حدیث نمبر: N1
لا توجد أحاديث تحت هذا الباب.
محمد محی الدین
(اس باب کے تحت حدیث موجود نہیں ہے)
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: N1
حدیث نمبر: 489
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، فَإِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَأَبُو حَفْصٍ صَاحِبُ أَنَسٍ مَجْهُولٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” زمین میں علماء کی مثال وہی ہے ، جو آسمان میں ستاروں کی ہے ، کہ خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ، اُن کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ، اور جب ستارے بجھ ( یعنی چھپ ) جائیں ، تو اس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ ہدایت پانے والے بھی گمراہ ہو جائیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا شاگرد ابوحفص بھی مجہول ہے ، باقی اللہ بہتر
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 157/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 175»
حدیث نمبر: 490
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگ معدن ( یعنی معدنیات والی کان کی طرح ) ہوتے ہیں ، اُن میں جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے ، وہ اسلام میں بھی بہتر شمار ہوں گے ، جبکہ وہ ( دینی تعلیمات کی ) سمجھ بوجھ ( یعنی دین کا علم ) حاصل کر لیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 438/2367 اورده المؤلف فى زوائد المسند 177»
حدیث نمبر: 491
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ رَجُلَانِ : عَالِمٌ وَمُتَعَلِّمٌ ، هُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَا بَيْنَهُمَا مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِي سَنَدِ الْأَوْسَطِ نَهْشَلُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِي الْآخَرِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَهُمَا كَذَّابَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ، عالم اور طالب علم ، یہ دونوں اجر میں برابر ہیں ، ان کے علاوہ ( یعنی دوسرے ) لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم اوسط والی روایت کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید ہے اور دوسری سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور یہ دونوں کذاب ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10461 اخرجه الطبراني فى معجم الاوسط 7575»
حدیث نمبر: 492
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ ، مَلْعُونٌ مَا فِيهَا ، إِلَّا عَالِمٌ ، وَذِكْرُ اللَّهِ وَمَا وَالَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَبْدَةَ إِلَّا أَبُو الْمُطَرِّفِ الْمُغِيرَةُ بْنُ مُطَرِّفٍ . قُلْتُ : لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دنیا ، ملعونہ ہے اور اس میں موجود ہر چیز ملعون ہے ، صرف عالم ، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اُس ذکر کو کرنے والے فرد کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی یہ لوگ ملعون نہیں ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ابن ثوبان کے حوالے سے ، عبدہ سے اس روایت کو صرف ابومطرف مغیرہ بن مطرف نے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 4072»
حدیث نمبر: 493
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَالِمُ وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْخَيْرِ ، وَسَائِرُ النَّاسِ لَا خَيْرَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ ، قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : هَالِكٌ ، لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عالم اور طالب علم بھلائی میں حصہ دار ہوتے ہیں اور باقی سب لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا ہے اور کوئی چیز نہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا ، وَلَا تَغْدُ بَيْنَ ذَلِكَ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَحِبَّ الْعُلَمَاءَ وَلَا تُبْغِضْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : ” تم عالم بنو ! یا طالب علم بنو ! ان کے علاوہ کچھ نہ بننا ، اگر تم یہ بھی نہیں کر سکتے ، تو پھر علماء سے محبت رکھنا اُن سے بغض نہ رکھنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبدالملک بن عمیر نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 495
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا ، وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَةَ فَتَهْلِكَ " - قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ لِي مِسْعَرٌ : زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا - [ قَالَ ] : " وَالْخَامِسَةُ أَنْ تُبْغِضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم عالم بنو ! یا طالب علم بنو ! یا سننے والے بنو ! یا محبت رکھنے والے بنو ! ( ان چار کے علاوہ ) پانچویں فرد نہ بننا ، ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے “ ۔ عطاء بیان کرتے ہیں : مسعر نے مجھ سے کہا: آپ نے ہمیں پانچویں چیز مزید بیان کی ہے ، جو ہمارے پاس نہیں تھی ، اُنہوں نے یہ بیان کیا تھا : پانچویں چیز یہ ہے کہ تم علم اور اہل علم سے بغض رکھو !
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5171 اخرجه الطبراني فى معجم الصغير 9/2 كشف الاستار 134»
حدیث نمبر: 496
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ فَقَالَ : مَا غَدَا بِكَ يَا زِرُّ ؟ قُلْتُ : أَلْتَمِسُ الْعِلْمَ . قَالَ : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا وَلَا تَغْدُ بَيْنَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ . ¤
محمد محی الدین
زربن حبیش بیان کرتے ہیں : میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو اُنہوں نے دریافت کیا : اے زر ! تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے جواب دیا : علم حاصل کرنے کے لیے ، اُنہوں نے فرمایا : تم عالم رہنا ! یا طالب علم رہنا ! ان کے علاوہ کچھ نہ رہنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے ، اُسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور بہت سے لوگوں نے اُسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 19»
حدیث نمبر: 497
وَعَنْ أَبِي الرُّدَيْنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَجْتَمِعُونَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا كَانُوا أَضْيَافًا لِلَّهِ ، وَإِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا أَوْ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ، وَمَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ فِي طَلَبِ عِلْمٍ مَخَافَةَ أَنْ يَمُوتَ ، أَوِ انْتِسَاخُهُ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرَسَ - إِلَّا كَانَ كَالْغَادِي الرَّائِحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ يُبْطِئُ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مُخْتَلِفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوردین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب بھی کچھ لوگ ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حوالے سے اکٹھے ہو کر ، ایک دوسرے کو اُس کی تعلیم دیتے ہیں ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان شمار ہوتے ہیں اور فرشتے اُنہیں ڈھانپ کے رکھتے ہیں ، جب تک وہ اپنی جگہ سے اُٹھتے نہیں ہیں ، یا کسی اور بات چیت میں مشغول نہیں ہوتے ہیں ، جب بھی کوئی شخص علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ علم رخصت نہ ہو جائے ، یا وہ اس علم کو نقل کرتا ہے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ علم مٹ نہ جائے ، تو ایسا شخص اللہ کی راہ میں صبح و شام کرنے والے کی مانند ہوتا ہے اور جس شخص کا عمل اُسے سست کر دے ، اُس کا نسب اُسے تیز نہیں کر سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 498
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فُضِّلَ الْعَالِمُ عَلَى الْعَابِدِ سَبْعِينَ دَرَجَةً ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ حَدِيثًا مُنْكَرًا ، وَهُوَ فِي جُمْلَةِ مَنْ يَكْتُبُ حَدِيثَهُ ، وَلَيْسَ بِمَتْرُوكٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عالم کو عابد پر ستر ( 70 ) درجے فضیلت عطا کی گئی ہے ، جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان ، اتنا فاصلہ ہے ، جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے ( اس سے منقول ) کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ، یہ اُن افراد میں سے ایک ہے ، جن کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، یہ متروک نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 498
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلي فى مسنده 853 مقصد على 104»
حدیث نمبر: 499
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ حَاجٍّ ، تَامًّا حَجَّتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مسجد کی طرف جاتا ہے اور اس کا ارادہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ بھلائی کا علم حاصل کرے گا ، یا اُس کی تعلیم دے گا ، تو اُسے ایسے حاجی کی مانند اجر ملتا ہے ، جس کا حج مکمل ہوا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7473»
حدیث نمبر: 500
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدِي هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ يُعَلِّمَهُ كَانَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَحَادِيثِ النَّاسِ كَانَ بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يَرَى مَا يُعْجِبُهُ ، وَهُوَ شَيْءٌ لِغَيْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَفَّهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يَسْتَنِدُوا فِي ضَعْفِهِ إِلَّا إِلَى أَنَّهُ مَحْدُودٌ ، وَسَمَاعُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص میری اس مسجد میں داخل ہو ، تاکہ وہ بھلائی کا علم حاصل کرے ، یا اُس کی تعلیم دے ، تو ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کے مرتبے میں ہوتا ہے اور جو شخص اس مسجد میں اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے داخل ہو ، یعنی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے آئے ، تو وہ ایسے شخص کے مرتبے میں ہوتا ہے ، جو کسی چیز کو دیکھتا ہے ، اور وہ اسے اچھی لگتی ہے ، لیکن وہ چیز کسی اور کی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید کا سب ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر نے اُسے ضعیف کہا: ہے ، ان حضرات نے اُس کے ضعیف ہونے کی بنیاد اس بات پر رکھی ہے کہ اس پر حد جاری ہوئی تھی ، اس کا سماع صح
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 501
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ : مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِلْمُتَعَلِّمِ وَالْعَالِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ خَلَا ذِكْرَ الْعَالِمِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے ، تو فرشتے اپنے پر طالب علم اور عالم کے لیے بچھا دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے عالم کا ذکر نہیں کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 502
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَأَدْرَكَهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، وَمَنْ طَلَبَ عِلْمًا فَلَمْ يُدْرِكْهُ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ كِفْلًا مِنَ الْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص علم حاصل کرتا ہے اور اُسے پا لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اجر کے دو کفل نوٹ کر لیتا ہے اور جو شخص علم حاصل کرتا ہے ، لیکن اس تک نہیں پہنچ پاتا ، تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے اجر کا ایک کفل نوٹ کر لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 503
وَعَنْ سَخْبَرَةَ قَالَ : مَرَّ رَجُلَانِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَهُوَ يَذْكُرُ ، فَقَالَ : " اجْلِسَا ، فَإِنَّكُمَا عَلَى خَيْرٍ " ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ ، فَقَامَا ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا : اجْلِسَا ، فَإِنَّكُمَا عَلَى خَيْرٍ ، أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ فَقَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَطْلُبُ الْعِلْمَ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةَ مَا تَقَدَّمَ " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ : " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت تشریف فرما تھے ، اور آپ وعظ و نصیحت کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : تم دونوں بیٹھ جاؤ ! تم بھلائی پر ہو ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے اصحاب آپ کے پاس سے چلے گئے ، تو وہ دونوں افراد بھی کھڑے ہوئے ، اور ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہم سے یہ فرمایا تھا : تم دونوں بیٹھ جاؤ ! تم بھلائی پر ہو ! تو کیا یہ حکم ہمارے لئے مخصوص ہے ؟ یا لوگوں کے لئے عمومی ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی بندہ علم حاصل کرتا ہے ، تو یہ چیز ( یعنی علم کا حصول ) اُس کے گذشتہ ( گناہوں کا ) کفارہ بن جاتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے صرف یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص علم حاصل کرتا ہے تو یہ اس کے گذشتہ ( گناہوں کا ) کفارہ بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 504
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَاءَهُ أَجَلَهُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ إِلَّا دَرَجَةُ النُّبُوَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَعْدِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کے پاس موت آ جائے ، اور وہ اُس وقت علم حاصل کر رہا ہو ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس شخص اور انبیاء کرام علیہم السلام کے درمیان صرف نبوت کے درجے کا فرق ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً بوجہ راوی محمد بن الجعد
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 9454»
حدیث نمبر: 505
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ مَرَّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فَوَقَفَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ السُّوقِ ، مَا أَعْجَزَكُمْ ؟ قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : ذَاكَ مِيرَاثُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسَّمُ وَأَنْتُمْ هَاهُنَا ، أَلَا تَذْهَبُونَ فَتَأْخُذُونَ نَصِيبَكُمْ مِنْهُ ؟ قَالُوا : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : فِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجُوا سِرَاعًا وَوَقَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَهُمْ حَتَّى رَجَعُوا ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا لَكُمْ ؟ قَالُوا : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَدْ أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَدَخَلْنَا ، فَلَمْ نَرَ فِيهِ شَيْئًا يُقَسَّمُ ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَمَا رَأَيْتُمْ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا ؟ قَالُوا : بَلَى ، رَأَيْنَا قَوْمًا يُصَلُّونَ ، وَقَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، وَقَوْمًا يَتَذَاكَرُونَ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ ، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَيْحَكُمْ ، فَذَاكَ مِيرَاثُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ کے بازار سے گزر رہے تھے ، وہ ٹھہر گئے ، اور بولے : اے بازار والو ! تم لوگوں کو کس چیز نے عاجز کر دیا ہے ؟ اُن لوگوں نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوہریرہ ! کیا ہوا ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کی میراث تقسیم ہو رہی ہے اور تم لوگ یہاں موجود ہو ، تم لوگ جا کر اپنا حصہ کیوں نہیں وصول کرتے ہو ؟ لوگوں نے دریافت کیا : وہ کہاں ( تقسیم ہو رہی ) ہے ؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : مسجد میں ، تو وہ لوگ جلدی سے چلے گئے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اُن لوگوں کی خاطر وہیں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ وہ لوگ واپس آ گئے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ اُن لوگوں نے جواب دیا : اے سیدنا ابوہریرہ ! ہم لوگ مسجد گئے ، اُس میں داخل ہوئے ، ہمیں اُس میں کوئی چیز تقسیم ہوتی دکھائی نہیں دی ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم نے مسجد میں کسی کو نہیں دیکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یعنی دیکھا ہے ) ہم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، اور کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ حلال اور حرام کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن لوگوں سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، یہی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 1429»
حدیث نمبر: 506
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا نَاشِئٍ نَشَأَ فِي الْعِلْمِ وَالْعِبَادَةِ حَتَّى يَكْبُرَ أَعْطَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوَابَ اثْنَيْنِ وَتِسْعِينَ صِدِّيقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس بھی نشوونما پانے والے ( کمسن فرد ) کی نشوونما ، علم اور عبادت کے دوران ہو ، یہاں تک کہ وہ بڑا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے بہتر ( 72 ) صدیقوں کا ثواب عطا کرے گا “ ۔
یہی روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 506
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً بوجہ یوسف بن عطیہ متروک الحدیث ہے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7589»