کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عالم کے حق کی معرفت کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا ، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” وہ شخص میری امت کا حصہ نہیں ، جو ہمارے بڑے کا احترام نہیں کرتا اور ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا ، اور ہمارے عالم کے حق کی معرفت نہیں رکھتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 532
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 2919»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَسْتَخِفُّ بِهِمْ إِلَّا مُنَافِقٌ : ذُو الشَّيْبَةِ فِي الْإِسْلَامِ ، وَذُو الْعِلْمِ ، وَإِمَامٌ مُقْسِطٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین افراد ایسے ہیں ، جنہیں کوئی منافق ہی کمتر سمجھے گا ، بوڑھا مسلمان ، صاحب علم اور عادل حکمران “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عبیداللہ بن زحر کی علی بن یزید سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7819»
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا ثَلَاثَ خِلَالٍ : أَنْ يَكْثُرَ لَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا فَيَتَحَاسَدُونَ ، [ فَيَقْتَتِلُوا ] وَأَنْ يُفْتَحَ لَهُ الْكِتَابُ يَأْخُذُهُ الْمُؤْمِنُ يَبْتَغِي تَأْوِيلَهُ ، وَلَيْسَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ، وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ، وَمَا يَذَّكَرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ، وَأَنْ يَرَوْا ذَا عِلْمِهِمْ فَيُضَيِّعُونَهُ وَلَا يُبَالُونَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی اُمت کے بارے میں ، صرف تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، یہ کہ اُن کے لئے دنیا زیادہ ہو گی ، تو وہ ایک دوسرے سے حسد رکھیں گے ( اور آپس میں قتل و غارت گری کریں گے ) یہ کہ ان کے لیے کتاب ( کے علم ) کو کھول دیا جائے گا ، اور کوئی مومن اس کی تاویل کی تلاش میں ، اس کا علم حاصل کرے گا ، حالانکہ اس کی تاویل کا علم ، صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اور علمی رسوخ رکھنے والے افراد یہ کہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے ، یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے ، اور اس سے صرف عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ( اور تیسری بات یہ ہے : ) وہ لوگ کسی علم والے شخص کو دیکھیں گے ، تو اُسے ضائع کر دیں گے اور اُس کی پروا نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے محمد بن اسماعیل بن عیاش نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ، حالانکہ اُس نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3442»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَلَّمَ عَبْدًا آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ مَوْلَاهُ ، لَا يَنْبَغِي أَنْ يَخْذُلَهُ وَلَا يَسْتَأْثِرَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ رَزِينٍ اللَّاذِقِيُّ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی بندے کو ، اللہ کی کتاب کی ایک آیت کی تعلیم دیتا ہے ، وہ اُس کا آقا بن جاتا ہے ، اب اُس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اُسے رسوا کرے ، یا اُس کے ساتھ زیادتی کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن رزین لاذقی ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے ن
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام المطبراني فى معجمه الكبير 7528»