حدیث نمبر: 606
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَادِيثَ سَمِعْتُهَا وَحَفِظْتُهَا ، مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهَا إِلَّا أَنَّ أَصْحَابِي يُخَالِفُونَنِي فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے کئی احادیث سنی ہیں ، جنہیں میں نے سنا اور انہیں یاد رکھا لیکن میں انہیں اس لیے روایت نہیں کرتا ہوں کہ اُن ( میں سے بعض ) کے بارے میں میرے ساتھی میرے برخلاف روایت نقل کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 607
وَعَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : هَذَا أَوْ نَحْوَهُ أَوْ شَكْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کر کے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے یہ کہا: یہ یا اس کی مانند ، یا اُس کی طرح ( حدیث کے الفاظ ہیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 608
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ : أَيْ مُطَرِّفٌ ، وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرَى أَنِّي لَوْ شِئْتُ حَدَّثْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ لَا أُعِيدُ حَدِيثًا ، ثُمَّ لَقَدْ زَادَنِي بُطْأً عَنْ ذَلِكَ وَكَرَاهِيَةً لَهُ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهِدْتُ كَمَا شَهِدُوا ، وَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعُوا ، يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ شُبِّهَ لَهُمْ ، فَكَانَ أَحْيَانًا يَقُولُ : لَوْ حَدَّثْتُكُمْ أَنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ كَذَا وَكَذَا رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ صَدَقْتُ ، وَأَحْيَانًا يَعْزِمُ يَقُولُ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ كَذَا وَكَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْغَنَوِيُّ ، لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عُمَرَ فِي بَابِ فِيمَنْ كَذَبَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے مطرف ! اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر میں چاہوں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مسلسل دو دن تک احادیث بیان کر سکتا ہوں ، جن میں سے کوئی بھی بات میں نہیں دہراؤں گا ، لیکن پھر میں ایسا اس لئے نہیں کرتا اور اس بات کو ناپسند کرتا ہوں ( کہ میں احادیث روایت کروں ) کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ حضرات ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب جس طرح وہ موجود تھے اس طرح میں بھی موجود تھا ، جس طرح انہوں نے سماع کیا ، اسی طرح میں نے بھی سماع کیا ، لیکن وہ کچھ ایسی احادیث روایت کرتے ہیں ؛ جو ان کے لیے مشتبہ ہو گئیں ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بعض اوقات یہ فرمایا کرتے تھے : اگر میں تمہارے سامنے یہ بات بیان کروں کہ میں نے اللہ کے نبی کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تو میں یہ سجھتا ہوں کہ میں نے سچ بیان کیا ہو گا ، اور بعض اوقات سیدنا عمران رضی اللہ عنہ جزم کے ساتھ فرماتے تھے : میں نے اللہ کے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون غنوی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس باب میں آئے گی ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے متعلق روایات آئیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوہارون غنوی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث اس باب میں آئے گی ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے متعلق روایات آئیں گی ۔