کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ کی عظمت کا بیان’ وہ ہر عیب سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔
حدیث نمبر: 251
عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَأَلْتُ جِبْرِيلَ : هَلْ تَرَى رَبَّكَ ؟ قَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعِينَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ ، لَوْ رَأَيْتُ أَدْنَاهَا لَاحْتَرَقْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَائِدٌ الْأَعْمَشُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَوْضُوعَةٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يَهِمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے جبرائیل سے دریافت کیا : کیا تم نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میرے اور اس کے درمیان نور کے 70 حجاب ہیں ، اگر میں اُن میں سے ( اپنی طرف والے ) سب سے قریب والے ( حجاب ) کو دیکھ لوں ، تو میں جل جاؤں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں اعمش کو ساتھ لے کر چلنے والا شخص موجود ہے ، امام ابوداؤود فرماتے ہیں : اس سے موضوع احادیث منقول ہیں ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 251
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الاماء الطبراني فى معجم الاوسط 6407»
حدیث نمبر: 252
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دُونَ اللَّهِ سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ وَظُلْمَةٍ ، مَا تَسْمَعُ نَفْسٌ شَيْئًا مِنْ حِسِّ تِلْكَ الْحُجُبِ إِلَّا زَهَقَتْ نَفْسُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَهْلٍ أَيْضًا ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی ذات سے پہلے نور اور ظلمت کے ستر ہزار حجاب ہیں ، جو بھی شخص ان حجابوں میں سے کسی کی آہٹ بھی سنے گا ، اُس کی جان رخصت ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 252
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 5802 اخرجه الامام ابويعليٰ فى مسنده 7487»
حدیث نمبر: 253
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلِ احْتَجَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْ خَلْقِهِ بِشَيْءٍ غَيْرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَلَائِكَةِ الَّذِينَ حَوْلَ الْعَرْشِ سَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ نُورٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ نَارٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ ظُلْمَةٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ رَفَارِفِ الْإِسْتَبْرَقِ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ رَفَارِفِ السُّنْدُسِ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَبْيَضَ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَحْمَرَ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَصْفَرَ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ دُرٍّ أَخْضَرَ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ ضِيَاءٍ اسْتَضَاءَهَا مِنْ ضَوْءِ النَّارِ وَالنُّورِ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ ثَلْجٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ مَاءٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ غَمَامٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ بَرَدٍ ، وَسَبْعُونَ حِجَابًا مِنْ عَظَمَةِ اللَّهِ الَّتِي لَا تُوصَفُ " قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْمَلَكِ الَّذِي يَلِيهِ ؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقْتُ فِيمَا أَخْبَرْتُكَ يَا يَهُودِيُّ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ الْمَلَكَ الَّذِي يَلِيهِ إِسْرَافِيلُ ، ثُمَّ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ مِيكَائِيلُ ، ثُمَّ مَلَكُ الْمَوْتِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ ، كَذَّبَهُ أَحْمَدُ ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ : كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اسے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے آسمانوں اور زمین کے علاوہ ، کسی اور چیز کے ذریعے بھی حجاب کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس کی ذات اور اس کے اردگرد موجود فرشتوں کے درمیان نور کے 70 حجاب ہیں آگ کے 70 حجاب ہیں ، ظلمت کے 70 حجاب ہیں ، استبرق کے رفرف کے 70 حجاب ہیں ، سندس کے رفرف کے 70 حجاب ہیں ۔ سفید قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ، سرخ قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ، زرد قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ، سبز قیمتی پتھر کے 70 حجاب ہیں ، روشنی کے 70 حجاب ہیں ، جس سے آگ اور نور دونوں روشنی حاصل کرتے ہیں ، برف کے 70 حجاب ہیں ، پانی کے 70 حجاب ہیں ، بادل کے 70 حجاب ہیں ، اولوں کے 70 حجاب ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کی عظمت کے 70 حجاب ہیں ، جن کی صفت بیان نہیں کی جا سکتی ہے ، اس شخص نے کہا: آپ مجھے اس فرشتے کے بارے میں بتائیے ! جو اُس کے قریب ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے یہودی ! میں نے تمہیں جو بیان کیا ہے ، کیا میں نے سچ کہا: ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے سب سے زیادہ قریب اسرافیل ہے ، پھر جبرائیل ہے ، پھر میکائیل ہے اور پھر ملک الموت ( یعنی عزرائیل ) ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن ادریس ہے ، جسے امام أحمد نے جھوٹا قرار دیا ہے اور ابن حبان کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 253
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8942»