حدیث نمبر: 484
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " أَنْ نَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ تَمِيمٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم دین کی سمجھ بوجھ ( یعنی دین کا علم ) حاصل کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکار بن تمیم ہے اور وہ مجہول
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکار بن تمیم ہے اور وہ مجہول
حدیث نمبر: 485
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 486
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 487
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ فِقْهٍ فِي دِينٍ ، وَلَفَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ، وَلِكُلِّ شَيْءٍ عِمَادٌ ، وَعِمَادُ هَذَا الدِّينِ الْفِقْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کسی بھی ایسی چیز کے ذریعے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کی گئی ، جو دین کی سمجھ بوجھ سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ، ایک عالم ، شیطان کے لئے ، ایک ہزار عبادت گزاروں سے زیادہ سخت ہوتا ہے ، ہر چیز کا کوئی ستون ہوتا ہے ، اور اس دین کا ستون ، سمجھ بوجھ ( یعنی دین کا علم ) ہے “ ۔
حدیث نمبر: 488
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ ، وَأَلْهَمَهُ رُشْدَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ، اور اُسے ہدایت ، الہام کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔