حدیث نمبر: 9958
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ بِمَكَّةَ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ جَمْعٍ ؟ وَذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، وَانْهَزَمَتْ قُرَيْشٌ نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ مُصْلِتًا بِالسَّيْفِ ، يَقُولُ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ وَكَانَتْ يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ : حَتَّى إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمْ بِالْعَذَابِ الْآيَةَ . وَأَنْزَلَ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا الْآيَةَ . وَرَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَسِعَتْهُمُ الرَّمْيَةُ ، وَمَلَأَتْ أَعْيُنَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُقْبِلُ وَهُوَ يَقْذِي عَيْنَيْهِ وَفَاهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِبْلِيسَ : فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ . ¤ وَقَالَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَنَاسٌ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ : غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مکہ میں اپنے نبی پر یہ آیت نازل کی : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جمع سے مراد کیا ہے ؟ یہ غزوہ بدر سے پہلے کی بات ہے اور جب غزوہ بدر ہو گیا اور قریش پسپا ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے آثار کو دیکھا ، آپ نے تلوار لہرائی ہوئی تھی اور آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ جب غزوہ بدر ہو گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” یہاں تک کہ ہم نے اُن کے خوشحال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لے لیا “ ۔ اور یہ آیت نازل کی : ” کیا تم نے ان کی طرف نہیں دیکھا جنہوں نے ، اللہ کی نعمت ( یعنی ایمان ) کو کفر میں تبدیل کر دیا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف مٹی پھینکی اور وہ ان سب تک پہنچ گئی ، اس مٹی نے ان کی آنکھوں اور مونہوں کو بھر دیا ، یہاں تک کہ ایک شخص آتا تھا ، اور وہ اپنی آنکھوں اور منہ سے مٹی صاف کر رہا ہوتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب تم نے مٹی پھینکی ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی ، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی “ ۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جب دونوں افواج ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئیں تو وہ ایڑیوں کے بل پلٹ گیا اور بولا: میں تم سے بری الذمہ ہوں ، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو ، میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے “ ۔ غزوہ بدر کے دن ، عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھ مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ان کے دین نے انہیں دھوکے کا شکار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ، انہوں نے یہ کہا: ان کے دین نے انہیں دھوکے کا شکار کیا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف