حدیث نمبر: 529
وَعَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ ، كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٌ مُعْطُوهُ ، قَلِيلٌ سُؤَّالُهُ ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ ، وَكَثِيرٌ سُؤَّالُهُ ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ قِيلَ فِيهِ : يَرْوِي عَنِ الضُّعَفَاءِ ، وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حزام بن حکیم بن حزام ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں دین کا علم رکھنے والے لوگ زیادہ ہیں اور خطاب کرنے والے تھوڑے ہیں ، ایسے لوگ زیادہ ہیں ، جنہیں وہ ( علم ) دیا گیا ہے اور ایسے لوگ کم ہیں جو وہ ( علم ) مانگتے ہیں ، اس زمانے میں عمل ، علم سے بہتر ہے ، عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں علم والے لوگ تھوڑے ہوں گے ، اور خطیب زیادہ ہوں گے ، سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے اور ایسے لوگ کم ہوں گے ، جنہیں وہ ( علم ) دیا گیا ہو ، ایسے وقت میں علم ، عمل سے بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طرائفی ہے اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اس کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے : وہ ضعیف راویوں سے روایات نقل کرتا ہے اور یہ روایت اُس نے صدقہ بن خالد سے نقل کی ہے ، جو صحیح کے رجال میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3111»
حدیث نمبر: 530
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ عُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ ، مَنْ تَرَكَ فِيهِ عُشَيْرَ مَا يَعْلَمُ هَوَى ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقِلُّ عُلَمَاؤُهُ وَيَكْثُرُ خُطَبَاؤُهُ ، مَنْ تَمَسَّكَ فِيهِ بِعُشْرِ مَا يَعْلَمُ نَجَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطیب کم ہیں ، اس زمانہ میں جو شخص اپنے علم کے مطابق سب سے چھوٹا دسواں حصہ بھی چھوڑے گا ، وہ جہنم میں گر جائے گا ، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں علماء تھوڑے ہوں گے اور خطیب زیادہ ہوں گے ، اُس زمانے میں جو شخص اپنے علم کے دسویں حصے کو تھامے رکھے گا ، وہ نجات پا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 155/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 275»
حدیث نمبر: 531
وَعَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ ، كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٌ مُعْطُوهُ قَلِيلٌ سُؤَّالُهُ ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ ، قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٌ سُؤَّالُهُ قَلِيلٌ مُعْطُوهُ ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
حزام بن حکیم ، اپنے چچا کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں علماء زیادہ ہیں اور خطیب کم ہیں ، جن لوگوں کو وہ ( علم ) دیا گیا ، وہ زیادہ ہیں اور اس کو مانگنے والے ( طلب کرنے والے ) کم ہیں ، اس زمانے میں عمل کرنا ، علم سے زیادہ بہتر ہے ، عنقریب ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں علماء کم ہوں گے اور خطیب زیادہ ہوں گے ، اس ( علم ) کو مانگنے والے زیادہ ہوں گے ، اور جنہیں وہ ( علم ) دیا گیا ، وہ کم ہوں گے ، اس زمانے میں علم ، عمل سے بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف اور منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 531
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف