مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ . باب: ناسخ اور منسوخ کا بیان
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ : مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَاصٍّ ، فَرَكَلَهُ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا النَّاسِخُ وَالْمَنْسُوخُ ؟ قَالَ : وَمَا النَّاسِخُ وَالْمَنْسُوخُ ؟ قَالَ : فَمَا تَدْرِي مَا النَّاسِخُ وَالْمَنْسُوخُ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو رَاشِدٍ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر ایک عوامی خطیب کے پاس سے ہوا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پاؤں مارا اور بولے : کیا تم ناسخ اور منسوخ کے درمیان فرق سے واقف ہو ؟ اُس نے دریافت کیا : ناسخ اور منسوخ کیا ہوتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم یہ نہیں جانتے کہ ناسخ اور منسوخ کیا ہوتا ہے ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم ہلاکت کا شکار ہوئے اور تم نے ( دوسروں کو بھی ) ہلاکت کا شکار کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوراشد مولیٰ بنو عامر ہے ، میں نے کسی کو اُس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔