کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے
حدیث نمبر: 655
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَذِبٌ عَلَيَّ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِفَاعَةُ بْنُ الْهُرَيْرِ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ! کیونکہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ، کسی اور ( شخص ) کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کی مانند نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رفاعہ بن ہریر ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رفاعہ بن ہریر ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 656
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَى نَبِيِّهِ أَوْ عَلَى عَيْنَيْهِ أَوْ عَلَى وَالِدَيْهِ لَمْ يَرُحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اپنے نبی کے حوالے سے ، یا اپنی آنکھوں کے حوالے سے ، یا اپنے والدین کے حوالے سے جھوٹ بولتا ہے ( یعنی جو شخص جھوٹی حدیث روایت کرتا ہے ، یا جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ، یا اپنے باپ کی بجائے کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرتا ہے ) وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 657
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكْذِبُوا ، عَلَيَّ إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ لَجَرِيءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے حوالے سے جھوٹ بیان نہ کرو ! میرے حوالے سے جھوٹ بیان کرنے والا شخص ( گناہ کے کام میں ) جری ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 658
وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونًا الْكُرْدِيَّ وَهُوَ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ : مَا لِلشَّيْخِ لَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، فَإِنَّ أَبَاكَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَ مِنْهُ ؟ فَقَالَ : كَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخَافَةَ أَنْ يَزِيدَ أَوْ يَنْقُصَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے میمون کردی کو سنا : وہ اُس وقت مالک بن دینار کے پاس موجود تھے ، مالک بن دینار نے اُن سے کہا: کیا وجہ ہے کہ بزرگوار ( یعنی آپ ) اپنے والد کے حوالے سے حدیث روایت نہیں کرتے ہیں ؟ حالانکہ آپ کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے ، تو میمون نے بتایا : میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کرتے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ کوئی کمی یا بیشی نہ کر دیں ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اُسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 659
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ثَلَاثَةٌ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ : رَجُلٌ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَرَجُلٌ كَذِبَ عَلَى نَبِيِّهِ ، وَرَجُلٌ كَذِبَ عَلَى عَيْنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ عُمَرَ ، ضَعِيفٌ ، لَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین آدمی جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے ، ایک وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور ( کی اولاد ہونے ) کا دعوی کرے ، ایک وہ شخص جو اپنے نبی کے حوالے سے جھوٹی بات بیان کرے اور ایک وہ شخص جو اپنی آنکھوں کے حوالے سے جھوٹی بات ( یعنی جھوٹا خواب ) بیان کرے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرزاق بن عمر ہے ، یہ ضعیف ہے ، کسی نے بھی اسے ثقہ قرار نہیں دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرزاق بن عمر ہے ، یہ ضعیف ہے ، کسی نے بھی اسے ثقہ قرار نہیں دیا ہے ۔