حدیث نمبر: 9953
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا ، فَاجْتَوَيْنَاهَا ، فَأَصَابَنَا بِهَا وَعَكٌ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ - وَبَدْرٌ بِئْرٌ - فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا ، فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ ، وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ ، وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ ، فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ : كَمِ الْقَوْمُ ؟ فَيَقُولُ : هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَمِ الْقَوْمُ ؟ " . فَقَالَ : هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ . فَجَهَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُخْبِرَهُ فَأَبَى ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ : " كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ ؟ " . قَالَ : عَشْرٌ لِكُلِّ يَوْمٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقَوْمُ أَلْفٌ ، كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَنَيِّفِهَا " . ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ ; فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو رَبَّهُ وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ " . قَالَ : فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى : " الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ " . فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَضَّ عَلَى الْقِتَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلْعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ " . فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ وَصَافَّنَاهُمْ إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، نَادِ لِي حَمْزَةَ " . وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : " مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ؟ وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ ؟ " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ " . فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ : هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ وَيَقُولُ لَهُمْ : يَا قَوْمِ ، إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ ، يَا قَوْمِ ، اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي وَقُولُوا : جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ . ¤ فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ ؟ وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ لَأَعْضَضْتُهُ ، قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا ، فَقَالَ عُتْبَةُ : إِيَّايَ تَعْنِي يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ ، سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ ؟ قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَةُ ، وَأَخُوهُ شَيْبَةُ ، وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً ، فَقَالُوا : مَنْ يُبَارِزُ ؟ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ ، فَقَالَ عُتْبَةُ : لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ ، وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ يَا عَلِيُّ ، وَقُمْ يَا حَمْزَةُ ، وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ " . فَقَتَلَ اللَّهُ شَيْبَةَ وَعُتْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ ، وَخَرَجَ عُبَيْدَةُ ، فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ . ¤ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي ، أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أَرَاهُ فِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اسْكُتْ فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ " . ¤ قَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وَعَقِيلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ بْنِ مَضْرِبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم مدینہ منورہ آئے اور ہم نے وہاں کے پھل استعمال کیے تو وہ ہماری طبیعت کے موافق نہیں آئے اور ہمیں بخار ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے بارے میں خبر گیری کرتے رہتے تھے ، جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین آ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے ، بدر ایک کنواں ہے ، مشرکین ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے ، ہم نے وہاں پر ان میں سے دو آدمیوں کو پایا ، ایک شخص کا تعلق قریش سے تھا ، اور ایک عقبہ بن ابومعیط کا غلام تھا ، جہاں تک قریشی شخص کا تعلق تھا ، وہ تو بھاگ گیا ، جہاں تک عقبہ کے غلام کا تعلق تھا ، تو اسے ہم نے پکڑ لیا اور ہم نے اس سے پوچھا: اُن لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! وہ لوگ زیادہ تعداد میں ہیں ، اور ان کے پاس بھرپور اسلحہ ہے ، جب وہ یہ بات کہتا تھا ، تو مسلمان اسے مارنے لگتے تھے ، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ان لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے بتایا : اللہ کی قسم ! ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کے پاس بھرپور اسلحہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کوشش کی کہ وہ آپ کو صحیح بات بتا سکے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ان لوگوں نے کتنے اونٹ قربان کیے ہیں ؟ اس نے بتایا : وہ روزانہ دس اونٹ قربان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ ایک ہزار ہوں گے اور ایک اونٹ ایک سو کے آس پاس کے لوگوں کے لئے ہو گا ، پھر بارش کی وجہ سے ہمیں تھوڑی سی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، اور ہم لوگ ایک درخت کے نیچے آ گئے ، اس درخت کے نیچے ہم ڈھالوں کے ذریعے بارش سے بچ رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہے اور یہ کہتے رہے : اے اللہ ! اگر تو نے اس گروہ کو ہلاکت کا شکار کر دیا ، تو پھر تیری عبادت نہیں کی جائے گی ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے اعلان کیا : اے اللہ کے بندو ! نماز پڑھو لوگ درخت اور ڈھالوں کے نیچے سے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، آپ نے جنگ کرنے کی ترغیب دی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : قریش اس پہاڑ کے اس سرخ حصے کے نیچے اکٹھے ہوں گے ، جب دشمن قریب آیا اور ہم نے ان کے مقابلے میں صف بندی کر لی ، تو ان میں سے ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! حمزہ کو بلاؤ ، وہ اس وقت مشرکین کے سب سے زیادہ قریب تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ سرخ اونٹ والا شخص کون ہے ؟ اور یہ اُن سے کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دشمن میں کوئی شخص بھلائی کی بات کرے گا ، تو یہ سرخ اونٹ والا شخص وہ بات کرے گا ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے یہ بات بتائی : وہ عتبہ بن ربیعہ ہے اور وہ لوگوں کو جنگ کرنے سے روک رہا ہے اور ان سے یہ کہہ رہا ہے : اے میری قوم ! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے ، جو مرنے کے لیے تیار ہیں ، جب تم ان تک پہنچو گے تو تمہارے میں بہتر صورتحال نہیں ہو گی ، اے میری قوم ! آج کے دن کی پٹی تم میرے سر پر باندھ دو ( یعنی مجھ پر الزام عائد کر دو ) اور یہ کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا ، حالانکہ تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں ، ابوجہل نے یہ بات سنی تو بولا: تم یہ بات کہہ رہے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی ، تو میں نے اسے گالیاں دینی تھیں تمہارے اندر رعب بھر گیا ہے ، عتبہ نے کہا: اوسر دوگرم سے ناواقف شخص ! تم مجھے یہ بات کہہ رہے ہو ؟ آج تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کون بزدل ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر عتبہ ، اُس کا بھائی شیبہ ، اور اُس کا بیٹا ولید لڑائی کے لئے آئے ، اور انہوں نے یہ کہا: کون ہمارے مقابلے میں آئے گا ؟ تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان نکلے ، عتبہ نے کہا: ہم ان سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے ، بلکہ ہمارے مقابلے میں ہمارے چچازاد بنوعبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم کھڑے ہو جاؤ ، اے حمزہ ! آپ کھڑے ہو جائیں ، اے عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب آپ کھڑے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں بیٹوں شیبہ اور عتبہ کو قتل کروا دیا ، ولید بن عتبہ کو بھی قتل کروا دیا ، سیدنا عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ، ہم نے اس جنگ میں ان کے ستر افراد کو قتل کیا اور ستر افراد کو قیدی بنایا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹے قد کا شخص ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو قیدی بنا کر لے آیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا ہے ، بلکہ مجھے ایک ایسے شخص نے قیدی بنایا ہے ، جو انتہائی خوبصورت تھا ، اور سر کے اطراف سے اس کے بال ہٹے ہوئے تھے اور وہ ایک خوبصورت گھوڑے پر سوار تھا میں نے اُسے لوگوں میں نہیں دیکھا ، انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہیں میں نے قیدی بنایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خاموش رہو ! اللہ تعالیٰ نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے ، جناب عبدالمطلب کی اولاد میں سے ، جناب عباس ، جناب عقیل اور جناب نوفل بن حارث کو قیدی بنایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حارث بن مضرب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1761) اخرجه احمد فى المسند (948)»