حدیث نمبر: 9956
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : لَمَّا رَأَى إِبْلِيسُ مَا تَفْعَلُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمُشْرِكِينَ أَشْفَقَ أَنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ ، فَتَشَبَّثَ بِهِ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ ، فَوَكَزَ فِي صَدْرِ الْحَارِثِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ خَرَجَ هَارِبًا حَتَّى أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَظْرَتَكَ إِيَّايَ ، وَخَافَ أَنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ . ¤ فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ النَّاسِ ، لَا يَهْزِمَنَّكُمْ خِذْلَانُ سُرَاقَةَ إِيَّاكُمْ ; فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى مِيعَادٍ مِنْ مُحَمَّدٍ ، لَا يَهُولَنَّكُمْ قَتْلُ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَّلُوا ، فَوَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا نَرْجِعُ حَتَّى نُقْرِنَهُمْ بِالْحِبَالِ . ¤ فَلَا أَلْقَيَنَّ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ ، وَلَكِنْ خُذُوهُمْ أَخْذًا حَتَّى تُعَرِّفُوهُمْ سُوءَ صَنِيعِهِمْ مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ إِيَّاكُمْ ، وَرَغْبَتِهِمْ عَنِ اللَّاتِ وَالْعُزَّى . ثُمَّ قَالَ أَبُو جَهْلٍ مُتَمَثِّلًا : ¤ مَا تَنْقِمُ الْحَرْبُ الشَّمُوسُ مِنِّي بَازِلٌ عَامَيْنِ حَدِيثٌ سِنِّي لِمِثْلِ هَذَا وَلَدَتْنِي أُمِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رفاعہ بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ابلیس نے وہ چیز دیکھی ، جو فرشتوں نے مشرکین کے ساتھ کی تھی ، تو وہ ڈر گیا کہ کہیں قتل اس کی طرف نہ آ جائے ، حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا وہ یہ سمجھے کہ وہ سراقہ بن مالک ہے ، اس نے حارث کے سینے پر مکا لگایا اور انہیں ایک طرف پھینکا اور پھر ڈر کے بھاگا یہاں تک کہ سمندر میں گر گیا ، پھر اس نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور بولا: اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے مہلت دے ، اُسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بھی قتل نہ ہو جائے ، پھر ابوجہل آیا اور بولا: اے لوگو ! سراقہ کا تمہیں رسوا کرنا تمہیں پسپا نہ کرے ، کیونکہ اس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ایک وعدہ کیا ہوا ہے ، اور عتبہ اور شیبہ ، جو ربیعہ کے بیٹے ہیں ، ان کا قتل تمہیں ہولناکی کا شکار نہ کرے ، کیونکہ ان لوگوں نے عجلت کا مظاہرہ کیا تھا ، لات اور عزیٰ کی قسم ، ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ان لوگوں کو رسیوں میں جکڑ نہیں دیتے ، اور میں ایسے کسی شخص کو ہرگز نہ پاؤں کہ اس نے ان لوگوں میں کسی کو قتل کر دیا ہو ، بلکہ تم لوگ انہیں پکڑو ، یہاں تک کہ تم انہیں ان کے برے طرز عمل سے واقف کرواؤ کہ جو انہوں نے تم سے علیحدگی اختیار کی تھی اور لات اور عزیٰ سے منہ موڑ دیا تھا ۔ پھر ابوجہل نے مثال کے طور پر یہ اشعار پڑھے : ” مسلسل جاری رہنے والی جنگ کو مجھ پر یہی غصہ ہے ، کہ میں نوجوان فرد ہوں اور میری عمر کم ہے ، اسی طرح کی صورتحال کے لیے میری ماں نے مجھے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9956
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4550)»