مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْإِسْرَاءِ . باب: واقعہ معراج کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ فَرَكِبْتُهُ ، إِذَا أَتَى عَلَى جَبَلٍ ارْتَفَعَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا هَبَطَ ارْتَفَعَتْ يَدَاهُ ، فَسَارَ بِنَا فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ ، ثُمَّ أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : " قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، كُنَّا نَسِيرُ فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ نَتِنَةٍ ، ثُمَّ إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ ! فَقَالَ : تِلْكَ أَرْضُ النَّارِ ، وَهَذِهِ أَرْضُ الْجَنَّةِ " . - وَقَالَ الْبَزَّارُ أَحْسَبُهُ : " قَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : تِلْكَ أَرْضُ أَهْلِ النَّارِ ، وَهَذِهِ أَرْضُ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ مَعَكَ ؟ قَالَ : أَخُوكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسِرْنَا ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، وَقَالَ : سَلْ لِأُمَّتِكَ التَّيْسِيرَ . قُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قُلْتُ : عَلَى مَنْ كَانَ تَذَمُّرُهُ ؟ قَالَ : عَلَى رَبِّهِ . قُلْتُ : عَلَى رَبِّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَدْ عَرَفَ حِدَّتَهُ . ثُمَّ سِرْنَا فَرَأَيْتُ شَيْئًا . فَقُلْتُ : مَا هَذَا - أَوْ مَا هَذِهِ - يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَجَرَةُ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ ، أَدْنُ مِنْهَا . قُلْتُ : نَعَمْ " ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : " قُلْتُ : أَدْنُو مِنْهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَدَنَوْنَا مِنْهَا ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبُطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَنُشِرَتْ لِيَ الْأَنْبِيَاءُ ، مَنْ سَمَّى اللَّهُ وَمَنْ لَمْ يُسَمِّ ، فَصَلَّيْتُ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : بِهِمْ . ثُمَّ اتَّفَقَا إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ : إِبْرَاهِيمَ ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس براق لایا گیا ، میں اُس پر سوار ہوا ، جب وہ کسی پہاڑ کے پاس آتا تھا ، تو اپنی ٹانگیں بلند کر لیتا تھا اور جب وہ نیچے کی طرف چلتا تھا ، تو اپنے ہاتھ بلند کر لیتا تھا ، وہ ہمیں لے کر چلتا ہوا ایک بدبودار جگہ کے پاس آیا ، پھر ہم ایک کشادہ اور پاکیزہ جگہ کی طرف آئے ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! پہلے ہم ایک بدبودار جگہ کے پاس سے گزر رہے تھے ، پھر ہم ایک خوشبودار جگہ کی طرف آ گئے ، تو انہوں نے بتایا : وہ جہنم کی زمین تھی اور یہ جنت کی زمین ہے ۔ امام بزار فرماتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : جبرائیل نے کہا: وہ اہل جہنم کی سرزمین تھی اور یہ اہل جنت کی سرزمین ہے ۔ پھر میں ایک صاحب کے پاس آیا جو کھڑے ہوئے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، تو انہوں نے خوش آمدید کہتے ہوئے ، میرے لئے برکت کی دعا کی ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں ، پھر ہم روانہ ہوئے ، میں نے ایک آواز سنی ( جس میں کچھ تیزی تھی ) پھر ہم ایک صاحب کے پاس آئے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ تمہارے ساتھ کون ہیں ؟ جبرائیل نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، تو انہوں نے سلام کیا اور میرے لئے برکت کی دعا کی اور یہ کہا: آپ اپنی امت کے لئے آسانی مانگیے گا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں میں نے دریافت کیا : یہ تیز لہجے میں کس کے ساتھ بات کر رہے تھے ؟ انہوں نے بتایا : اپنے پروردگار کے ساتھ ، میں نے دریافت کیا : اپنے پروردگار کے ساتھ ؟ انہوں نے بتایا : جی ہاں ! وہ ( یعنی اُن کا پروردگار ) ان کے مزاج کی تیزی کے بارے میں جانتا ہے ، پھر ہم چلتے رہے ، میں نے ایک چیز دیکھ کر دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ اے جبرائیل ! ۔ یہاں ایک لفظ میں راوی کو شک ہے ۔ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ کے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا درخت ہے ، آپ اس کے قریب ہو جائیں ! میں نے کہا: ٹھیک ہے ۔
یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں نے دریافت کیا : کیا میں اس کے قریب ہو جاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو ہم اُس درخت کے قریب ہو گئے ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ( مجھے ) خوش آمدید کہا: اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، پھر ہم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس آ گئے ، میں نے اپنا جانور اس حلقے کے ساتھ باندھا ، جس کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام ( اپنے جانوروں کو ) باندھا کرتے تھے ، پھر ہم مسجد میں داخل ہوئے ، تو میرے سامنے تمام انبیاء کرام لائے گئے ، وہ بھی جن کا نام اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے ، اور وہ بھی جن کا نام بیان نہیں کیا ہے ، تو میں نے نماز ادا کی ۔ یہاں امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : میں نے انہیں نماز پڑھائی ، پھر وہ دونوں راوی متفق ہیں ، البتہ ان تین حضرات کا معاملہ مختلف ہے ، یعنی سیدنا ابراہیم ، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام ۔
یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔