حدیث نمبر: 255
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ مِنْ حَمَلَةِ الْعَرْشِ ، رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى ، وَعَلَى قَرْنِهِ الْعَرْشُ ، وَبَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَعَاتِقِهِ خَفَقَانُ الطَّيْرِ سَبْعَمِائَةِ سَنَةٍ ، يَقُولُ ذَلِكَ الْمَلَكُ : سُبْحَانَكَ حَيْثُ كُنْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ . قُلْتُ : هُوَ وَأَبُوهُ ضَعِيفَانِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں میں سے ، رشتے کے بارے میں ، بات چیت کر سکتا ہوں اس فرشتے کے دونوں پاؤں سب سے نیچے والی زمین میں ہیں ، اور اس کے سینگ پر عرش ہے ، اس کے کان کی لو سے ، لے کر گردن تک کے درمیان اتنا فاصلہ ہے ، جتنا فاصلہ کوئی پرندہ سات سو سال میں طے کرتا ہے ، وہ فرشتہ یہ کہتا ہے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو جہاں کہیں بھی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : عبداللہ بن منکدر اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : وہ اور اُس کا باپ دونوں ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 255
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6503»