حدیث نمبر: 507
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا : لَبَابٌ مِنَ الْعِلْمِ يَتَعَلَّمُهُ الرَّجُلُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَلْفِ رَكْعَةٍ تَطَوُّعًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” علم کا ایک باب ، جس کو آدمی سیکھ لے ، وہ میرے نزدیک ، ایک ہزار نفل رکعات ( ادا کرنے ) سے زیادہ محبوب ہے “ ۔
حدیث نمبر: 508
- وَقَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ الْمَوْتُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَهُوَ عَلَى هَذِهِ الْحَالَةِ مَاتَ وَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ دونوں حضرات ( یعنی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ) روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب کسی طالب علم کو موت آ جائے اور وہ اسی حالت میں ( یعنی علم کے حصول کے دوران ) مر جائے ، تو وہ شہید شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن عبدالرحمن حنفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن عبدالرحمن حنفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 509
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ تَبْسُطُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بے شک طالب علم کے لئے فرشتے اپنے پر بچھا رہتے ہیں اور اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 510
وَعَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے ، ہر چیز ، یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں ، بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 511
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُلَمَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلَانِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا ، فَبَذَلَهُ لِلنَّاسِ ، وَلَمْ يَأْخُذْ عَلَيْهِ طَمَعًا وَلَمْ يَشْتَرِ بِهِ ثَمَنًا ، فَذَلِكَ تَسْتَغْفِرُ لَهُ حِيتَانُ الْبَحْرِ وَدَوَابُّ الْبَرِّ وَالطَّيْرُ فِي جَوِّ السَّمَاءِ ، وَيَقْدَمُ عَلَى اللَّهِ سَيِّدًا شَرِيفًا حَتَّى يُرَافِقَ الْمُرْسَلِينَ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا ، فَبَخِلَ بِهِ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ طَمَعًا ، وَاشْتَرَى بِهِ ثَمَنًا ، فَذَاكَ يُلْجَمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ ، وَيُنَادِي مُنَادٍ : هَذَا الَّذِي آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا فَبَخِلَ بِهِ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ طَمَعًا ، وَاشْتَرَى بِهِ ثَمَنًا ، وَكَذَلِكَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنَ الْحِسَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس امت کے علماء دو افراد ہیں ، ( ایک ) وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اُسے لوگوں پر خرچ کرتا ہو ، وہ اُس حوالے سے کوئی لالچ نہ رکھتا ہو ، اور اس کا کوئی معاوضہ نہ لیتا ہو ، تو اس کے لیے سمندر کی مچھلیاں ، خشکی کے جانور اور فضا میں موجود پرندے دعائے مغفرت کرتے ہیں ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو سردار اور معزز فرد ہونے کے طور پر حاضر ہو گا ، یہاں تک کہ وہ ” مرسلین “ کے ساتھ ہو گا ، اور ( دوسرا ) وہ شخص ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اس علم کے حوالے سے ، اللہ کے بندوں سے بخل سے کام لیتا ہو ، وہ اس کے حوالے سے لالچ رکھتا ہو ، اور اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو ، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی ، اور ایک منادی یہ پکار کر کہے گا : یہ وہ شخص ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا اور اس نے اس علم کے حوالے سے ، اللہ کے بندوں کے ساتھ بخل سے کام لیا ، اس نے اُس کے حوالے سے لالچ کیا اور اُس کا معاوضہ وصول کیا ، یہ اعلان اُس وقت تک ہوتا رہے گا ، جب تک حساب ختم نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ ، امام ابوحاتم اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ ، امام ابوحاتم اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 512
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبِحَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِ الْأَزْدِيِّ فِي مِثْلِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے ، ہر چیز ، یہاں تک کہ سمندروں میں موجود مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، لیکن اس طرح کی صورتحال میں ازدی کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، لیکن اس طرح کی صورتحال میں ازدی کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 513
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ ، حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا ، حَتَّى الْحُوتَ فِي الْبَحْرِ - يُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ ( رحمت نازل کرتا ہے ) اور اُس کے فرشتے ، یہاں تک کہ بل میں موجود چیونٹی اور سمندر میں موجود مچھلی بھی ، لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔