حدیث نمبر: 9973
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا سَائِرٌ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي ، يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي ، يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي ، فَلَا أَدْرِي عَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ ؟ وَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ ، فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ فَعَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " أَوَقَدْ رَأَيْتَهُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں بدر کے پاس سے گزر رہا تھا ، ایک گڑھے میں سے ایک شخص نکلا ، اس کے گلے میں زنجیر تھی ، اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! مجھے پلاؤ ، اے عبداللہ ! مجھے کچھ پلاؤ ، اے عبداللہ ! مجھے کچھ پلاؤ ، ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ) مجھے نہیں معلوم کہ اُسے میرا نام پتہ تھا ، یا اس نے عربوں کے رواج کے مطابق ” اے اللہ کے بندے “ کہہ کر مجھے بلایا تھا ، پھر اس گڑھے میں سے ایک اور شخص نکلا اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی ۔ اس نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندے ! تم اسے نہ پلانا ، کیونکہ یہ کافر ہے ، پھر اس نے اسے لاٹھی ماری ( یا کوڑا مارا ) تو وہ شخص گڑھے کی طرف واپس چلا گیا ، میں تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اللہ کا دشمن ابوجہل تھا ، اور یہ اس کا عذاب ہے ، جو قیامت تک ہوتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف