حدیث نمبر: 9895
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ; أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ تَدْرُونَ عَلَى مَا تُبَايِعُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ إِنَّكُمْ تُبَايِعُونَهُ أَنْ تُحَارِبُوا الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ ، فَقَالُوا : نَحْنُ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَ ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرِطْ ، قَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، وَالسَّمْعَ وَالطَّاعَةَ ، وَأَنْ لَا تُنَازِعُوا الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو ! کیا تم یہ جانتے ہو ؟ کہ تم کس چیز پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر رہے ہو ؟ تم اس چیز پر ان کی بیعت کر رہے ہو کہ تم عربوں ، عجمیوں ، جنوں اور انسانوں کے ساتھ جنگ کرو گے اُن لوگوں نے کہا: یہ جس کے ساتھ جنگ کریں گے ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے یہ جس کے ساتھ سلامت رہیں گے ہم اس کے ساتھ سلامت رہیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کوئی شرط طے کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اس بات کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ، تم نماز قائم کرو گے اور تم زکوۃ دو گے ، اطاعت اور فرمانبرداری کرو گے ، اور حکومت کے معاملے میں اس کے اہل افراد سے جھگڑا نہیں کرو گے ، اور میری ان چیزوں کے حوالے سے حفاظت کرو گے ، جن کے حوالے سے تم اپنے آپ کی ، اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرتے ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس راوی کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف