حدیث نمبر: 9948
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ : ¤ أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ بِتَأْوِيلِهَا فُلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ¤ بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ¤ يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ¤ حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ أَفَرَّ صَبَاحُ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبِهِمْ فَهُنَّ ¤ هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهَفَاتِ دِمَاءَكُمْ ¤ كِفَاحًا كَمَا يُمْرِي السَّحَابَ الْخَبَائِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ¤ بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْـ ¤ جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا يَأْتِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدٌ ¤ إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيلَتِي ¤ زَعَازِعَ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَنَصْطِلَمْنَكُمْ ¤ مُجَافًا تَرَدَّى حَافَّتَيْهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ¤ لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مصعب بن عبداللہ اور دیگر حضرات نے قریش کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے خواب کی سچائی اور قریش کے ان کے تکذیب کرنے کے حوالے سے غزوہ بدر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بعد یہ اشعار کہے : ” کیا وہ خواب سچا نہیں تھا جس کی تعبیر قوم سے مڑ کر بھاگنے والا شخص لے کے آیا ہے اس نے دیکھا پھر وہ تمہارے پاس وہ یقین لے کے آیا جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا جو تیز دھار والی تلواریں جھوٹ نہیں بولتی ہیں تم لوگوں نے یہ کہا: کہ آپ نے جھوٹ کہا: ہے حالانکہ میں نے جھوٹ نہیں بولا: تھا سچائی کے حوالے سے وہی شخص مجھے جھوٹا قرار دے گا جو خود جھوٹا ہو گا وہ بھاگنے والا فرد صرف موت کے خوف سے بھاگا تھا وہ ان میں سے سمجھدار تھا جس کے لیے راستے تنگ ہو گئے تھے کیا قوم کو چیخ کر بلانے والا شخص ان کے دلوں کے عزم سے بھاگا تھا یہ تو خواہشات ہیں اور ایسے خواب ہیں جن کا کوئی گھر بار نہیں ہے وہ تیز دھار والی تلوار لے کر تمہاری جانوں کے مد مقابل آ گئے جس طرح جنوب کی طرف سے آنے والا بادل آتا ہے جب ان لوگوں کا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سامنا ہوا تو اس دن انہوں نے کیا دیکھا جو ان کے چچازاد ہیں اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے کیا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسی ضرب کے ذریعے ڈھانپ نہیں لیا جس کے پڑنے سے بزدل شخص حیران رہ جاتا ہے اور دن کے وقت تارے نظر آ جاتے ہیں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے کے دن کیا یہ صورتحال نہیں آئی جب جنگ کی مدد نے کندھوں کو نوچ لیا ان کی تلواریں اندرونی جوش کی وجہ سے یوں نمایاں ہوئیں جیسے تیز ہوا آتی ہے حالانکہ پہلے ان میں بخار تھا میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ تم لوگوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے اور ایک طرف کر دینگے جس کے دونوں کناروں پر حملہ آور موجود ہوں گے یوں لگتا ہے جیسے سورج کی روشنی اپنی کرنوں کی چمک کے ہمراہ دونوں طرف نور رکھتی ہے ایک شعاع ہے اور ایک شہاب ثاقب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9948
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (348/24)»