حدیث نمبر: 9949
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ صَدِيقًا لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَانَ إِذَا قَدِمَ عُتْبَةُ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَإِذَا قَدِمَ سَعْدٌ مَكَّةَ نَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ ، وَكَانَ عُتْبَةُ يُسَمِّيهِ أَخِي الْيَثْرِبِيَّ . ¤ قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مَكَّةَ كَمَا كَانَ يَقْدَمُ ، فَنَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، فَقَالَ لَهُ عُتْبَةُ : أَمْهِلْ حَتَّى يَتَفَرَّقَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ حَوْلِ الْبَيْتِ قَالَ : فَأَمْهَلَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ مَعِي ، فَلَمَّا أَتَى الْبَيْتَ تَلَقَّى أَبُو جَهْلٍ سَعْدًا ، فَقَالَ : يَا سَعْدُ ، آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا ثُمَّ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا ؟ . ¤ فَقَالَ سَعْدٌ : لَئِنْ مَنَعْتَنِي لَأَقْطَعَنَّ عَلَيْكَ أَوْ لَأَمْنَعَنَّكَ تِجَارَتَكَ إِلَى مَوْضِعٍ - لِمَوْضِعٍ ذَكَرَهُ - قَالَ : وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، قَالَ عُتْبَةُ لِسَعْدٍ : أَتَرْفَعُ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : وَأَنْتَ تَقُولُ ذَاكَ ؟ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ قَاتِلُكَ " . ¤ قَالَ : فَفَضَّ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ، وَقَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَكْذِبُ قَالَ : فَطَافَ سَعْدٌ ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَأَتَى عُتْبَةُ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ أَخِي الْيَثْرِبِيُّ ؟ قَالَتْ : وَمَا قَالَ ؟ قَالَ : زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا قَاتِلِي ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا لَا يَكْذِبُ . قَالَ : فَمَا كَانَ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى كَانَ مِنْ أَمْرِ بَدْرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ أَبُو جَهْلٍ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي نُزُولِ سَعِدٍ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، وَهَذَا فِيهِ : إِنَّهُ نَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عتبہ بن ربیعہ زمانہ جاہلیت میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔ جب عتبہ مدینہ آتا تھا ، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرتا تھا ۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لے جاتے تھے ، تو وہ عتبہ کے ہاں ٹھہرتے تھے عتبہ انہیں ” میرا یثربی بھائی“ کہا: کرتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو اس کے بعد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مکہ گئے ، اور پہلے کی طرح وہ عتبہ کے ہاں ٹھہرے انہوں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میں بیت اللہ کا طواف کروں عتبہ نے ان سے کہا: ابھی آپ ٹھہر جائیں تاکہ بیت اللہ کے اردگرد مسجد میں سے قریش کے افراد بکھر جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے تھوڑی دیر انتظار کیا پھر عتبہ نے کہا: آپ میرے ساتھ چلیں ، جب وہ بیت اللہ آئے ، تو ابوجہل کا سامنا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ہوا ، اس نے کہا: اے سعد ! تم نے محمد کو پناہ دی ہے اور پھر تم امن کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہو ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم نے مجھے اس سے روکا ، تو میں تمہارا راستہ کاٹوں گا ، اور تمہاری تجارت کے لئے رکاوٹ ڈال دوں گا ، جو فلاں مقام سے فلاں تک ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی ، تو عتبہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ابوالحکم کے سامنے آواز بلند کر رہے ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ بات کہہ رہے ہو ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ تمہیں قتل کروائے گا ، تو عتبہ نے اپنا ہاتھ اُن سے چھڑوایا اور بولے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹ نہیں بولتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے طواف کیا اور واپس چلے گئے ، عتبہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور بولا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی ؟ جو میرے یثربی بھائی نے بیان کی ہے ۔ اس عورت نے دریافت کیا : اس نے کیا کہا: ہے ؟ عتبہ نے بتایا : اس نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے قتل کر دیں گے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹ نہیں بولتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد بدر کا واقعہ پیش آ گیا ، ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے امیہ بن خلف کے ہاں پڑاؤ کرنے کے بارے میں ہے اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ اس نے عتبہ بن ربیعہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9949
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح