حدیث نمبر: 9951
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي خَلَّادٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ عَلَى بَعِيرٍ لَنَا أَعْجَفَ حَتَّى إِذَا كُنَّا مَوْضِعَ الْبَرِيدِ الَّذِي خَلْفَ الرَّوْحَاءِ ، بَرَكَ بِعِيرُنَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَكَ عَلَيْنَا لَئِنْ أَدْنَيْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَنَنْحَرَنَّهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لَكُمَا ؟ " . فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ نَزَلَ عَلَيْنَا ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ بَصَقَ فِي وُضُوئِهِ ، وَأَمَرَنَا فَفَتَحْنَا لَهُ فَمَ الْبَعِيرِ ، فَصَبَّ فِي جَوْفِ الْبِكْرِ مِنْ وُضُوئِهِ ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِ الْبِكْرِ ، ثُمَّ عَلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ عَلَى حَارِكِهِ ، ثُمَّ عَلَى سَنَامِهِ ، ثُمَّ عَلَى عَجُزِهِ ، ثُمَّ عَلَى ذَنْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ احْمِلْ رَافِعًا وَخَلَّادًا " . فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُمْنَا نَرْتَحِلُ فَارْتَحَلْنَا ، فَأَدْرَكْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَأْسِ الْمَنْصَفِ وَبَكَرْنَا أَوَّلَ الرَّكْبِ ، فَلَمَّا رَآنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحِكَ ، فَمَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَدْرًا حَتَّى إِذَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ بَدْرٍ نَزَلَ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَنَحَرْنَاهُ ، وَصَدَّقْنَا بِلَحْمِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن رفاعہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی خلاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف نکلے ہم اپنے کمزور اونٹ پر سوار تھے ، یہاں تک کہ جب ہم روحاء کے مقام سے پیچھے برید کے مقام پر پہنچے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا میں نے کہا: اے اللہ ! تو ہم پر یہ مہربانی کر دے کہ اگر ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ جائیں ، تو ہم اسے ذبح کر دیں ، ابھی ہم اسی صورت حال میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے دریافت کیا : تم دونوں کا کیا معاملہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : ہمارا اونٹ بیٹھ گیا ہے ( اور سفر کے قابل نہیں رہا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے ، آپ نے وضو کیا ، پھر آپ نے اپنے وضو کے پانی میں لعاب دہن ڈالا اور ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم آپ کے لئے اونٹ کے منہ کو کھول دیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضو کا بچا ہوا پانی اونٹ کے منہ میں ڈالا ، پھر آپ نے اس کے سر پر ڈالا ، پھر آپ نے اس کی گردن پر ڈالا ، پھر گردن کے نیچے والی جگہ پر ڈالا ، پھر اس کی کوہان پر ڈالا “ پھر اس کی پشت پر ڈالا ، پھر اس کی دم پر ڈالا ، پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! رافع اور خلاد کو سواری فراہم کر دے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہم اٹھے روانہ ہوئے ، ہم روانہ ہوئے تو ہم نے دن چڑھے کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور ہمارا اونٹ سب اونٹوں سے آگے تھا ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملاحظہ فرمایا تو آپ ہنس پڑے ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم بدر آ گئے ، یہاں تک کہ جب ہم بدر کے قریب پہنچے ، تو ہمارا اونٹ پھر بیٹھ گیا ، ہم نے کہا: الحمداللہ پھر ہم نے اسے ذبح کیا اور اس کا گوشت صدقہ کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9951
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4135)»