حدیث نمبر: 518
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لُقْمَانَ قَالَ لِابْنِهِ : يَا بُنَيَّ ، عَلَيْكَ بِمُجَالَسَةِ الْعُلَمَاءِ ، وَاسْمَعْ كَلَامَ الْحُكَمَاءِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْقَلْبَ الْمَيِّتَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ كَمَا يُحْيِي الْأَرْضَ الْمَيِّتَةَ بِوَابِلِ الْمَطَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لقمان نے اپنے بیٹے سے یہ کہا: تھا : اے میرے بیٹے ! تم پر لازم ہے کہ علماء کی ہم نشینی اختیار کرو ! اور حکماء ( یعنی عقل مند اور تجربہ کار افراد ) کا کلام سنو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ مردہ دل کو حکمت کے نور کے ذریعے زندگی دیتا ہے ، جس طرح وہ بنجر زمین کو بارش کے ذریعے زندگی دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ، ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ، ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 519
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَالِسُوا الْكُبَرَاءَ ، وَسَائِلُوا الْعُلَمَاءَ ، وَخَالِطُوا الْحُكَمَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقَيْنِ : إِحْدَاهُمَا هَذِهِ ، وَالْأُخْرَى مَوْقُوفَةٌ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَالْمَوْقُوفُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بڑوں کے ساتھ بیٹھو ! علماء سے سوال کرو اور حکماء ( یعنی دانشمند افراد ) سے گھل مل کے رہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ان میں سے ایک روایت یہ ہے ۔ جبکہ دوسری روایت موقوف ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ابومالک نخعی ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، ( ان دونوں روایت میں سے ) موقوف روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو حوالوں سے نقل کی ہے ان میں سے ایک روایت یہ ہے ۔ جبکہ دوسری روایت موقوف ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن حسین ابومالک نخعی ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ، ( ان دونوں روایت میں سے ) موقوف روایت سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 520
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : الْمُتَّقُونَ سَادَةٌ ، وَالْفُقَهَاءُ قَادَةٌ ، وَمُجَالَسَتُهُمْ زِيَادَةٌ . ¤ قُلْتُ : ذِكْرُ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” پرہیز گار لوگ ، سردار ہیں ، فقہاء ( یعنی دین کا علم رکھنے والے افراد ) قیادت کرنے والے ہیں ، اور اُن کی ہم نشینی ( علم اور بھلائی میں ) اضافے کا باعث بنتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بات کا تذکرہ ایک طویل حدیث میں ہوا ہے ، جسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بات کا تذکرہ ایک طویل حدیث میں ہوا ہے ، جسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 521
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " مَجَالِسُ الْعِلْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم جنت کے باغات کے پاس سے گزرو ، تو کچھ کھا پی لیا کرو ! لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! جنت کے باغات سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علم کی محافل “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا
حدیث نمبر: 522
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ ارْحَمْ خُلَفَائِي " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ خُلَفَاؤُكَ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي ، يَرْوُونَ أَحَادِيثِي وَيُعَلِّمُونَهَا النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یعنی دعا کی ) : ” اے اللہ ! تو میرے خلفاء پر رحم فرما ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے خلفاء کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے ، وہ میری احادیث روایت کریں گے اور لوگوں کو اُن کی تعلیم دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عیسیٰ بن عبداللہ ہاشمی ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عیسیٰ بن عبداللہ ہاشمی ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 523
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُلَمَاءُ خُلَفَاءُ الْأَنْبِيَاءِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي السُّنَنِ : " الْعُلَمَاءُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” علماء ، انبیاء کے خلفاء ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” سنن “ میں یہ روایت منقول ہے : ” علماء ، انبیاء کے وارث ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 524
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ نَاسًا مَا هُمْ أَنْبِيَاءُ وَلَا شُهَدَاءُ ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ بِمَنْزِلَتِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ; الَّذِينَ [ يُحِبُّونَ اللَّهَ وَيُحَبِّبُونَهُ إِلَى خَلْقِهِ ، يَأْمُرُونَهُمْ بِطَاعَةِ اللَّهِ ، فَإِذَا أَطَاعُوا اللَّهَ ] أَحَبَّهُمُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سَلَّامٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں ، جو نہ انبیاء ہیں ، اور نہ شہداء ہیں ، لیکن قیامت کے دن ان کے مرتبہ و مقام کے حوالے سے انبیاء اور شہداء اُن پر رشک کریں گے ، یہ وہ لوگ ہیں ، جو اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں اور اُس کی محبت اُس کی مخلوق میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کا حکم دیتے ہیں ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 525
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ سُلَيْمَانَ عَلَى شَطِّ دِجْلَةَ ، فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ ، انْزِلْ فَاشْرَبْ ، فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ : اشْرَبْ ، فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : مَا نَقَصَ شُرْبُكَ مِنْ دِجْلَةَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا نَقَصَ ! قَالَ : فَإِنَّ الْعِلْمَ كَذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَا يَنْقُصُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِطُولِهِ فِي الزُّهْدِ فِي عَيْشِ السَّلَفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
عبس سے تعلق رکھنے والے ، ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سلیمان کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے چلتا ہوا جا رہا تھا ، اُس نے کہا: اے بنوعبس سے تعلق رکھنے والے فرد ! تم اُترو اور پانی پی لو ! میں نے پانی پی لیا ، پھر اس نے کہا: ( مزید ) پانی پی لو ! میں نے پانی پی لیا ، اُس نے دریافت کیا : تمہارے پیے ہوئے پانی نے دریائے دجلہ میں کتنی کمی کی ہے ؟ میں نے جواب دیا : کوئی کمی نہیں کی ہے ، تو اُس نے کہا: ” علم کی مثال بھی اسی طرح ہے ، اُس میں سے جتنا بھی حاصل کر لیا جائے ، اُس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں ، اسلاف کے طریقہ کار سے متعلق باب میں ، طویل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حدیث نمبر: 526
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ ، وَقَبْضُهُ ذَهَابُ أَهْلِهِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ ; فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يَفْتَقِرُ إِلَى مَا عِنْدَهُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ ، وَإِيَّاكُمُ وَالتَّنَطُّعَ وَالتَّعَمُّقَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ ; فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ يَنْبِذُونَهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اے لوگو ! تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ، اس سے پہلے کہ اسے اٹھا لیا جائے اور اس کا اُٹھایا جانا ، یوں ہو گا کہ اہل علم رخصت ہو جائیں گے ، تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ، کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا ، کہ اس کو کب اپنے علم کی ضرورت پیش آ جائے ؟ تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ، لیکن تم باریک بینی اور گہرائی سے بچ کے رہنا اور عتیق کے ساتھ رہنا تم پر لازم ہے ، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ، جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں گے ، لیکن وہ لوگ اُسے پس پشت ڈال دینگے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 527
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْعُلَمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا قَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لِفَصْلِ عِبَادِهِ : إِنِّي لَمْ أَجْعَلْ عِلْمِي وَحِلْمِي فِيكُمْ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْفِرَ لَكُمْ عَلَى مَا كَانَ فِيكُمْ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ علماء سے یہ فرمائیے گا ، اُس وقت جب وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے اپنی کرسی پر بیٹھے گا ( اُس وقت وہ یہ فرمائے گا : ) میں نے اپنا علم اور اپنی بردباری تمہارے اندر صرف اس لیے رکھی تھی کیونکہ میں یہ ارادہ رکھتا تھا کہ میں تمہاری مغفرت کر دوں گا ، خواہ تمہارے اندر جو بھی خامیاں موجود ہوں ، میں ان کی کوئی پروا نہیں کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 528
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يُمَيِّزُ الْعُلَمَاءَ فَيَقُولُ : يَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ ، إِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ عِلْمِي لِأُعَذِّبَكُمْ ، اذْهَبُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ بندوں کو زندہ کرے گا ، پھر علماء کو الگ کر لے گا اور ( ان سے ) فرمائے گا : اے علماء کے گروہ ! میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا تھا کہ میں تمہیں عذاب دوں گا ، تم جاؤ ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔