حدیث نمبر: 9946
وَعَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَاكِبًا أَخَذَ صَخْرَةً مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ ، فَرَمَى بِهَا لِلرُّكْنِ فَتَعَلَّقَتِ الصَّخْرَةُ ، فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُورِ قُرَيْشٍ إِلَّا دَخَلَتْهَا مِنْهَا كِسْرَةٌ غَيْرَ دُورِ بَنِي زُهْرَةَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا اكْتُمِيهَا وَلَا تَذْكُرِيهَا ، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فَلَقِيَ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَذَكَرَهَا لَهُ فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ ، فَفَشَا الْحَدِيثُ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَخَرَجْتُ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَأَبُو جَهْلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ بِرُؤْيَا عَاتِكَةَ ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو جَهْلٍ قَالَ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، إِذَا فَرَغْتَ مِنْ طَوَافِكَ فَأَقْبِلْ إِلَيْنَا ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَمَا رَضِيتُمْ أَنْ يَتَنَبَّأَ رِجَالُكُمْ حَتَّى يَتَنَبَّأَ نِسَاؤُكُمْ ، قَدْ زَعَمَتْ عَاتِكَةُ فِي رُؤْيَاهَا هَذِهِ أَنَّهُ قَالَ : انْفِرُوا فِي ثَلَاثٍ فَسَنَتَرَبَّصُ هَذِهِ الثَّلَاثَ ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا ، فَسَيَكُونُ وَإِنْ يَمْضِ الثَّلَاثُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبْنَا عَلَيْكُمْ كِتَابًا : أَنَّكُمْ أَكْذَبُ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَوَاللَّهِ مَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا أَنِّي جَحَدْتُ وَأَنْكَرْتُ أَنْ تَكُونَ رَأَتْ شَيْئًا . ¤ قَالَ الْعَبَّاسُ : فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَتَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ : رَضِيتُمْ مِنْ هَذَا الْفَاسِقِ يَتَنَاوَلُ رِجَالَكُمْ ثُمَّ يَتَنَاوَلُ نِسَاءَكُمْ ، وَأَنْتَ تَسْمَعُ ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ نَكِيرٌ ؟ ! وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَمْزَةُ مَا قَالَ مَا قَالَ . فَقُلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ فَعَلَ ، وَمَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ نَكِيرُ شَيْءٍ ، وَايْمُ اللَّهِ لِأَتَعَرَّضَنَّ لَهُ ، فَإِنْ عَادَ لَأَكْفِيَنَّكُمْ . ¤ قَالَ الْعَبَّاسُ : فَغَدَوْتُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ رُؤْيَا عَاتِكَةَ وَأَنَا مُغْضَبٌ عَلَى أَنَّهُ فَاتَنِي أَمْرٌ أُحِبُّ أَنْ أُدْرِكَ شَيْئًا مِنْهُ قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَمْشِي نَحْوَهُ ، وَكَانَ رَجُلًا خَفِيفًا ، حَدِيدَ الْوَجْهِ ، حَدِيدَ اللِّسَانِ ، حَدِيدَ الْبَصَرِ ، إِذْ خَرَجَ نَحْوَ الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا لَهُ لَعَنَهُ اللَّهُ ؟ أَكَلَ هَذَا فَرَقَّ مِنِّي أَنْ أُشَاتِمَهُ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ سَمِعَ مَا لَمْ أَسْمَعْ سَمِعَ صَوْتَ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ يَصْرُخُ بِبَطْنِ مَكَّةَ الْوَادِي قَدْ جَدَعَ بَعِيرَهُ ، وَحَوَّلَ رَحْلَهُ ، وَشَقَّ قَمِيصَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، قَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ فِي أَصْحَابِهِ مَا أَرَاكُمْ تُدْرِكُونَهَا الْغَوْثَ الْغَوْثَ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَشَغَلَنِي عَنْهُ وَشَغَلَهُ عَنِّي مَا جَاءَ مِنَ الْأَمْرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ ایک سوار نے ابوقبیس پہاڑ کی ایک چٹان کو لیا اور اسے حجر اسود کی طرف پھینکا تو وہ چٹان متعلق ہوئی ( یعنی لٹک گئی ) اور پھر قریش کے ہر ایک گھرانے میں اس کا ٹکڑا داخل ہو گیا صرف بنوزہرہ کے علاقے میں داخل نہیں ہوا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ( یہ خواب سننے کے بعد ) فرمایا اس خواب کو تم چھپا کے رکھو تم اس کا ذکر نہ کرنا پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ باہر چلے گئے ان کی ملاقات ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ہوئی انہوں نے اس خواب کا تذکرہ اس کے سامنے کیا ولید نے اس خواب کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کیا تو یہ بات پھیل گئی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لئے نکلا تو ابوجہل قریش کے کچھ افراد کے درمیان بیٹھا ہوا عاتکہ کے خواب کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا ۔ جب ابوجہل نے مجھے دیکھا تو بولا: اے ابوالفضل جب آپ طواف سے فارغ ہو جائیں ، تو ہماری طرف آ جائیے گا جب میں طواف سے فارغ ہوا تو میں آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ابوجہل نے کہا: اے بنوعبدالمطلب کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مردوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے اب یہ صورت حال ہے کہ آپ کی خواتین بھی نبوت کا دعوی کرنے لگی ہیں عاتکہ نے اپنے خواب کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے ۔ پھر اس نے کہا: آپ لوگ تین دن انتظار کریں ہم تین دن تک جائزہ لیں گے اگر تو ان کی کہی ہوئی بات حق ہوئی تو وہ واقع ہو جائے گی اور اگر تین دن گزر گئے ، اور ایسی کوئی چیز سامنے نہ آئی تو ہم آپ کے خلاف ایک تحریر لکھوا دیں گے کہ آپ عربوں کے سب سے جھوٹے گھرانے کے لوگ ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس وقت میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اس بات کا انکار کرتا اور اس بات کو مسترد کرتا کہ اس ( یعنی عاتکہ ) نے کچھ دیکھا ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب شام ہوئی تو جناب عبدالمطلب کی صاحبزادیوں میں سے ایک خاتون میرے پاس آئی اور بولی: تم اس فاسق شخص سے اس بات سے راضی ہو گئے کہ اس نے تمہارے مردوں کو بھی برا کہا: اور پھر اس نے تمہاری خواتین کو بھی برا کہا: اور تم سنتے رہے اور تمہارے پاس انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ؟ اللہ کی قسم ! اگر حمزہ ہوتے تو اس نے وہ بات نہیں کہنی تھی جو اس نے کہی ہے ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس نے ایسا کیا ہے اور میرے پاس اس کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ اللہ کی قسم ! اب میں اس کے پاس جاؤں گا ، اور اگر اس نے دوبارہ ایسی بات کی تو تم لوگوں کی جگہ اسے جواب دوں گا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : عاتکہ کے خواب کے تیسرے دن میں گیا میں غصے میں تھا اس بات پر کہ ایسا معاملہ مجھ سے فوت ہو گیا ہے جس کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ میں نے اس میں سے کسی چیز کو پا لیا ہوتا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس کی سمت جا رہا تھا وہ ایک ایسا شخص تھا جو دبلا پتلا تھا اس کا چہرہ تیز تھا زبان تیز تھی بصارت تیز تھی جب وہ مسجد ( یعنی مسجد حرام ) کی طرف نکلا تو اس نے ٹیک لگائی ہوئی تھی میں نے دل میں سوچا اسے کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے کیا یہ مجھ سے ڈر گیا ہے کہ میں اسے برا بھلا کہوں گا ؟ لیکن اصل میں اس نے وہ بات سن لی تھی ، جو میں نے نہیں سنی تھی ۔ اس نے ضمضم بن زرعہ بن عمرو غفاری کی آواز سنی تھی جس نے مکہ کے نشیبی علاقے میں چیخ کر یہ کہا: تھا ۔ اس نے اپنے اونٹ کے ناک کو کاٹ دیا تھا اپنے پالان کو الٹ دیا تھا اپنی قمیص کو پھاڑ دیا تھا ، اور وہ یہ کہہ رہا تھا : اے قریش کے گروہ ! محمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل آئے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ تم پہنچ پاؤ گے ، مدد کی درخواست ہے مدد کی درخواست ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میری توجہ اس سے ہٹ گئی اور اس کی توجہ مجھ سے ہٹ گئی ، اس چیز کی وجہ سے جو معاملہ درپیش آ گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9946
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (344/24)»