مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ : " إِنِّي أُخْبِرْتُ عَنْ عِيرِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهَا مُقْبِلَةٌ ، فَهَلْ لَكُمْ أَنْ نَخْرُجَ قَبْلَ هَذَا الْعِيرِ ، لَعَلَّ اللَّهَ يُغْنِمْنَاهَا ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا سِرْنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ، قَالَ لَنَا : " مَا تَرَوْنَ فِي الْقَوْمِ ، فَإِنَّهُمْ أُخْبِرُوا بِمُخْرَجِكُمْ ؟ " . فَقُلْنَا : لَا وَاللَّهِ مَا لَنَا طَاقَةٌ بِقِتَالِ الْعَدُوِّ ، وَلَكِنْ أَرَدْنَا الْعِيرَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا تَرَوْنَ فِي الْقَوْمِ ؟ " . فَقُلْنَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو : إِذًا لَا نَقُولُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى : فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ قَالَ : فَتَمَنَّيْنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَّا قُلْنَا كَمَا قَالَ الْمِقْدَادُ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ يَكُونَ لَنَا مَالٌ عَظِيمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ وَقَالَ : وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ ، وَالشَّوْكَةُ : الْقَوْمُ . وَغَيْرُ ذَاتِ الشَّوْكَةِ : الْعِيرُ . فَلَمَّا وَعَدَ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ : إِمَّا الْقَوْمَ ، وَإِمَّا الْعِيرَ طَابَتْ أَنْفُسُنَا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ يَنْظُرُ مَا قَبْلَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ سَوَادًا وَلَا أَدْرِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمُ هُمُ ، هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَ " . فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعِدَّتِنَا فَسَّرَهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ " . ثُمَّ إِنَّا اجْتَمَعْنَا مَعَ الْقَوْمِ فَصَفَفْنَا ، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " مَعِي مَعِي " . ¤ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ وَعْدَكَ " . فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُشِيرَ عَلَيْكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْظَمُ مِنْ أَنْ نُشِيرَ عَلَيْهِ ، وَاللَّهُ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ نَنْشُدَهُ وَعْدَهُ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، لَأَنْشُدَنَّ اللَّهَ وَعْدَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ " . فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَرَمَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ ; فَانْهَزَمُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى فَقَتَلْنَا وَأَسَرْنَا . ¤ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى أَنْ تَكُونَ لَكَ أَسْرَى ، فَإِنَّمَا نَحْنُ دَاعُونَ مُؤَلِّفُونَ . فَقُلْنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ : إِنَّمَا يَحْمِلُ عُمَرُ عَلَى مَا قَالَ حَسَدٌ لَنَا . فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : " ادْعُوَا لِي عُمَرَ " . فَدُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عَلَيَّ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جب مدینہ منورہ میں موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے ابوسفیان کے قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آ رہا ہے ، تو کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف جائیں ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ قافلہ غنیمت کے طور پر عطا کر دے ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے ہم ایک یا دو دن تک چلتے رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے ان لوگوں کو تمہارے نکلنے کی اطلاع مل گئی ہے ہم نے عرض کی : جی نہیں ۔ اللہ کی قسم ! ہمارے اندر دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے ہم تو قافلے کے حوالے سے نکلے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ہم نے اس کی مانند عرض کی پھر سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ایسی صورت حال میں ہم آپ کو وہ بات نہیں کہیں گے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ ہے : ) ” آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور جنگ کریں ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں “ انہوں نے کہا: اے انصار کے گروہ ہماری یہ آرزو ہے کہ ہم نے بھی اسی طرح بات کہی ہوتی ، جس طرح مقداد نے کہی ہے تو یہ چیز ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہونی تھی کہ ہمیں بہت سا مال ملتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ” جس طرح تمہارے پروردگار نے تمہیں تمہارے گھر سے حق کے ہمراہ نکلوایا ، اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس بات کو ناپسند کرتا تھا ، وہ حق کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہے تھے ، اس کے بعد کہ وہ واضح ہو چکا تھا ، یوں جیسے انہیں موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہو اور وہ دیکھ رہے ہیں “ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں ، تو تم لوگ ان لوگوں کو ثابت رکھو ، جو ایمان لائے ، میں عنقریب کافر لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا ، اور تم ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور ہر ان کے ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ “ ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ ، دو میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا کہ وہ تمہیں ملے گا ، اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ گروہ ملے جو ” شوکہ “ والا نہ ہو “ ۔ یہاں ” شوکہ “ سے مراد قوم ( یعنی کفار مکہ کا لشکر ) ہے اور ” غیر ذات الشوکہ “ سے مراد ( ان کا تجارتی ) قافلہ ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے دو میں سے ایک کا وعدہ کر لیا کہ یا قوم ( یعنی کفار قریش ) ہوں گے ، یا قافلہ ہو گا ، تو ہمارے دل مطمئن ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بھیجا جو قوم کی صورت حال کا جائزہ لے تو اس نے بتایا میں نے لوگ دیکھے ہیں لیکن مجھے انداز نہیں ہو پایا کہ ( وہ کون ہیں ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہی لوگ ہیں وہی لوگ ہیں تم لوگ آگے آؤ ! تاکہ ہم گنتی کر لیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم تین سو تیرہ افراد تھے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تعداد کے بارے میں بتایا ، تو آپ اس بات سے خوش ہوئے اور فرمایا : یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے ، پھر ہم دشمن کے سامنے اکٹھے ہوئے ، ہم نے صف بندی کی ، ہم میں سے کوئی شخص صف سے آگے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : میرے ساتھ رہو ! میرے ساتھ رہو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: اے اللہ ! میں تجھے تیرے وعدے کا واسطہ دیتا ہوں ۔ سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کہ کوئی آپ کو مشورہ دے ، اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ہم اسے اس کے وعدے کے حوالے سے واسطہ دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن رواحہ ! میں اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدے کے حوالے سے واسطہ ضرور دوں گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر مٹی لی ، پھر آپ نے اسے دشمن کی طرف پھینکا ، تو وہ لوگ پسپا ہو گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے : اور جب تم نے پھینکا ، تو تم نے نہیں پھینکا ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکا “ تو ہم نے ( دشمن کے افراد کو ) قتل بھی کیا اور قیدی بھی بنایا ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ قیدی نہ رکھیں ، کیونکہ ہم تو دعوت دینے والے اور الفت پیدا کرنے والے لوگ ہیں ، تو ہم نے یعنی انصار نے یہ کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو یہ بات کہی ہے ، یہ ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، جب آپ بیدار ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : عمر کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! انہیں بلا کر لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی ہے : ” نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ( کفار ) اس کے پاس قیدیوں کے طور پر ہوں ( اور وہ فدیہ وصول کر لے ) اسے تو زمین میں خون بہانا چاہیے ، تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو ، اور اللہ تعالیٰ ( تمہارے لیے ) آخرت ( کی بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور ) حکمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔