کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عالم (یعنی تعلیم دینے والے ) کے آداب
حدیث نمبر: 542
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلِّمُوا ، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْأَدَبِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تعلیم دو ! آسانی فراہم کرو ، تنگی کا شکار نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ مکمل روایت ” کتاب الادب “ میں آئے گی ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 1/283 ، 365 ، اورده المؤلف فى زوائد المسند 203»
حدیث نمبر: 543
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي الزِّنَا ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَزَجَرُوهُ ، فَقَالُوا : مَهْ مَهْ ، فَقَالَ : " ادْنُهْ " ، فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا ، فَقَالَ : " أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ " . قَالَ : " أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ " . قَالَ : " أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ " . قَالَ : " أَتَحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ " . قَالَ : " أَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ ؟ " . قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ . قَالَ : " وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ " . قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ ، وَطَهِّرْ قَلْبَهُ ، وَحَصِّنْ فَرْجَهُ " . قَالَ : فَلَمْ يَكُنْ بَعْدَ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے زنا کرنے کی اجازت دیں ! لوگ اُس کی طرف متوجہ ہوئے اور اُنہوں نے اُسے ڈانٹا اور بولے : رک جاؤ رک جاؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب آ جاؤ ! وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس ( زنا کرنے کو ) اپنی ماں کے لئے پسند کرو گے ؟ ( یعنی کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تمہاری ماں یہ کام کرے ؟ یا اسے اس کی اجازت دیدی جائے ) اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ( یعنی میں یہ پسند نہیں ) کروں گا اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی ماؤں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی بیٹی کے لئے پسند کرو گے ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی بیٹیوں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی بہن کے لئے پسند کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی بہنوں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرو گے ؟ اُس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم اسے ( یعنی زنا کو ) اپنی خالہ کے لئے پسند کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! ( میں پسند نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ بھی اس ( زنا ) کو اپنی خالاؤں کے لیے پسند نہیں کرتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اُس پر رکھا اور دعاء کی : اے اللہ ! اس کے گناہ کی مغفرت کر دے ! اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد ، وہ نوجوان کسی چیز کی طرف التفات نہیں کرتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 256/5 ، 257 اورده المؤلف فى زوائد المسند 201»
حدیث نمبر: 544
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا ; لِكَيْ يُفْهَمَ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بات ارشاد فرماتے تھے ، تو وہ بات ) دو یا تین مرتبہ ارشاد فرماتے تھے ، تاکہ آپ کی بات ( سامعین کو ) سمجھ آ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔