حدیث نمبر: 9972
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَمَّا جِيءَ بِأَبِي جَهْلٍ يُجَرُّ إِلَى الْقَلِيبِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ أَبُو طَالِبٍ حَيًّا لَعَلِمَ أَنَّ أَسْيَافَنَا قَدِ الْتَبَسَتْ بِالْأَنَامِلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِيهِ : وَكَذَلِكَ يَقُولُ أَبُو طَالِبٍ : ¤ كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللَّهِ إِنْ جَدَّ مَا أَرَى لَتَلْتَبِسَنَّ أَسْيَافُنَا بِالْأَنَامِلِ وَيَنْهَضُ قَوْمٌ فِي الدُّرُوعِ إِلَيْكُمُ ¤ نُهُوضَ الرَّوَايَا فِي طَرِيقٍ حَلَاحِلِ قَالَ ابْنُ مَنَاذِرَ : هُمَا سَوَاءٌ يَقُولُونَ : حُلَاحِلُ وَجُلَاجِلُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابوجہل کو کھینچ کر گڑھے کی طرف لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ یہ جان لیتے کہ ہماری تلواروں نے ” اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ یہ جان لیتے کہ ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپکی رہی ہیں ( یعنی ہمارے ہاتھوں سے چھوٹی نہیں ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جناب ابوطالب نے یہ کہا: تھا : ” تم نے غلط کہا: ہے ، بیت اللہ کی قسم ، اگر وہ صورتحال درپیش ہوئی جو مجھے نظر آ رہی ہے ، تو ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپک جائیں گی ، اور ( ہمارے ) لوگ زرہیں پہن کر تمہاری طرف یوں آئیں گے جس طرح حلاصل کے راستے میں پانی والے اونٹ آتے ہیں “ ابن مناذر بیان کرتے ہیں : یہ دونوں برابر ہیں ، لوگوں نے لفظ ” حلاحل “ بھی نقل کیا ہے اور ” جلاجل “ بھی نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9972
درجۂ حدیث محدثین: حيان بن علي وهو ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1776) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10312)»