حدیث نمبر: 9977
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَنِي بَدْرًا ، وَأَنْ يُغْنِمَنِي عَسْكَرُهُمْ ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ فَلَمَّا تَوَاقَفُوا قَذَفَ اللَّهُ فِي قُلُوبِ الْمُشْرِكِينَ الرُّعْبَ ، فَلَمَّا اقْتَتَلُوا هَزَمَهُمُ اللَّهُ ، فَاتَّبَعَهُمْ سُرْعَانُ النَّاسِ فَقَتَلُوا سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نکلنے لگے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بدر کا وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ اُن کے لشکر کو مجھے غنیمت کے طور پر عطا کرے گا ، تو جو شخص کسی دشمن کو قتل کرے گا اسے مال غنیمت میں سے یہ ، یہ کچھ ملے گا ، اگر اللہ نے چاہا اور جو شخص کسی کو قیدی بنا لے گا ، تو اسے مال غنیمت میں سے یہ ، یہ کچھ ملے گا اگر اللہ نے چاہا “ ۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ، تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور جب جنگ شروع ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پسپا کر دیا ، تو جلد باز لوگ ان کے پیچھے گئے ، مسلمانوں نے ستر افراد کو قتل کیا اور ستر افراد کو قیدی بنایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12675)»