حدیث نمبر: 609
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَمَلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " الصِّدْقُ ، فَإِذَا صَدَقَ الْعَبْدُ بَرَّ ، وَإِذَا بَرَّ آمَنَ ، وَإِذَا آمَنَ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عَمَلُ النَّارِ ؟ قَالَ : " الْكَذِبُ ، إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ فَجَرَ ، وَإِذَا فَجَرَ كَفَرَ ، وَإِذَا كَفَرَ دَخَلَ [ يَعْنِي ] النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! جنت کا عمل کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سچ بولنا ، کیونکہ جب بندہ سچ بولے : گا تو نیکی کرے گا ، جب وہ نیکی کرے گا تو مؤمن ہو گا اور جب وہ مومن ہو گا ، تو جنت میں داخل ہو جائے گا ، اس شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! جہنم کا عمل کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جھوٹ بولنا ، کیونکہ جب آدمی جھوٹ بولے : گا تو گناہ کرے گا ، جب گناہ کرے گا تو کفر کرے گا ، اور جب وہ کفر کرے گا تو اس میں داخل ہو جائے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔
حدیث نمبر: 610
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا كَانَ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْكَذِبِ ، وَمَا اطَّلَعَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ فَيَخْرُجُ مِنْ قَلْبِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ تَوْبَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : لَمْ يَكُنْ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : کوئی بھی عادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی ۔ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کے حوالے سے جھوٹ پر مطلع ہوتے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے ناراض رہتے ، جب تک آپ کو یہ علم نہیں ہو جاتا کہ اب اس نے توبہ کر لی ہے ( اور وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے نزدیک کوئی بھی عادت ( جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی ) ۔ “
یہ روایت بھی امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔
یہ روایت بھی امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 611
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ : لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا ؟ قَالَ : " إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تَكْتُبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو شَدَّادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ فِي الْمِيزَانِ : لَمْ يَرْوِ عَنْهُ سِوَى ابْنِ جُرَيْجٍ . قُلْتُ : قَدْ رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمُسْنَدِ ، فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی عورت کسی چیز کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ اُسے اس چیز کی خواہش محسوس ہو رہی ہے ، حالانکہ اسے اس چیز کی خواہش محسوس نہ ہو رہی ہو ، تو کیا یہ چیز بھی جھوٹ شمار کی جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جھوٹ کو جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ، یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : ابوشداد نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے ، مصنف کتاب “” “” میزان “” “” میں یہ فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ابن جریج کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یونس بن یزید ایلی نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، جو ” مسند “ میں مذکور ہے ، تو اس کا مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : ابوشداد نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے ، مصنف کتاب “” “” میزان “” “” میں یہ فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ابن جریج کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یونس بن یزید ایلی نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، جو ” مسند “ میں مذکور ہے ، تو اس کا مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 612
وَعَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ وَأَنْتَ بِهِ كَاذِبٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ قُتَيْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بڑی مخیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ کوئی بات کرو ، جس کے بارے میں وہ تمہیں سچ سمجھ رہا ہو ، اور تم جھوٹ بول رہے ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد عمر بن ہارون سے روایت کی ہے جسے قتیبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جب کہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد عمر بن ہارون سے روایت کی ہے جسے قتیبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جب کہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 613
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ لِصَبِيٍّ : تَعَالَ هَاكَ ، ثُمَّ لَمْ يُعْطِهِ ; فَهِيَ كِذْبَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی بچے سے یہ کہے : تم آؤ ! اور یہ لو ! اور پھر وہ اسے کچھ نہ دے ، تو یہ چیز جھوٹ شمار ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے زہری کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، حالانکہ زہری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے زہری کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، حالانکہ زہری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 614
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : “” “” اے لوگو تمہیں کیا چیز اس بات پر مجبور کرتی ہے ؟ کہ تم مسلسل جھوٹ بولو ، یوں جس طرح پتنگے مسلسل آگ میں گرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے جس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔