مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا سَمِعْنَا مُنَاشِدًا يَنْشُدُ حَقًّا لَهُ أَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ مَا وَعَدْتَنِي ، إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدْ " . ثُمَّ الْتَفَتُّ كَأَنَّ وَجْهَهُ الْقَمَرُ ، فَقَالَ : " كَأَنِّي إِلَى مَصَارِعِ الْقَوْمِ عَشِيَّةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے کبھی بھی کسی شخص کی ایسی گریہ وزاری نہیں سنی ، جو کسی نے اپنے حق کے لئے کی ہو ، جیسی گریہ وزاری غزوہ بدر کے موقع پر ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ، آپ یہ فرما رہے تھے : ” اے اللہ ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ، میں تجھے اس کا واسطہ دیتا ہوں ، اگر اس گروہ کو تو نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی “ پھر آپ نے مڑ کر دیکھا تو آپ کا چہرہ چاند کی مانند تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں گویا اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ ( اگلے دن ) شام کے وقت دشمن کے مرنے کی جگہ کون سی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے ، اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔