوسروں کو بھی ) ہلاکت کا شکار کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوراشد مولیٰ بنو عامر ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوراشد مولیٰ بنو عامر ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔