کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے
حدیث نمبر: 615
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، أَوْ رَدَّ شَيْئًا أَمَرْتُ بِهِ ، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَارِيَةُ بْنُ الْهَرِمِ الْفُقَيْمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے یا کسی ایسی چیز کو مسترد کر دے جس کے بارے میں ، میں نے حکم دیا ہو ، تو اُسے جہنم میں گھر بنا لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن ہرم فقیمی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جاریہ بن ہرم فقیمی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 616
وَعَنْ دُجَيْنٍ أَبِي الْغُصْنِ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي عَنْ عُمَرَ ، فَقَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، أَخَافُ أَنْ أَزَيِدَ أَوْ أَنْ أَنْقُصَ ، كُنَّا إِذَا قُلْنَا لِعُمَرَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَخَافُ أَنْ أَزِيدَ حَرْفًا أَوْ أَنْتَقِصَ حَرْفًا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَهُوَ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . وَفِيهِ دُجَيْنُ بْنُ ثَابِتٍ أَبُو الْغُصْنِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین
دجین ابوغصن بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں داخل ہوا ، میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے ہوئی ، تو میں نے کہا: آپ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کریں ، تو اسلم نے کہا: میں ایسا نہیں کر سکتا ، کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں کوئی اضافہ یا کمی کر دوں گا ، جب ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے تھے آپ ہمیں اللہ کے رسول کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کریں ، تو وہ یہ فرماتے تھے : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں کوئی حرف زیادہ کر دوں گا ، یا کوئی حرف کم کر دوں گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ اس کی سند میں ایک راوی دجین بن ثابت ابوغصن ہے اور وہ ضعیف ہے ، وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ اس کی سند میں ایک راوی دجین بن ثابت ابوغصن ہے اور وہ ضعیف ہے ، وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 617
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ ، وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ يَعْنِي قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ . ¤ وَفِي رِوَايَةِ الْبَزَّارِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ حَدِيثٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالطَّرِيقُ الْأَوَّلُ فِيهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرمایا کرتے تھے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث روایت کرنے میں یہ چیز میرے لئے رکاوٹ نہیں بنتی ہے کہ میں آپ کے اصحاب سے زیادہ بہتر طور پر آپ کی باتوں کو محفوظ کرنے والا نہیں ہوں لیکن میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ایک روایت میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں موجود گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ دونوں روایات امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہیں ۔ امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور یہ ایسی حدیث ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، پہلے والی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے وہ ضعیف ہے ، ویسے اُسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔
یہ دونوں روایات امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہیں ۔ امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور یہ ایسی حدیث ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، پہلے والی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے وہ ضعیف ہے ، ویسے اُسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 618
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ ; فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبُ عَلَيَّ يَلِجُ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہلیہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث منقول ہے : ” میری طرف جھوٹی بات منسوب نہ کرو ! کیونکہ جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 619
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دکین ہے ، جیسے یحیی بن معین نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن دکین ہے ، جیسے یحیی بن معین نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 620
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَلَهُ عِنْدَهُمَا إِسْنَادَانِ أَحَدُهُمَا رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری طرف جھوٹی بات منسوب کرنا ، کسی اور کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کی مانند نہیں ہے ، جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے گا ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں صاحبان نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں صاحبان نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 621
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ يُبْنَى لَهُ بَيْتٌ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اُس کے لئے جہنم میں گھر بنا دیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 622
عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي النَّارِ " . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہی امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم میں گھر بنا دیتا ہے ۔ “
اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 623
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 624
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُ قَالَ لِلْمُخْتَارِ : هَذَا رَجُلٌ كَذَّابٌ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَلَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ نَحْوَ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُنہوں نے مختار کے بارے میں یہ کہا: یہ شخص کذاب ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نقل کی ہے امام بزار نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص میرے حوالے سے ایسی بات بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، امام أحمد کی روایت کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ہے ، جو سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ، اس کے حوالے سے صرف خالد بن سلمہ نے روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، امام أحمد کی روایت کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم ہے ، جو سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے ، اس کے حوالے سے صرف خالد بن سلمہ نے روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 625
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْغَافِقِيَّ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ عَلَى الْمِنْبَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَادِيثَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا لَحَافِظٌ أَوْ هَالِكٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَسَتَرْجِعُونَ إِلَى قَوْمٍ يُحِبُّونَ الْحَدِيثَ عَنِّي ، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ حَفِظَ شَيْئًا فَلْيُحَدِّثْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن میمون حضری بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ غافقی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عقب بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مختلف احادیث بیان کرتے ہوئے سنا ، تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بولے : تمہارے یہ ساتھی یا تو حافظ ہیں ، یا ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری جو آخری ملاقات ہوئی تھی ، اُس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ” تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے ، تم لوٹ کر ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے ، جو میرے حوالے سے حدیث روایت کرنے کو پسند کرتے ہوں گے ، تو جو شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے جو میں نے نہ کہی ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جس شخص کو کوئی بات یاد ہو ، اسے وہ بات بیان کر دینی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 626
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يُغْنِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ ؟ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُمْ يَا عُقْبَةُ ، [ فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ] فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن ابورقیہ بیان کرتے ہیں : میں نے مسلمہ بن مخلد کو سنا ، وہ منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، انہوں نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا عصب اور کتان میں تمہیں وہ چیز نہیں ملتی ہے ، جو تمہیں ریشم سے بے نیاز کر دے ؟ تمہارے درمیان یہ صاحب موجود ہیں ، جو تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کریں گے ، اے سیدنا عقبہ ! آپ کھڑے ہو جائیں ( تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ) اور اُنہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( پھر سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اُسے پہننے سے محروم رہے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 627
وَعَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا . قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ : حَدَّثَنَا زَيْدٌ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ قَالَ : بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ : مَا أَحَادِيثُ تُحَدِّثُ بِهَا وَتَرْوِيهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا نَجِدُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ تُحَدِّثُ أَنَّ لَهُ حَوْضًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ : [ قَدْ ] حَدَّثَنَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَعَدَنَاهُ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ شَيْخٌ قَدْ خَرِفْتَ . قَالَ : إِنِّي قَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلِيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، وَمَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوحیان تیمی نے اپنے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم اُن کے پاس بیٹھ گئے تو حصین نے اُن سے کہا: اے سیدنا زید ! آپ نے بہت ہی بھلائی حاصل کی ہے ، یزید بن حیان بیان کرتے ہیں : اس محفل میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا : عبداللہ بن زیاد نے مجھے بلوایا ، میں اُس کے پاس گیا ، تو وہ بولا: وہ احادیث کیا ہیں ؟ جو آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں اور روایت کرتے ہیں ، لیکن ہمیں وہ اللہ کی کتاب میں نہیں ملتی ہیں ، آپ یہ بات بیان کرتے ہیں کہ جنت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حوض ہے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اُس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں بتایا ہے اور آپ نے اس کے بارے میں ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ، تو عبداللہ بن زیاد بولا: آپ جھوٹ بول رہے ہیں ، آپ ایک بوڑھے ہیں جو خرافات بیان کر رہے ہیں ، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اپنے ان دو کانوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ، اور میرے دل نے اُسے محفوظ رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( پھر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 628
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَضْجَعًا مِنَ النَّارِ أَوْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَرَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے آگ ( یعنی جہنم میں اپنے لیٹنے کی جگہ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور ایک ایسا شخص ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 629
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسُ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ دُونَ قَوْلِهِ : " لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تاکہ وہ اُس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تاکہ وہ اُس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ۔ “
حدیث نمبر: 630
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَفَرَى الْفِرَى : مَنْ أَرَى عَيْنَيْهِ مَا لَمْ تَرَ ، وَمِنْ أَفَرَى الْفِرَى : مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے ، جو انہوں نے نہ دیکھی ہو ( یعنی وہ کوئی جھوٹا خواب بیان کرے ) اور سب سے بڑے جھوٹ میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ کوئی شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے ، جو میں نے نہ کہی ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا صرف ابتدائی حصہ منقول ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 631
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فِي رِوَايَةِ حَدِيثٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " فِي رِوَايَةِ حَدِيثٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص حدیث روایت کرتے ہوئے میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم یہ الفاظ نہیں ہیں : ” حدیث روایت کرتے ہوئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن شریح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 632
وَعَنْ عِمْرَانَ [ أَنَّ ] النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ سَالِمٍ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مُطَرِّفِ بْنِ مُحَمَّدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمومن بن سالم ہے ، اس کے حوالے سے مطرف بن محمد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمومن بن سالم ہے ، اس کے حوالے سے مطرف بن محمد کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 633
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ - الصَّلَاةَ " . قَالَ : قُلْتُ : أَسْمِعْتَ ذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَغَضِبَ ، وَأَقْبَلَ يُحَدِّثُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَلَمَّا أَتَاهُمْ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ بِمَا شِئْتُ ، فَقَالُوا : سَمْعًا وَطَاعَةً لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثُوا رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا جَاءَنَا فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أَحْكُمَ فِي نِسَائِكُمْ ، فَإِنْ كَانَ عَنْ أَمْرِكَ فَسَمْعًا وَطَاعَةً ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْنَا أَنْ نُعْلِمَكَ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَقَالَ : " اذْهَبْ [ إِلَى فُلَانٍ ] فَاقْتُلْهُ ، وَأَحْرِقْهُ بِالنَّارِ " ، فَانْتَهَى إِلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ وَقُبِرَ ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُبِشَ ، ثُمَّ أَحْرَقَهُ بِالنَّارِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . فَقَالَ : تَرَانِي كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ " أَرِحْنَا بِهَا يَا بِلَالُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاهِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن حنفیہ کے صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ہمراہ اپنے سسرالی عزیزوں کی طرف گیا ، جن کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھتے تھے میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے بلال ! اس کے ذریعے ہمیں راحت پہنچاؤ ! “ ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد نماز تھی ۔ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود سنی ہے ؟ تو وہ غصے میں آ گئے اور انہوں نے لوگوں کو یہ بات بیان کرنا شروع کی : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو عربوں کے کسی قبیلے کی طرف بھیجا ، جب وہ شخص اُن لوگوں کے پاس پہنچا ، تو اس نے ان لوگوں سے یہ کہا: بے شک اللہ کے رسول نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں جو چاہوں فیصلہ دوں ( یعنی جس بھی خاتون کی شادی جس بھی جگہ طے کرنا چاہوں کر دوں ) ان لوگوں نے کہا: ہم اللہ کے رسول کے فرمان کی اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں ، پھر انہوں نے ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، اُس شخص نے بتایا : فلاں شخص ہمارے ہاں آیا اور اس نے ہم سے یہ کہا: بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں تمہاری خواتین کے بارے میں فیصلہ دوں ( پھر اس قاصد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : ) اگر تو یہ آپ کا حکم ہے ، تو ہم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیتے ہیں اور اگر یہ اس کے علاوہ ہے ، تو ہم نے اس بات کو پسند کیا کہ ہم یہ چیز آپ کے علم میں لے آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور یہ ارشاد فرمایا : تم ( اس فلاں شخص ) کی طرف جاؤ ! اُسے قتل کر دو اور اُسے آگ میں جلا دو ! جب وہ انصاری ، اُس مطلوبہ فرد کے پاس پہنچا ، تو اُس شخص کا انتقال ہو چکا تھا اور اُسے دفنا دیا گیا تھا ، اُس انصاری کے حکم کے تحت اس کی میت کو قبر کھود کر نکالا گیا اور پھر اس انصاری نے آگ کے ذریعے اُسے جلا دیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ ( عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں : پھر مجھے مخاطب کر کے اُن صحابی نے ) کہا: کیا تم میرے بارے میں یہ سجھتے ہو ؟ کہ اس کے بعد بھی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کروں گا ؟ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اے بلال ! ہمیں اس کے ذریعے راحت پہنچاؤ ! “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ شخص ” ضعیف“ ہے اور ” واہی الحدیث “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے اور وہ شخص ” ضعیف“ ہے اور ” واہی الحدیث “ ہے ۔
حدیث نمبر: 634
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا لَبِسَ حُلَّةً مِثْلَ حُلَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَى أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَيَّ أَهْلِ بَيْتٍ شِئْتُ اسْتَطْلَعْتُ ، فَقَالُوا : عَهْدُنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْمُرُ بِالْفَوَاحِشِ . قَالَ : فَأَعَدُّوا لَهُ بَيْتًا وَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " انْطَلِقَا إِلَيْهِ ، فَإِنْ وَجَدْتُمَاهُ حَيًّا فَاقْتُلَاهُ ، ثُمَّ حَرِّقَاهُ بِالنَّارِ ، وَإِنْ وَجَدْتُمَاهُ [ مَيِّتًا ] فَقَدْ كُفِيتُمَاهُ ، وَلَا أَرَاكُمَا إِلَّا قَدْ كُفِيتُمَاهُ ، فَحَرِّقَاهُ " ، فَأَتَيَاهُ فَوَجَدَاهُ قَدْ خَرَجَ مِنَ اللَّيْلِ يَبُولُ فَلَدَغَتْهُ حَيَّةٌ أَفْعَى فَمَاتَ ، فَحَرَّقَاهُ بِالنَّارِ . ثُمَّ رَجَعَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَاهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . وَأَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ " الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلہ جیسا حلہ پہنا ، پھر وہ مدینہ منورہ کے ایک گھرانے ( یا محلے ) میں آیا اور بولا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں جس بھی گھر میں چاہوں جا سکتا ہوں ، اُن لوگوں نے کہا: ہم نے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بھی یہی چیز پائی ہے کہ آپ کسی فحش چیز کا حکم نہیں دیتے ہیں ، پھر اُن میں سے کسی نے یہ کہا: تم لوگ اس کے ٹھہرنے کا بندوبست کرو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی قاصد بھیجو ! جب اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : تم دونوں اُس کی طرف جاؤ ! اگر وہ تمہیں زندہ مل گیا ، تو اُسے قتل کر کے اسے آگ میں جلا دینا اور اگر تم نے اُسے ( مردہ ) پایا ، تو اُس کے حوالے سے تمہاری کفایت ہو چکی ہو گی ، اور تم دونوں کے بارے میں میرا یہی اندازہ ہے کہ اس کے حوالے سے تمہاری کفایت ہو چکی ہو گی ، تو تم اُسے آگ میں جلا دینا ، یہ دونوں حضرات اس شخص کی طرف روانہ ہوئے ، تو اُن دونوں نے یہ صورتحال پائی کہ وہ شخص رات کے وقت پیشاب کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اُسے کسی سانپ نے ڈس لیا اور وہ مر گیا ، تو ان دونوں حضرات نے اُسے آگ کے ذریعے جلا دیا ، پھر یہ دونوں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال بتائی ، تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الخ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الخ ۔
حدیث نمبر: 635
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ الْحَضْرَمِيُّ . قُلْتُ : وَهُوَ مَتْرُوكٌ شِيعِيٌّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ابواسحاق کے حوالے سے اسے صرف موسیٰ بن عمران حضرمی نامی راوی نے روایت کیا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ شخص متروک ہے اور شیعہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ابواسحاق کے حوالے سے اسے صرف موسیٰ بن عمران حضرمی نامی راوی نے روایت کیا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ شخص متروک ہے اور شیعہ ہے ۔
حدیث نمبر: 636
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ، جسے امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ، جسے امام ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 637
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا أَبِي . وَلَا أَعْرِفُهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ ہے کہ امام طبرانی نے یہ فرمایا ہے : ہمیں أحمد نے یہ حدیث بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے والد نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں ان دونوں راویوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ ہے کہ امام طبرانی نے یہ فرمایا ہے : ہمیں أحمد نے یہ حدیث بیان کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے والد نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں ان دونوں راویوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 638
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر مں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر مں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 639
وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَشَيْخُهُ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نُبَيْطٍ كَذَّبَهُ صَاحِبُ الْمِيزَانِ ، وَبَقِيَّةُ إِسْنَادِهِ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا الصَّحَابِيَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص میں جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس میں امام طبرانی کے استاد أحمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبیط کو ” میزان “ کے مصنف نے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی سند کے بقیہ راویوں میں سے صحابی رسول کے علاوہ اور کسی راوی کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس میں امام طبرانی کے استاد أحمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبیط کو ” میزان “ کے مصنف نے جھوٹا قرار دیا ہے اور اس کی سند کے بقیہ راویوں میں سے صحابی رسول کے علاوہ اور کسی راوی کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ۔
حدیث نمبر: 640
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ لِأَبِي مُوسَى : أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ؟ فَسَكَتَ أَبُو مُوسَى ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَيُقَالُ لَهُ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ . ¤
محمد محی الدین
ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور انہوں نے کچھ نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزوّر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے علی بن ابوفاطمہ بھی کہا: جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزوّر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے علی بن ابوفاطمہ بھی کہا: جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 641
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسَ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کر دے ، تو اُسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 642
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا لِيَضِلَّ بِهِ النَّاسُ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، تاکہ اُس کے ذریعے وہ لوگوں کو گمراہ کرے ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 643
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَامِرٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ہے اکثر حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن عامر ہے اکثر حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 644
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَّابِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکریا غلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکریا غلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 645
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَفْطَحُ عَنْ يَحْيَى بْنِ زَهْدَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَا أَدْرِي الْبَلَاءُ مِنْهُ أَوْ مِنْ شَيْخِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : أحمد بن علی افطح نے یحیی بن زہدم بن حارث کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، ابن عدی فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ خرابی کی جڑ یہ راوی ہے یا اس کا استاد ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : أحمد بن علی افطح نے یحیی بن زہدم بن حارث کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، ابن عدی فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ خرابی کی جڑ یہ راوی ہے یا اس کا استاد ہے ؟
حدیث نمبر: 646
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 647
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلف بن خلیفہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ بعض حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلف بن خلیفہ ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ بعض حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 648
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مِنْ قِبَلِ هِلَالٍ الْوَزَّانِ ، لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ ، وَكَذَلِكَ الْحَدِيثُ الْآتِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں گھر بنا لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند جو ہلال الوزان کے حوالے سے ہے ، میں نے کسی کو ان راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، آگے آنے والی حدیث کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند جو ہلال الوزان کے حوالے سے ہے ، میں نے کسی کو ان راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، آگے آنے والی حدیث کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 649
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ ، [ وَمَنْ رَدَّ حَدِيثًا بَلَغَهُ عَنِّي فَأَنَا مُخَاصِمُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَإِذَا بَلَغَكُمْ عَنِّي حَدِيثٌ فَلَمْ تَعْرِفُوهُ فَقُولُوا : اللَّهُ أَعْلَمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی چھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں ( اپنے ) گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور جس شخص کے پاس میرے حوالے سے کوئی حدیث پہنچے اور وہ اسے مسترد کر دے ، تو قیامت کے دن میں اس کا مقابل فریق ہوؤں گا ، جب تمہارے پاس میرے حوالے سے کوئی ایسی حدیث پہنچے ، جس سے تم واقف نہ ہو ( یا جس سے تم شناسا یا مانوس نہ ہو ) تو تم لوگ یہ کہہ دو : اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 650
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَكِيلِ الزُبَيْرِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَصْرِيِّ أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ قَالُوا لِصُهَيْبٍ : يَا أَبَانَا ، إِنَّ أَبْنَاءَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُونَ عَنْ آبَائِهِمْ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ [ آلِ ] الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار ، جو زبیر بن شعیب بصری کے وکیل ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ہمارے ابا جان ! ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے صاحبزادوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے حوالے سے حدیث روایت کرتے ہیں ؟ تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن دینار ہے ، جو آل زبیر کا منشی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 651
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 652
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا كَذِبًا مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میرے حوالے سے کوئی جھوٹی حدیث بیان کرتا ہے ، اُسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 653
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ " فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ نَزِيدُ وَنَنْقُصُ ! . قَالَ : " لَيْسَ أَعْنِيكُمْ ، إِنَّمَا أَعْنِي الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ مُتَحَدِّثًا يَطْلُبُ بِهِ شِينَ الْإِسْلَامِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ ، وَهَلْ لِجَهَنَّمَ عَيْنَانِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَمَّا سَمِعْتُمُ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ " إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ " فَهَلْ تَرَاهُمْ إِلَّا بِعَيْنَيْنِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ فِي رِوَايَةٍ ، وَرَوَاهُ عَنِ الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اُسے جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر بہت گراں گزری ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے ہم سے کمی و بیشی ہو جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری مراد تم لوگ نہیں ہو ، میری مراد وہ شخص ہے ، جو میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اور اس بات کو بیان کرنے کے ذریعے وہ اسلام کو رسوا کرنا چاہتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان ، تو کیا جہنم کی دو آنکھیں بھی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جب وہ دور سے انہیں دیکھے گی“ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو وہ انہیں آنکھوں کے ذریعے ہی دیکھ سکتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے ، عجلی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن سعید القطان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، احوص کے حضرات حوالے سے یہ روایت محمد بن فضل بن عطیہ نے نقل کی ہے ، جو ایک ضعیف راوی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے ، عجلی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن سعید القطان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، احوص کے حضرات حوالے سے یہ روایت محمد بن فضل بن عطیہ نے نقل کی ہے ، جو ایک ضعیف راوی ہے ۔
حدیث نمبر: 654
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَدِّثُوا عَنِّي بِمَا تَسْمَعُونَ ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ ، فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ أَوْ قَالَ عَلَيَّ غَيْرَ مَا قُلْتُ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي جَهَنَّمَ يَرْتَعُ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میرے حوالے سے وہ چیز بیان کر دو ! جو تم نے سنی ہو ، کسی بھی شخص کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، جو شخص میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے گا ( یہاں شاید علوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو شخص میرے حوالے سے کوئی ایسی بات بیان کرے ، جو میری کہی ہوئی بات کے علاوہ ہو ، تو اُس کے لئے جہنم میں گھر بنا دیا جائے گا ، جس میں وہ رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ایسی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے راویوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
…