مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : كَانَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِنَةً مَعَ أَخِيهَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَرَأَتْ رُؤْيَا قُبَيْلَ بَدْرٍ فَفَزِعَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَخِيهَا عَبَّاسٍ مِنْ لَيْلَتِهَا حِينَ فَزِعَتْ وَاسْتَيْقَظَتْ مِنْ نَوْمِهَا فَقَالَتْ : قَدْ رَأَيْتُ رُؤْيَا وَقَدْ خَشِيتَ مِنْهَا عَلَى قَوْمِكَ الْهَلَكَةَ . ¤ قَالَ : وَمَا رَأَيْتِ ؟ قَالَتْ : لَنْ أُحَدِّثَكَ حَتَّى تُعَاهِدَنِي أَنْ لَا تَذْكُرَهَا ، فَإِنَّهُمْ إِنْ يَسْمَعُوهَا آذَوْنَا فَأَسْمَعُونَا مَا لَا نُحِبُّ ، فَعَاهَدَهَا عَبَّاسٌ ، فَقَالَتْ : رَأَيْتُ رَاكِبًا أَقْبَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ يَصِيحُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا آلَ غَدْرٍ ، وَيَا آلَ فُجْرٍ ، اخْرُجُوا مِنْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ . ¤ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ فِي الْمَسْجِدِ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ ، وَمَالَ عَلَيْهِ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ، وَفَزِعَ النَّاسُ لَهُ أَشَدَّ الْفَزَعِ ، ثُمَّ أَرَاهُ مَثُلَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ : يَا آلَ غَدْرٍ ، وَيَا آلَ فُجْرٍ ، اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ حَتَّى أَسْمَعَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، ثُمَّ عَمَدَ لِصَخْرَةٍ عَظِيمَةٍ فَنَزَعَهَا مِنْ أَصْلِهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَأَقْبَلَتِ الصَّخْرَةُ لَهَا دَوِيٌّ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عَلَى أَصْلِ الْجَبَلِ ارْفَضَّتْ فَلَا أَعْلَمُ بِمَكَّةَ بَيْتًا وَلَا دَارًا إِلَّا قَدْ دَخَلَهَا فِرْقَةٌ مِنْ تِلْكَ الصَّخْرَةِ ، فَلَقَدْ خَشِيتُ عَلَى قَوْمِكَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ شَرٌّ . ¤ فَفَزِعَ مِنْهَا عَبَّاسٌ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا فَلَقِيَ مِنْ لَيْلَتِهِ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَانَ خَلِيلًا لِلْعَبَّاسِ فَقَصَّ عَلَيْهِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَذْكُرَهَا لِأَحَدٍ ، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ ، وَذَكَرَهَا عُتْبَةُ لِأَخِيهِ شَيْبَةَ ، وَارْتَفَعَ حَدِيثُهَا حَتَّى بَلَغَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَاسْتَفَاضَتْ . ¤ فَلَمَّا أَصْبَحُوا غَدَا الْعَبَّاسُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَصْبَحَ فَوَجْدَ أَبَا جَهْلٍ ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، وَزَمْعَةَ بْنَ الْأَسْوَدِ ، وَأَبَا الْبَخْتَرِيِّ فِي نَفَرٍ يَتَحَدَّثُونَ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى عَبَّاسٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ نَادَاهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، إِذَا قَضَيْتَ طَوَافَكَ فَائْتِنَا . ¤ فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ أَتَى فَجَلَسَ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، مَا رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ ؟ قَالَ : مَا رَأَتْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ : بَلَى ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي هَاشِمٍ بِكَذِبِ الرِّجَالِ حَتَّى جِئْتُمُونَا بِكَذِبِ النِّسَاءِ ، إِنَّا كُنَّا وَأَنْتُمْ كَفَرَسَيْ رِهَانٍ ، فَاسْتَبَقْنَا الْمَجْدَ مُنْذُ حِينٍ فَلَمَّا حَاذَتِ الرَّكْبُ ، قُلْتُمْ مِنَّا نَبِيٌّ ، فَمَا بَقِيَ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا : مِنَّا نَبِيَّةٌ ، وَلَا أَعْلَمُ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْذَبَ رَجُلًا وَلَا أَكْذَبَ امْرَأَةً مِنْكُمْ ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى . ¤ وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : زَعَمَتْ عَاتِكَةُ أَنَّ الرَّاكِبَ قَالَ : اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ ، فَلَوْ قَدْ مَضَتْ هَذِهِ الثَّلَاثُ تَبَيَّنَ لِقُرَيْشٍ كَذِبُكُمْ ، وَكَتَبْنَا سِجِلًّا ثُمَّ عَلَّقْنَاهُ بِالْكَعْبَةِ إِنَّكُمْ أَكْذَبُ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ رَجُلًا وَامْرَأَةً ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي قُصَيٍّ أَنَّكُمْ ذَهَبْتُمْ بِالْحِجَابَةِ وَالنَّدْوَةِ وَالسِّقَايَةِ وَاللِّوَاءِ حَتَّى جِئْتُمُونَا زَعَمْتُمْ بِنَبِيٍّ مِنْكُمْ ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى . ¤ وَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : مَهْلًا يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ ، هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ فِيكَ وَفِي أَهْلِ بَيْتِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، مَا كُنْتَ بِجَاهِلٍ وَلَا خَرِفٍ ، وَنَالَ عَبَّاسٌ مِنْ عَاتِكَةَ أَذًى شَدِيدًا فِيمَا أَفْشَى مِنْ حَدِيثِهَا ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ لَيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنَ اللَّيَالِي الَّتِي رَأَتْ فِيهَا عَاتِكَةُ الرُّؤْيَا ، جَاءَهُمُ الرَّكْبُ الَّذِي بَعَثَ أَبُو سُفْيَانَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ : يَا آلَ غَدْرٍ ، انْفِرُوا فَقَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ لِيَعْرِضُوا لِأَبِي سُفْيَانَ ، فَأَحْرِزُوا عِيَرَكُمْ ، فَفَزِعَتْ قُرَيْشٌ أَشَدَّ الْفَزَعِ ، وَأَشْفَقُوا مِنْ قِبَلِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ ، وَنَفَرُوا عَلَى كُلِّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں ، وہ اپنے بھائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ، بدر سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواب دیکھا تو گھبرا گئیں انہوں نے اسی رات اپنے بھائی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا جب وہ گھبرائیں تھیں اور نیند سے بیدار ہوئی تھیں ، انہوں نے بتایا : میں نے خواب دیکھا ہے مجھے اس کے حوالے سے تمہاری قوم کی ہلاکت کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کیا دیکھا ہے ، تو اس خاتون نے کہا: میں یہ آپ کو اس وقت تک بیان نہیں کروں گی جب تک آپ مجھ سے یہ عہد نہیں کرتے کہ آپ اس کا ذکر کسی کے آگے نہیں کریں گے ، کیونکہ اگر لوگوں نے اس خواب کو سن لیا ، تو وہ ہمیں اذیت پہنچائیں گے اور ہمیں ایسی باتیں سنائیں گے ، جو ہمیں اچھی نہیں لگیں گی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ یہ عہد کر لیا اس خاتون نے بتایا میں نے ایک سوار کو دیکھا جو اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ کے بالائی علاقہ کی طرف سے آیا اور اس نے بلند آواز میں چیخ کر یہ کہا: اے غدار لوگوں کی آل ! اے فاجر لوگوں کی آل ! دو یا تین راتوں میں تم نکل کھڑے ہو پھر وہ اپنی سواری پر سوار رہتے ہوئے مسجد میں داخل ہوا اور اس نے مسجد میں تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا مرد خواتین اور بچے اس کی طرف گئے لوگ اس کی وجہ سے انتہائی پریشان ہو چکے تھے پھر میں نے دیکھا کہ جیسے وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا ہے اور وہاں بھی اس نے تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا ہے اسے غدار لوگوں کی آل اے فاجر لوگوں کی آل ، دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو یہاں تک کہ اس کی آواز پورے مکہ میں پھیل گئی پھر وہ ایک بڑی چٹان کی طرف بڑھا اس نے اس چٹان کو اس کی جڑ سے الگ کیا اور پھر اسے اہل مکہ کی طرف پھینکا وہ چٹان آئی اس کے اندر سے آواز آ رہی تھی ، یہاں تک کہ جب وہ پہاڑ کی جڑ تک پہنچی تو وہ ٹوٹ گئی اور میرے علم کے مطابق مکہ کے ہر گھر اور ہر محلے کے اندر اس چٹان کا کوئی حصہ داخل ہو گیا تو مجھے آپ کی قوم کے بارے میں یہ اندیشہ لاحق ہو گیا ہے کہ ان پر کوئی بری صورت حال آنے والی ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس پر پریشان ہو گئے وہ اس خاتون کے پاس سے نکلے اسی رات ان کی ملاقات ولید بن عقبہ بن ربیعہ سے ہوئی جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔ انہوں نے عاتکہ کا خواب اسے سنایا اور اسے یہ ہدایت کی کہ وہ کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے ولید نے اس کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کر دیا عتبہ نے اس کا ذکر اپنے بھائی شیبہ کے سامنے کر دیا اور پھر یہ بات پھیل گئی ، یہاں تک کہ ابوجہل بن ہشام کے پاس بھی پہنچ گئی اگلے دن صبح جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، تو انہوں نے ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، امیہ بن خلف ، زمعہ بن اسود اور ابوبختری کو ، کچھ لوگوں کے درمیان بات چیت کرتے ہوئے پایا جب ان لوگوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا تو ابوجہل بن ہشام نے انہیں بلند آواز میں پکار کر کہا: اے ابوالفضل ! جب آپ طواف مکمل کر لیں ، تو ہمارے پاس آیئے گا جب انہوں نے طواف مکمل کیا تو وہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے تو ابوجہل نے کہا: اے ابوالفضل وہ خواب کیا ہے ، جو عاتکہ نے دیکھا ہے ؟ سیدنا عباس بھی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اس نے کچھ نہیں دیکھا ابوجہل نے کہا: جی ہاں ۔ ( یعنی دیکھا ہے ) اے بنوہاشم ! کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مرد جھوٹ بولیں ، یہاں تک کہ اب آپ ہمارے پاس خواتین کے جھوٹ بھی لے کر آنے لگ گئے ہیں ، ہم اور آپ پہلے دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح تھے ، ایک طویل عرصہ تک ہم بزرگی میں سبقت کی کوشش کرتے رہے ، پھر جب سوار برابر ہو گئے ، تو آپ لوگوں نے کہا: ہمارے اندر ایک نبی بھی ہے اب صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہمارے اندر ایک خاتون نبی بھی ہے ، میرے علم کے مطابق کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے ، جو آپ کے گھرانے سے زیادہ جھوٹے مرد والا ہو ، یا جھوٹی عورت والا ہو ، تو اس دن ابوجہل نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ابوجہل نے کہا: عاتکہ کا یہ کہنا ہے کہ ایک سوار نے یہ کہا: ہے کہ تم لوگ دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو ، تو یہ تین دن گزر جائیں گے اور تمہارا جھوٹ قریش کے سامنے واضح ہو جائے گا ، اور پھر ہم ایک تحریر لکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کے ساتھ لٹکا دیں گے کہ آپ مردوں اور خواتین کے حوالے سے عربوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے گھرانے کے لوگ ہیں کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں ہیں اے بنو قصی ! کہ آپ لوگوں نے حجابہ ، ندوہ ، سقایہ اور لواء کا منصب لیا ہوا تھا اب آپ ہمارے پاس آ گئے ہیں اور اپنے میں سے ایک نبی کے بارے میں بیان کرنے لگ گئے ہیں ، تو اس دن ابوجہل نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے نالائق ! صبر کرو تم صرف ایک بدبودار شخص ہو جھوٹ تمہارے اندر ہے اور تمہارے گھرانے کے اندر ہے حاضرین میں سے کسی نے ان سے کہا: اے ابوالفضل آپ نہ تو سخت مزاج تھے اور نہ ہی بد زبانی کرتے تھے پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا ، کیونکہ انہوں نے سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کی بات پھیلائی تھی جب تیسری رات کی شام ہوئی جو اس رات کے حساب سے تھی جس میں سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا تھا ، تو ایک سوار ان کے پاس آیا جسے ابوسفیان نے بھیجا تھا وہ ضمضم بن عمرو غفاری تھا اس نے کہا: اے غدار لوگوں کی آل تم لوگ نکل کھڑے ہو کیونکہ محمد اور ان کے ساتھی نکل پڑے ہیں تاکہ ابوسفیان کے قافلے پر حملہ آور ہوں ، تو تم اپنے قافلے کو بچا لو ! تو قریش گھبرا گئے ، اور وہ عاتکہ کے خواب کے حوالے سے پریشان ہو گئے ، اور ہر کمزور اور صحت مند اونٹ پر سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔