حدیث نمبر: 515
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ فِي صِغَرِهِ كَالنَّقْشِ عَلَى الْحَجْرِ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ فِي كِبَرِهِ كَالَّذِي يَكْتُبُ عَلَى الْمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الشَّامِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کمسنی میں علم حاصل کرتا ہے ، تو اس کی مثال پتھر پر بنے ہوئے نقش کی مانند ہے ، اور جو شخص بڑی عمر میں علم سیکھتا ہے اُس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ، جو پانی پر لکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم شامی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم اور ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم شامی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم اور ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 516
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا نَاشِئٍ نَشَأَ فِي الْعِلْمِ وَالْعِبَادَةِ حَتَّى يَكْبُرَ أَعْطَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوَابَ اثْنَيْنِ وَتِسْعِينَ صِدِّيقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی نشوونما پانے والا ، علم اور عبادت میں نشوونما پائے ، یہاں تک کہ وہ بڑا ہو جائے ، تو قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اُسے بہتر ( 72 ) صدیقوں کا ثواب عطا کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 517
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ ، وَلَا أُوتِيَ عَالِمٌ عِلْمًا إِلَّا وَهُوَ شَابٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ، وہ ( اُس بعثت کے وقت ) جوان تھے اور جس بھی عالم کو علم دیا گیا ، وہ ( اس وقت ) جوان تھا ( یعنی علم وہ ہے جو جوانی میں حاصل کیا جائے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ توقع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، امام أحمد نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ توقع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، امام أحمد نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔