عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَكًا لَوْ قِيلَ لَهُ : الْتَقِمِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ بِلُقْمَةٍ ، لَفَعَلَ ، تَسْبِيحُهُ : سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ وَهْبُ بْنُ رِزْقٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ایسا ہے کہ اگر اُسے یہ کہا: جائے : کہ تم ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ایک لقمے کے طور پر نگل جاؤ ! تو وہ ایسا کر لے گا ، اُس کی تسبیح کے کلمات یہ ہیں : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو جہاں کہیں بھی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : وہب بن رزق نامی راوی اس کو نقل کرنے میں منفرد ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس راوی کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 254
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6442»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ ، رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى ، وَعَلَى قَرْنِهِ الْعَرْشُ ، وَبَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ خَفَقَانُ الطَّيْرِ سَبْعَمِائَةِ سَنَةٍ ، يَقُولُ ذَلِكَ الْمَلَكُ : سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ . قُلْتُ : هُوَ وَأَبُوهُ ضَعِيفَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں میں سے ، رشتے کے بارے میں ، بات چیت کر سکتا ہوں اس فرشتے کے دونوں پاؤں سب سے نیچے والی زمین میں ہیں ، اور اس کے سینگ پر عرش ہے ، اس کے کان کی لو سے ، لے کر گردن تک کے درمیان اتنا فاصلہ ہے ، جتنا فاصلہ کوئی پرندہ سات سو سال میں طے کرتا ہے ، وہ فرشتہ یہ کہتا ہے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو جہاں کہیں بھی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : عبداللہ بن منکدر اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : وہ اور اُس کا باپ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 255
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6503»
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ ، مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ : سَبْعِينَ عَامًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں عرش کو اٹھانے والے ، اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے کسی فرشتے کے بارے میں بیان کروں ، اس فرشتے کی کان کی لو سے لے کر ، اُس کی گردن کے درمیان تک ، ستر برس کی مسافت کا فاصلہ ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے 70 برس کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 256
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 4421 ، 1709»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ قَدْ مَزَقَتْ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ السَّابِعَةَ ، وَالْعَرْشُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ : سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں اس فرشتے کے بارے میں بیان کروں ، جس کے پاؤں ساتویں زمین میں ہیں ، اور عرش اس کے کندھوں پر ہے ، اور وہ یہ کہتا ہے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو جہاں کہیں بھی تھا اور جہاں کہیں ہو گا “۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 257
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 6588»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلْ إِلَى الْأَرْضِ قَبْلَهَا قَطُّ بِرِسَالَةٍ مِنْ رَبِّي ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فَوْقَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَرِجْلَهُ فِي الْأَرْضِ يُقِلُّهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّنِّيسِيُّ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَدُحَيْمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک فرشتہ میرے پاس آیا ، جو اس سے پہلے کبھی زمین کی طرف نازل نہیں ہوا تھا ، وہ میرے پروردگار کا پیغام لایا تھا ، اُس نے اپنا ایک پاؤں آسمان دنیا کے اوپر رکھا اور ایک پاؤں زمین میں رکھا ، کیونکہ زمین اُس کے لئے تھوڑی پڑ رہی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبدالله تنیسی ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، تاہم یحییٰ بن معین اور دحیم نے اُس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 258
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6687»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي السَّمَاءِ مَلَكًا يُقَالُ لَهُ : إِسْمَاعِيلُ ، عَلَى سَبْعِينَ أَلْفِ مَلَكٍ ، كُلٌّ مِنْهُمْ عَلَى سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ ، وَاسْمُهُ عِمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آسمان میں ایک فرشتہ ہے ، جس کا نام ” اسماعیل “ ہے ، وہ ستر ہزار فرشتوں کا نگران ہے ، اور ان ( ستر ہزار فرشتوں ) میں سے ہر ایک ( فرشتہ ، مزید ) ستر ہزار فرشتوں کا نگران ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبارون ہے ، اس کا نام عمارہ بن جوین ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 259
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 70/2»