حدیث نمبر: 9974
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : هَوْذَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : يَا هَوْذَةُ ، هَلْ شَهِدْتَ بَدْرًا ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، عَلَيَّ لَا لِي قَالَ : فَكَمْ أَتَى عَلَيْكَ ؟ قَالَ : أَنَا يَوْمَئِذٍ قُمُدٌّ قُمْدُودٌ ، مِثْلُ الصَّفَاةِ وَالْجُلْمُودِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَقَدْ صَفُّوا لَنَا صَفًّا طَوِيلًا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سُيُوفِهِمْ كَشُعَاعِ الشَّمْسِ مِنْ خِلَالِ السَّحَابِ ، فَمَا اسْتَفَقْتُ حَتَّى غَشِيَتْنَا غَادِيَةُ الْقَوْمِ فِي أَوَائِلِهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْثًا عَبْقَرِيًّا يَقْرِي الْغُرَبَاءَ وَهُوَ يَقُولُ : لَنْ يَأْكُلُوا التَّمْرَ بِبَطْنِ مَكَّةَ ، يَتْبَعُهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي صَدْرِهِ رِيشَةٌ بَيْضَاءُ قَدْ أُعْلِمَ بِهَا كَأَنَّهُ جَمَلٌ يُحَطِّمُ بِنَاءً فَرَغْتُ عَنْهُمَا وَأَحَالَا عَلَى حَنْظَلَةَ - يَعْنِي أَخَا مُعَاوِيَةَ - فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ ، وَلَا كُفْرَانَ لِلَّهِ زَلَّةً ، فَلَيْتَ شِعْرِي مَتَى أَرَحْتَ يَا هَوْذَةُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا أَرَحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْهَضَبَاتِ مِنْ أَرْبَدَ ، فَقُلْتُ : لَيْتَ شِعْرِي مَا فَعَلَ حَنْظَلَةُ ؟ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَنْتَ بِذِكْرِكَ حَنْظَلَةَ كَذِكْرِ الْغَنِيِّ أَخَاهُ الْفَقِيرَ لَا يَكَادُ يَذْكُرُهُ إِلَّا وَاسِنًا أَوْ مُتَوَاسِنًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ، جس کا نام ہوذہ تھا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے ہوذہ ! کیا تم بدر میں شریک ہوئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! اے امیر المؤمنین ! اور یہ بات میرے خلاف جاتی ہے میرے حق میں نہیں جاتی ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس وقت تمہاری عمر کتنی تھی ؟ اس نے بتایا : میں ان دنوں طاقتور اور مضبوط شخص تھا ، جیسے بڑا چٹیل پتھر ہوتا ہے ، میں گویا اس وقت بھی ان لوگوں کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے ہمارے سامنے ایک طویل صف بنا لی تھی اور میں ان لوگوں کی تلوار کی چمک کی طرف گویا ابھی بھی دیکھ رہا ہوں ، جو بادلوں کے درمیان میں سے سورج کی شعاع کی مانند تھی ، اسی دوران کچھ لوگ ہمارے سامنے آئے ، جو ہر اول دستے سے تعلق رکھتے تھے ان میں ایک سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے ، جو ایک چیتے کی مانند تھے ، وہ یہ کہہ رہے تھے : اب یہ لوگ مکہ کی کھجوریں نہیں کھائیں گے ، اب یہ لوگ مکہ کی کھجوریں نہیں کھائیں گے ( یعنی یہاں سے زندہ واپس نہیں جائیں گے ) ، ان کے پیچھے حمزہ بن عبدالمطلب تھے ، جن کے سینے پر سفید پر لگا ہوا تھا ، اور میں ان کے بارے میں یہ بات جانتا تھا کہ وہ ایک اونٹ کی مانند ہیں ، جو عمارت کو توڑ دیتا ہے ، میں ان دونوں کے آگے سے ہٹ گیا اور ان کو حنظلہ کے لیے چھوڑ دیا ، یعنی جو سیدنا معاویہ کا بھائی تھا ، حضت معاویہ نے اس ( یعنی ہوزہ ) سے کہا: اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو ، اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں ہونی چاہیئے ، کاش مجھے یہ پتہ چل جاتا کہ اے ہوذہ تمہیں کب راحت نصیب ہوئی ، اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! مجھے اس وقت تک اطمینان نصیب نہیں ہوا جب تک میں نے اربد کے ٹیلے نہیں دیکھ لیے ، پھر میں نے سوچا ارے افسوس ! حنظلہ کا کیا بنا ہو گا ؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم حنظلہ کا ذکر یوں کر رہے ہو جس طرح کوئی خوشحال شخص اپنے غریب بھائی کا ذکر کرتا ہے ، وہ بیداری یا اونگھ ( ہر حال ) میں اس کا ذکر کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رحمت بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2955)»