❮
❯
حدیث نمبر: 9945
وَعَنْ رَفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَقْبَلْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَفَقَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَتِ الرِّفَاقُ بَعْضُهَا بَعْضًا : أَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَوَقَفُوا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْنَاكَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ أَبَا حَسَنٍ وَجَدَ مَغَصًا فِي بَطْنِهِ فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ .
محمد محی الدین

سیدنا رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ہم آئے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر موجود پایا تو ہم نے مختلف ٹولیوں کو پکار کر یہ کہا: کہ کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں ؟ پھر لوگ ٹھہر گئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ابوالحسن کو اس کے پیٹ میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی ، تو میں اس کی خاطر پیچھے رہ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9945
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4548) ، أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 5075، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4548»