حدیث نمبر: 9959
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ قُلْتُ : أَيُّ جَمْعٍ هَذَا ؟ فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِيَدِهِ السَّيْفُ مُصْلِتًا ، وَهُوَ يَقُولُ : " سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ ۔ تو میں نے سوچا : اس سے مراد کون سا جتھہ ہو سکتا ہے ؟ جب غزوہ بدر آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ میں تلوار لہرائی ہوئی تھی اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی انصاری ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف