مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَعْرِفَةِ حَقِّ الْعَالِمِ . باب: عالم کے حق کی معرفت کا بیان
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا ثَلَاثَ خِلَالٍ : أَنْ يَكْثُرَ لَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا فَيَتَحَاسَدُونَ ، [ فَيَقْتَتِلُوا ] وَأَنْ يُفْتَحَ لَهُ الْكِتَابُ يَأْخُذُهُ الْمُؤْمِنُ يَبْتَغِي تَأْوِيلَهُ ، وَلَيْسَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ، وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ، وَمَا يَذَّكَرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ، وَأَنْ يَرَوْا ذَا عِلْمِهِمْ فَيُضَيِّعُونَهُ وَلَا يُبَالُونَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی اُمت کے بارے میں ، صرف تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، یہ کہ اُن کے لئے دنیا زیادہ ہو گی ، تو وہ ایک دوسرے سے حسد رکھیں گے ( اور آپس میں قتل و غارت گری کریں گے ) یہ کہ ان کے لیے کتاب ( کے علم ) کو کھول دیا جائے گا ، اور کوئی مومن اس کی تاویل کی تلاش میں ، اس کا علم حاصل کرے گا ، حالانکہ اس کی تاویل کا علم ، صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اور علمی رسوخ رکھنے والے افراد یہ کہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے ، یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے ، اور اس سے صرف عقل مند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ( اور تیسری بات یہ ہے : ) وہ لوگ کسی علم والے شخص کو دیکھیں گے ، تو اُسے ضائع کر دیں گے اور اُس کی پروا نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اسے محمد بن اسماعیل بن عیاش نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ، حالانکہ اُس نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔