مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ : إِنَّ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّكُمْ إِنْ لَمْ تُطِيعُوهُ كَانَ لَهُ مِنْكُمْ ذَبْحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ ، وَأَنْتَ مِنْ ذَلِكَ الذَّبْحِ " . فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ يَوْمَ بَدْرٍ مَقْتُولًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ قَدْ أَنْجَزْتَ لِي مَا وَعَدْتَنِي " . ¤ فَوَجَّهَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الْأَسَدِ قِبَلَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : أَنْتَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : أَنْتَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : لَوْ شَاءَ لَجَعَلَكَ فِي كَفِّهِ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَتَلْتُهُ وَجَرَّدْتُهُ . ¤ قَالَ : فَمَا عَلَامَتُهُ ؟ قَالَ : شَامَةٌ سَوْدَاءُ بِبَطْنِ فَخِذِهِ الْيَمِينِ ، فَعَرَفَ أَبُو سَلَمَةَ النَّعْتَ ، وَقَالَ : جَرَّدْتَهُ وَلَمْ تُجَرِّدْ قُرَشِيًّا غَيْرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوجہل بن ہشام نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا یہ کہنا ہے کہ اگر تم لوگ ان کی اطاعت نہیں کرو گے ، تو وہ تمہیں ذبح کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ بات کہی ہے اور تم بھی اُن ذبح ہونے والوں میں شامل ہو گے ، غزوہ بدر کے دن ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مقتول دیکھا تو یہ فرمایا : اے اللہ ! تو نے جو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کو ابوجہل کی طرف بھیجا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے اسے قتل کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کیا تھا ، سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اسے قتل کیا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں ، تو اسے اپنی ہتھیلی میں رکھ لیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے قتل کیا تھا ، اور میں نے اس کا اوپری لباس اتار لیا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اس کی نشانی کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : اس کے دائیں زانوں کے درمیان میں سیاہ رنگ کا تل ہے ، تو سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس نشانی کو پہچان لیا اور فرمایا : آپ نے اس کا اوپری لباس اتار لیا تھا آپ نے اس کے علاوہ کسی قریشی کا لباس نہیں اتارا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔