مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَجَمَّعَ النَّاسُ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْهِ ، فَنَظَرْتُ إِلَى قِطْعَةٍ مِنْ دِرْعِهِ قَدِ انْقَطَعَتْ مِنْ تَحْتِ إِبِطِهِ فَأَطْعَنُهُ بِالسَّيْفِ طَعْنَةً ، وَرُمِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَهْمٍ فَفُقِئَتْ عَيْنِي ، وَبَصَقَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لِي فِيهَا فَمَا آذَانِي شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ، لوگ امیہ بن خلف کے پاس اکٹھے ہوئے ، ہم اس کے پاس آئے میں نے اس کی زرہ کا ایک ٹکڑا دیکھا ، جو اس کی بغل کے نیچے سے ٹوٹ گیا تھا ، میں نے تلوار کے ذریعے اسے چبھویا ، مجھے غزوہ بدر کے دن ایک تیر بھی لگا تھا ، جس نے میری آنکھ کو خراب کر دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس آنکھ میں لعاب دہن ڈالا تھا ، اور اس آنکھ کے بارے میں میرے لئے دعا کی تھی ، تو اس کے بعد ( اس آنکھ میں ) مجھے کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔