حدیث نمبر: 9961
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ وَهُوَ صَرِيعٌ ، وَهُوَ يَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ بِسَيْفٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، فَقَالَ : هَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ بِسَيْفٍ لِي غَيْرَ طَائِلٍ ، فَأَصَبْتُ يَدَهُ فَبُدِرَ سَيْفُهُ فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ حَتَّى قَتَلْتُهُ . ¤ قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا أَفَلَ مِنَ الْأَرْضِ ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ؟ " . فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا قَالَ : فَقُلْتُ : اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . قَالَ : فَخَرَجَ يَمْشِي مَعِي حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس آیا اس کے پاؤں پر ضرب لگی تھی ، اور وہ زخمی پڑا ہوا تھا ، وہ اپنی تلوار کے ذریعے لوگوں کو خود سے پرے کر رہا تھا ، میں نے کہا: ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تجھے رسوائی کا شکار کیا ، اے اللہ کے دشمن ! اس نے کہا: میں صرف ایک شخص ہوں ، جس کی قوم نے اسے قتل کر دیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنی تلوار اسے چبھونا چاہی جو زیادہ بڑی نہیں تھی ، وہ تلوار اس کے ہاتھ پر لگی تو اس کی تلوار گر گئی ، پھر میں نے اسے پکڑا اور اسے ضرب لگائی ، یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا ، پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں خوشی کے عالم میں تیزی سے جا رہا تھا ، میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اُس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ ( یہ اطلاع درست ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا ، تو میں نے عرض کی : اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ خبر درست ہے ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور اس کی لاش کے پاس ٹھہرے اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ کے دشمن ! ہر طرح کی حمد ، اس اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تجھے رسوائی کا شکار کیا ، ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ اس امت کا فرعون ہے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1775) اخرجه احمد فى المسند (3824 و 3856 و 4246 و 4247)»