مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ عَلَى قَلِيبٍ يَوْمَ بَدْرٍ أَمِيحُ وَأَمْتَحُ مِنْهُ ، فَجَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَلَمْ أَرَ رِيحًا أَشَدَّ مِنْهَا إِلَّا الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَكَانَتِ الْأُولَى مِيكَائِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالثَّانِيَةُ إِسْرَافِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالثَّالِثَةُ جِبْرِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ . ¤ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَلَمَّا هَزَمَ اللَّهُ الْكَفَّارَ حَمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَيْتُ عَلَيْهِ حَمَلَ بِي فَصِرْتُ عَلَى عُنُقِهِ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَثَبَّتَنِي عَلَيْهِ ، فَطَعَنْتُ بِرُمْحِي حَتَّى بَلَغَ الدَّمُ إِبِطِي . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں غزوہ بدر کے موقع پر اس گڑھے کے پاس موجود تھا ، اور کنویں میں سے پانی نکال رہا تھا ، اسی دوران ایک تیز ہوا آئی پھر ایک اور تیز ہوا آئی ، میں نے اس جیسی تیز ہوا نہیں دیکھی تھی ، البتہ اس سے جو پہلے آئی تھی وہ زیادہ تیز تھی ، پھر ایک اور تیز ہوا آئی ، تو پہلی مرتبہ میں سیدنا میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کر آئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے تھے ، دوسری مرتبہ میں سیدنا اسرافیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کے آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ، تیسری مرتبہ میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کر آئے تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو پسپا کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کروایا ، جب میں اس پر بیٹھ گیا تو میں نے اس کی گردن کو تھپتھپایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی : تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس پر جم کے بٹھا دیا ، اسی دوران مجھے نیزے سے زخم لگ گیا ، یہاں تک کہ خون میری بغلوں تک پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔