مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ الْمُسْلِمُونَ بَدْرًا ، وَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، فَقَالَ : " إِنْ يَكُنْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ خَيْرٌ فَهُوَ عِنْدَ صَاحِبِ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ، إِنْ يُطِيعُوهُ يَرْشُدُوا " . ¤ وَهُوَ يَقُولُ : يَا قَوْمِ ، أَطِيعُونِي فِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ ; فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَنْ يَزَالَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ يَنْظُرُ كُلُّ رَجُلٍ إِلَى قَاتِلِ أَخِيهِ وَقَاتِلِ أَبِيهِ ، فَاجْعَلُوا جَنْبَهَا بِرَأْسِي وَارْجِعُوا ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : انْتَفَخَ وَاللَّهِ سَحْرُهُ حِينَ رَأَى مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ، إِنَّمَا مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ كَأَكْلَةِ جَزُورٍ لَوْ قَدِ الْتَقَيْنَا . ¤ فَقَالَ عُتْبَةَ : سَتَعْلَمُ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِهِ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى قَوْمًا يَضْرِبُونَكُمْ ضَرْبًا أَمَا تَرَوْنَ كَأَنَّ رُءُوسَهُمُ الْأَفَاعِي ، وَكَأَنَّ وُجُوهَهُمُ السُّيُوفُ ، ثُمَّ دَعَا أَخَاهُ وَابْنَهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَهُمَا ، وَدَعَا بِالْمُبَارَزَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب مسلمان بدر پہنچے اور مشرکین بھی آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کی طرف دیکھا جو ایک سرخ اونٹ پر سوار تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں میں سے ، اگر کسی کے پاس بھلائی ہو سکتی ہے ، تو وہ سرخ اونٹوں والے اس شخص کے پاس ہو سکتی ہے ، اگر وہ لوگ اس کی بات مان جائیں گے تو وہ ہدایت حاصل کر لیں گے ، عتبہ یہ کہہ رہا تھا : اے میری قوم ! تم میری بات مان جاؤ ، جو ان لوگوں کے بارے میں ہے ، اگر تم ایسا کر لیتے ہو ، تو ہمیشہ تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی رہے گی ، تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے کسی بھائی کے قاتل ، اپنے باپ کے قاتل کی طرف دیکھنا پڑے گا ، تو تم اس کا معاملہ میرے سر رکھ دو اور واپس چلو ! ابوجہل نے کہا: اللہ کی قسم ! جب سے اس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کو دیکھا ہے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھی اونٹ کی مانند ہیں ، اگر ہم ان کے ساتھ مقابلہ کریں گے ، تو یہی مناسب ہو گا ، عتبہ نے کہا: تم عنقریب جان لو گے کہ کون بزدل ہے اور اپنی قوم کو خراب کرنے والا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ تم پر بھرپور ضرب لگائیں گے ، کیا تم نے یہ چیز نہیں دیکھی کہ ان کے سر ، افعی ( سانپوں ) کی طرح ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہیں ، پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان دونوں کے درمیان چلتا ہوا نکلا اور مبارزت کے لئے پکارا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔