مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 9894
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ عَبَّاسٌ : وَاللَّهِ أَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَتَاهُ السَّبْعُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ الْعَقَبَةَ فَأَخَذَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِمْ وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ ، وَذَلِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ وَأَوَّلِهِ قَبْلَ أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ أَحَدٌ عَلَانِيَةً . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِ اللَّدُودِ الَّذِي رَوَتْهُ عَائِشَةُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! جب ستر افراد ، جن کا تعلق انصار سے تھا ، وہ بیعت عقبہ کی رات آئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اُن کے ساتھ شرائط طے کیں اور یہ اسلام کے ابتدائی دور کی بات ہے ، اور اس سے پہلے کی بات ہے کہ کوئی اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے ، جسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔