کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص کوئی بات سنے اور اس کی خرابی سمیت اسے بیان کر دے
حدیث نمبر: 536
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ فَيُحَدِّثُ بَشَرِّ مَا يَسْمَعُ ، مَثَلُ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ : يَا رَاعِي ، أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا شَاةٍ ، فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص حکمت کی کوئی بات سنے اور پھر اس نے جو سنا تھا ، اُس میں سے ( صرف ) بری چیز بیان کرے ، اُس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو کسی چرواہے کے پاس آ کر یہ کہتا ہے : اے چرواہے ! اپنی بکریوں میں سے ایک بکری مجھے دے دو ! تو چرواہا یہ کہے : تم جاؤ ! اور اُن میں سے سب سے بہتر بکری کا کان پکڑ لو ، تو وہ شخص جائے اور بکریوں کے ( رکھوالے ) کتے کا کان پکڑ لے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔