کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 9876
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ الْمَوْسِمُ ، حَجَّ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ ، مِنْهُمْ : مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ ، وَأَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ . وَمِنْ بَنِي زُرَيْقٍ : رَافِعُ بْنُ مَالِكٍ ، وَذَكْوَانُ بْنُ عَبَدِ الْقَيْسِ . وَمِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ : أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ . وَمِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : عُوَيْمُ بْنُ سَاعِدَةَ . وَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَهُمْ خَبَرَهُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِهِ مِنْ نُبُوَّتِهِ وَكَرَامَتِهِ ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا سَمِعُوا قَوْلَهُ أَنْصَتُوا ، وَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى دَعْوَتِهِ ، وَعَرَفُوا مَا كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ ذِكْرِهِمْ إِيَّاهُ بِصِفَتِهِ ، وَمَا يَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ، فَصَدَّقُوهُ ، وَآمَنُوا بِهِ ، وَكَانُوا مِنْ أَسْبَابِ الْخَيْرِ ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ : قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ مِنَ الدِّمَاءِ ، وَنَحْنُ نُحِبُّ مَا أَرْشَدَ اللَّهُ بِهِ أَمْرَكَ ، وَنَحْنُ - لِلَّهِ وَلَكَ - مُجْتَهِدُونَ ، وَإِنَّا نُشِيرُ عَلَيْكَ بِمَا تَرَى ، فَامْكُثْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى قَوْمِنَا فَنُخْبِرَهُمْ بِشَأْنِكَ ، وَنَدْعُوَهُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَلَعَلَّ اللَّهَ يُصْلِحُ بَيْنَنَا ، وَيَجْمَعُ أَمْرَنَا ، فَإِنَّا الْيَوْمَ مُتَبَاعِدُونَ مُتَبَاغِضُونَ ، فَإِنْ تَقْدُمْ عَلَيْنَا الْيَوْمَ وَلَمْ نَصْطَلِحْ لَمْ يَكُنْ لَنَا جَمَاعَةٌ عَلَيْكَ ، وَنَحْنُ نُوَاعِدُكَ الْمَوْسِمَ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ . فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي قَالُوا ، فَرَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ يَدْعُوهُمْ سِرًّا ، وَأَخْبَرُوهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالَّذِي بَعَثَهُ اللَّهُ بِهِ ، وَدَعَا عَلَيْهِ بِالْقُرْآنِ حَتَّى قَلَّ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا أَسْلَمَ فِيهَا نَاسٌ لَا مَحَالَةَ . ¤ ثُمَّ بَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا مِنْ قِبَلِكَ يَدْعُو النَّاسَ بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ أَدْنَى أَنْ يُتَّبَعَ . فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ أَخَا بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، فَنَزَلَ فِي بَنِي غَنْمٍ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، فَجَعَلَ يَدْعُو النَّاسَ سِرًّا وَيَفْشُو الْإِسْلَامُ وَيَكْثُرُ أَهْلُهُ ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ مُسْتَخْفُونَ بِدُعَائِهِمْ ، ثُمَّ إِنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ أَقْبَلَ هُوَ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ حَتَّى أَتَيَا بِئْرَ مِرِّي أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَجَلَسُوا هُنَالِكَ ، وَبَعَثُوا إِلَى رَهْطٍ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَأَتَوْهُمْ مُسْتَخْفِينَ ، فَبَيْنَمَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُهُمْ وَيَقُصُّ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ أُخْبِرَ بِهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَأَتَاهُمْ فِي لَأْمَتِهِ وَمَعَهُ الرُّمْحُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : عَلَامَ يَأْتِينَا فِي دُورِنَا بِهَذَا الْوَحِيدِ الْفَرِيدِ الطَّرِيحِ الْغَرِيبِ يُسَفِّهُ ضُعَفَاءَنَا بِالْبَاطِلِ وَيَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ، لَا أَرَاكُمَا بَعْدَ هَذَا بِشَيْءٍ مِنْ جِوَارِنَا . فَرَجَعُوا ثُمَّ إِنَّهُمْ عَادُوا الثَّانِيَةَ بِبِئْرِ مُرَّى أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَأُخْبِرَ بِهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الثَّانِيَةَ ، فَوَاعَدَهُمْ بِوَعِيدٍ دُونَ الْوَعِيدِ الْأَوَّلِ فَلَمَّا رَأَى أَسْعَدُ مِنْهُ لِينًا قَالَ : يَا ابْنَ خَالَةَ ، اسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ، فَإِنْ سَمِعْتَ مِنْهُ مُنْكَرًا ، فَارْدُدْهُ يَا هَذَا مِنْهُ ، وَإِنْ سَمِعْتَ خَيْرًا ، فَأَجِبِ اللَّهَ ، فَقَالَ : مَاذَا يَقُولُ ؟ فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ : ( حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ) فَقَالَ سَعْدٌ : وَمَا أَسْمَعُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ ، فَرَجَعَ وَقَدْ هَدَاهُ اللَّهُ تَعَالَى ، وَلَمْ يُظْهِرْ أَمْرَ الْإِسْلَامِ حَتَّى رَجَعَ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَدَعَا بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَظْهَرَ إِسْلَامَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : مَنْ شَكَّ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ أَوْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى فَلْيَأْتِنَا بِأَهْدَى مِنْهُ ، نَأْخُذُ بِهِ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ أَمْرٌ لَتُحَزَّنَّ فِيهِ الرِّقَابُ ، فَأَسْلَمَتْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ عِنْدَ إِسْلَامِ سَعْدٍ وَدُعَائِهِ إِلَّا مَنْ لَا يُذْكَرُ ، فَكَانَتْ أَوَّلَ دُورٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَتْ بِأَسْرِهَا . ¤ ثُمَّ إِنَّ بَنِي النَّجَّارِ أَخْرَجُوا مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ ، وَاشْتَدُّوا عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ ، فَانْتَقَلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَلَمْ يَزَلْ يَدْعُو وَيَهْدِي اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ حَتَّى قَلَّ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا أَسْلَمَ فِيهَا نَاسٌ لَا مَحَالَةَ ، وَأَسْلَمَ أَشْرَافُهُمْ ، وَأَسْلَمَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ ، وَكُسِّرَتْ أَصْنَامُهُمْ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ أَعَزَّ أَهْلِهَا ، وَصَلَحَ أَمْرُهُمْ ، وَرَجَعَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُدْعَى : الْمُقْرِئُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : جب حج کا موقع آیا ، تو انصار میں سے بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حج کے لئے آئے ، جن میں سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ اور سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے ، ہنو زریق میں سے سیدنا رافع بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا ذکوان بن عبدالقیس رضی اللہ عنہ تھے ، بنو اشہل میں سے سیدنا ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ تھے ، بن عمرو بن عوف میں سے سیدنا عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کے پاس آئے اور ان لوگوں کو یہ بات بتائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبوت اور عزت افزائی کے لئے آپ کو منتخب کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کی ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا ، تو وہ خاموش رہے ، ان کے دل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے حوالے سے مطمئن ہو گئے اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ وہ لوگ اہل کتاب سے جس کا تذکرہ سنتے تھے ، اس کی صفات آپ میں پائی جاتی ہیں ، آپ جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں ، انہوں نے اس حوالے سے آپ کی تصدیق کی ، آپ پر ایمان لائے اور وہ لوگ بھلائی کے اسباب میں سے ہو گئے ، پھر ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں اوس اور خزرج کے درمیان دشمنی پائی جاتی ہے ، ہمیں یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ جب آپ کے معاملے کو کامیابی سے دو چار کرے ، تو ہم اللہ تعالیٰ کے لئے اور آپ کے لئے کوشش کرنے والے ہوں ، آپ کو جو مناسب لگتا ہے ، ہم آپ سے وہی طے کرتے ہیں ، آپ اللہ کا نام لے کر یہاں ٹھہرے رہیں ، ہم اپنی قوم کے پاس جاتے ہیں اور انہیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں اور انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان بہتری کر دے اور ہمارے معاملے کو اکٹھا کر دے ، آج ہم ایک دوسرے سے جدا ہیں ، ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہیں ، اگر اب آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آپس میں صلح نہ ہوئی ، تو ہم اجتماعی طور پر آپ کا ساتھ نہیں دے سکیں گے ، ہم اگلے سال حج کے موقع پر دوبارہ آپ سے ملاقات کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کہی ہوئی بات سے راضی ہو گئے اور وہ لوگ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے ، وہ پوشیدہ طور پر ان لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے رہے اور ان تعلیمات کے بارے میں بتاتے رہے ، جن کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ، انہیں قرآن کی دعوت دیتے رہے ، یہاں تک کہ انصار کے تقریباً ہر ایک محلے میں کچھ لوگ مسلمان ہو گئے ۔ پھر ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ ہماری طرف اپنے میں سے کسی فرد کو بھیجیں ، جو لوگوں کو اللہ کی کتاب کے مطابق دعوت دے ، کیونکہ یہ اس بات کے زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کی پیروی کی جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعبدالدار سے تعلق رکھنے والے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیج دیا ، انہوں نے بنو غنم کے علاقے میں سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پڑاؤ کیا اور پوشیدہ طور پر لوگوں کو دعوت دینے لگے اور اسلام پھیلنے لگا اور اس کے ماننے والے زیادہ ہو گئے ، ابھی ان کی دعوت کی بنیاد پر یہ لوگ پوشیدہ زندگی گزار رہے تھے ، تو اسی دوران ایک مرتبہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ” مری “ کے کنویں کے پاس آئے ، یا اس کے قریب آئے اور وہاں بیٹھ گئے ، انہوں نے کچھ لوگوں کو پیغام بھیجا تھا ، وہ پوشیدہ طور پر ان لوگوں کے پاس آئے ، ابھی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور انہیں قرآن کے بارے میں بتا رہے تھے کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ان لوگوں کے بارے میں بتا دیا گیا ، تو وہ اسی وقت ہتھیار پہن کر ان لوگوں کے پاس آئے اور ان کے پاس نیزہ بھی تھا ، وہ آ کر سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور بولے : یہ اجنبی ، اکیلا وطن سے دور شخص کس لئے ہمارے علاقے میں آیا ہے ؟ تاکہ باطل کے ذریعے ہمارے کمزور لوگوں کو بے وقوف بنا لے ، اور باطل کی طرف ان لوگوں کو دعوت دے ؟ اب کے بعد میں تمہیں اپنے علاقے میں نہ دیکھوں ، تو وہ لوگ واپس چلے گئے ، پھر وہ لوگ دوبارہ ” مری“ نامی کنویں یا اس کے پاس آئے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دوسری مرتبہ ان کے بارے میں بتایا گیا ، تو انہوں نے پھر سخت دھمکی دی ، لیکن وہ پہلی سے کم تھی ، جب سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف سے نرمی دیکھی ، تو کہا: اے میرے خالہ زاد ! آپ اس کی بات سن لیں ، اگر آپ نے اس سے کوئی منکر بات سنی ، تو آپ اس کو مسترد کر دیجئے گا اور اگر کوئی بھلائی کی بات سنی ، تو آپ اللہ تعالیٰ کی بات کو قبول کر لیجئے گا ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا کہتا ہے ؟ تو سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ آیات تلاوت کیں : ” حم ! کتاب مبین کی قسم ہے ، ہم نے اسے عربی قرآن بنایا ہے ، تاکہ تم اسے سمجھ لو “ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں صرف وہ بات سنوں گا جسے میں اچھا سمجھوں گا ، پھر وہ واپس چلے گئے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت نصیب کر دی لیکن واپس جانے تک انہوں نے اسلام کے معاملے کو ظاہر نہیں کیا پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور بنو عبداشہل کو اسلام کی طرف دعوت دی ، اور اپنے اسلام کو ظاہر کر دیا ، انہوں نے اس بارے میں یہ کہا: جو بھی چھوٹا یا بڑا مرد یا عورت اس بارے میں شک کرتے ہیں ، تو وہ ہمارے پاس ایسی چیز لے آئیں ، جو اس سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اسے اختیار کر لیں گے ، اللہ کی قسم ! ایک ایسا معاملہ آیا ہے ، اس کے بارے میں گردنیں غمگین ہو جاتی ہیں ، تو بنوعبداشہل نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے وقت اور ان کی دعوت کے وقت اسلام قبول کر لیا ، البتہ اس شخص نے نہیں کیا ، جس کے سامنے اس کی تبلیغ نہیں ہوئی تھی ، تو یہ انصار کا وہ پہلا خاندان تھا جو مکمل مسلمان ہو گیا ، پھر بنونجار نے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو نکال دیا اور سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ پر سختی کی ، تو سیدنا مصعب عمیر رضی اللہ عنہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں منتقل ہو گئے اور مسلسل دعوت دیتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر اتنے لوگوں کو ہدایت نصیب کی کہ انصار کے ہر خاندان میں کچھ افراد مسلمان ہو گئے ، ان کے معززین مسلمان ہو گئے ، سیدنا عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے اور ان کے بتوں کو توڑ دیا گیا ، تو مسلمان وہاں کے رہنے والوں میں نمایاں حیثیت کے مالک ہو گئے ، ان کا معاملہ ٹھیک ہو گیا پھر سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس چلے گئے ، انہیں ” قاری صاحب“ کہا: جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، یہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (362/20)»
حدیث نمبر: 9877
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِظْهَارَ دِينِهِ ، وَإِعْزَازَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنْجَازَ وَعْدِهِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَوْسِمِ الَّذِي لَقِيَهُ فِيهِ النَّفَرُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَهُمْ فِيمَا يَزْعُمُونَ سِتَّةٌ فِيهِمْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِئَابٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے نبی کو غلبہ عطا کرنا چاہا اور اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر نکلے ، یہ اس حج کی بات ہے جس میں انصار کے گروہ نے آپ سے ملاقات کی ان کے بیان کے مطابق وہ چھ افراد تھے ، جن میں سے ایک سیدنا جابر بن عبداللہ بن رعاب رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9877
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1766)»
حدیث نمبر: 9878
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنَ الْعَقَبَةِ ، وَقَدْ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُوَافُوهُ سَبْعُونَ رَجُلًا الْعَامَ الْمُقْبِلَ أَقَمْنَا سَنَةً يَمْشِي أَحَدُنَا إِلَى صَاحِبِهِ بِالسَّمْعِ وَالرَّمْلِ وَالْمَطْعَمِ حَتَّى وَافَاهُ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا . . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عقبہ ( یعنی بیعت عقبہ ) میں سے جب بارہ افراد آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ اگلے سال وہ ستر افراد آئیں ، تو ہم ایک سال تک یوں ٹھہرے رہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے پاس فرمانبرداری ، رمل ، اور کھانے کی چیز لے کر جاتا تھا ، یہاں تک کہ ہم میں سے ستر افراد پورے ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے جسے حجاج بن شاعر نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9878
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (101/19)»
حدیث نمبر: 9879
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى قَبَائِلِ الْعَرَبِ قَبِيلَةً قَبِيلَةً فِي الْمَوْسِمِ مَا يَجِدُ أَحَدًا يُجِيبُهُ حَتَّى جَاءَ اللَّهُ بِهَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمَّا أَسْعَدَهُمُ اللَّهُ ، وَسَاقَ لَهُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ فَآوَوْا وَنَصَرُوا ، فَجَزَاهُمُ اللَّهُ عَنْ نَبِيِّهِمْ خَيْرًا ، وَاللَّهِ مَا وَفَّيْنَا لَهُمْ كَمَا عَاهَدْنَاهُمْ عَلَيْهِ ، إِنَّا كُنَّا قُلْنَا لَهُمْ : نَحْنُ الْأُمَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْوُزَرَاءُ ، وَلَئِنْ بَقِيَتْ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ لَا يَبْقَى لِي غُلَامٌ إِلَّا أَنْصَارِيٌّ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر ایک ، ایک قبیلے کے پاس جا کر انہیں دعوت دیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انصار کے گروہ کو لے آیا ، جب اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سعادت مندی طے کر دی ، اور ان کے لئے عزت کو لے آیا ، تو انہوں نے ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا اور مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ، تو اللہ تعالیٰ ان کے نبی کے حوالے سے انہیں جزائے خیر عطا کرے ، اللہ کی قسم ہم نے ان کے ساتھ جو طے کیا تھا ، اسے اس طرح پورا نہیں کیا ، ہم ان سے یہ کہا: کرتے تھے کہ ہم امیر ہوں گے اور تم وزیر ہو گے ، اگر میں ایک سال تک باقی رہ گیا ، تو میرا کوئی غلام باقی نہیں رہے گا البتہ انصاری کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9879
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1754)»
حدیث نمبر: 9880
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسَهُ فِي كُلِّ سَنَةٍ عَلَى قَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ ; أَنْ يُؤْوُوهُ إِلَى قَوْمِهِمْ حَتَّى يُبَلِّغَ كَلَامَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ، وَلَهُمُ الْجَنَّةُ فَلَيْسَتْ قَبِيلَةٌ مِنَ الْعَرَبِ تَسْتَجِيبُ لَهُ حَتَّى أَرَادَ اللَّهُ إِظْهَارَ دِينِهِ ، وَنَصْرَ نَبِيِّهِ ، وَإِنْجَازَ مَا وَعَدَهُ ، سَاقَهُ اللَّهُ إِلَى هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَاسْتَجَابُوا لَهُ وَجَعَلَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ هِجْرَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَجَمَاعَةٌ ، وَضِعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال عرب کے مختلف قبائل کے سامنے دعوت دیا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے : وہ لوگ اپنی قوم کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائیں ، تاکہ آپ اللہ کے کلام اور اس کی رسالت کی تبلیغ کر سکیں ، پھر ان لوگوں کو جنت نصیب ہو گی ، عربوں کے کسی بھی قبیلے نے آپ کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے کا اور اپنے نبی کی مدد کرنے کا اور اپنے وعدے کو پورا کرنے کا ارادہ کیا ، تو انصار کا ایک گروہ آپ کے پاس آ گیا ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے ہجرت کا مقام ( مدینہ منورہ ) بنا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9880
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9881
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْعَقَبَةَ ، وَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : خَرَجْنَا فِي حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ صَلَّيْنَا ، فُقِّهْنَا مَعَنَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ كَبِيرُنَا وَسَيِّدُنَا ، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا لِسَفَرِنَا ، وَخَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ الْبَرَاءُ لَنَا : يَا هَؤُلَاءِ ، إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ - وَاللَّهِ - رَأْيًا ، وَإِنِّي - وَاللَّهِ - مَا أَدْرِي تُوَافِقُونِي عَلَيْهِ أَمْ لَا ؟ قُلْنَا لَهُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ لَا أَدَعَ هَذِهِ الْبِنْيَةَ مِنِّي بِظَهْرٍ - يَعْنِي الْكَعْبَةَ - وَأَنْ أُصَلِّيَ إِلَيْهَا قَالَ : فَقُلْنَا : وَاللَّهِ مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِيَّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَّا إِلَى الشَّامِ ، وَمَا نُرِيدُ أَنْ نُخَالِفَهُ قَالَ : فَقُلْنَا : لَكِنَّا لَا نَفْعَلُ . ¤ قَالَ : وَكُنَّا إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ صَلَّيْنَا إِلَى الشَّامِ ، وَصَلَّى إِلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ ، قَالَ أَخِي : وَقَدْ كُنَّا قَدْ عَتَبْنَا عَلَيْهِ مَا صَنَعَ ، وَأَبَى إِلَّا الْإِقَامَةَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ : يا ابْنَ أَخِي ، انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَسْأَلَهُ عَمَّا صَنَعْتُ فِي سَفَرِي هَذَا ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ لِمَا رَأَيْتُ مِنْ خِلَافِكُمْ إِيَّايَ فِيهِ . ¤ قَالَ : فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنَّا لَا نَعْرِفُهُ ، لَمْ نَرَهُ مِنْ قَبْلُ ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : هَلْ تَعْرِفَانِهِ ؟ قُلْنَا : لَا . قَالَ : فَهَلْ تَعْرِفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّهُ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : وَقَدْ كُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ ، كَانَ لَا يَزَالُ يَقْدَمُ عَلَيْنَا تَاجِرًا قَالَ : فَادْخُلَا الْمَسْجِدَ فَهُوَ الرَّجُلُ الْجَالِسُ مَعَ الْعَبَّاسِ . قَالَ : فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا الْعَبَّاسُ جَالِسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ جَالِسٌ ، فَسَلَّمْنَا ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " هَلْ تَعْرِفُ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ يَا أَبَا الْفَضْلِ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، هَذَا الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ سَيِّدُ قَوْمِهِ ، وَهَذَا كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ . قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَنْسَى قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّاعِرُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَقَالَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنِّي خَرَجْتُ فِي سَفَرِي هَذَا ، وَقَدْ هَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ ، فَجَعَلْتُ لَا أَجْعَلُ هَذِهِ الْبِنْيَةَ مِنِّي بِظَهْرٍ ، فَصَلَّيْتُ إِلَيْهَا ، وَقَدْ خَالَفَنِي أَصْحَابِي فِي ذَلِكَ حَتَّى وَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ ، فَمَا تَرَى ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَقَدْ كُنْتَ عَلَى قِبْلَةٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَيْهَا " . قَالَ : فَرَجَعَ الْبَرَاءُ إِلَى قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى مَعَنَا إِلَى الشَّامِ قَالَ : وَأَهْلُهُ يُصَلُّونَ إِلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى مَاتَ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ كَمَا قَالُوا : نَحْنُ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ . ¤ قَالَ : وَخَرَجْنَا إِلَى الْحَجِّ فَوَاعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَقَبَةَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ الْحَجِّ ، وَكَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي وَعَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُو جَابِرٍ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا ، وَكُنَّا نَكْتُمُ مِنْ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمْرَنَا فَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ : يَا أَبَا جَابِرٍ إِنَّكَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَتِنَا ، وَشَرِيفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا ، وَإِنَّا نَرْغَبُ بِكَ عَمَّا أَنْتَ فِيهِ أَنْ تَكُونَ حَصَبًا لِلنَّارِ غَدًا ، ثُمَّ دَعَوْتُهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَأَخْبَرْتُهُ بِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ وَشَهِدَ مَعَنَا الْعَقَبَةَ وَكَانَ نَقِيبًا . ¤ قَالَ : فَنِمْنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَعَ قَوْمِنَا فِي رِحَالِنَا حَتَّى إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِيعَادِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَتَسَلَّلُ مُسْتَخْفِينَ تَسَلُّلَ الْقَطَا حَتَّى اجْتَمَعْنَا فِي الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا مَعَهُمُ امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِهِمْ : نَسِيبَةُ بِنْتُ كَعْبٍ أُمُّ عُمَارَةَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ ، وَأَسْمَاءُ ابْنَةُ عَمْرِو بْنِ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي سَلَمَةَ ، وَهِيَ أُمُّ مَنِيعٍ . فَاجْتَمَعْنَا بِالشِّعْبِ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى جَاءَنَا وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ إِلَّا أَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَحْضُرَ أَمْرَ ابْنِ أَخِيهِ يَتَوَثَّقُ لَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ - وَكَانَتِ الْعَرَبُ مِمَّا يُسَمُّونَ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ الْخَزْرَجَ أَوْسَهَا ، وَخَزْرَجَهَا - إِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ ، وَقَدْ مَنَعْنَاهُ مِنْ قَوْمِنَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى مِثْلِ رَأْيِنَا فِيهِ ، وَهُوَ فِي عِزٍّ مِنْ قَوْمِهِ ، وَمَنْعَةٍ فِي بَلَدِهِ . قَالَ : فَقُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ ، فَتَكَلَّمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخُذْ لِرَبِّكَ وَلِنَفْسِكَ مَا أَحْبَبْتَ . ¤ فَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَا ، وَدَعَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ ، قَالَ : " أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ " . ¤ قَالَ : فَأَخَذَ الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ : نَعَمْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لِنَمْنَعَنَّكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَزْرَنَا ، فَبَايِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنَحْنُ وَاللَّهِ أَهْلُ الْحُرُوبِ وَأَهْلُ الْحَلْقَةِ وَرِثْنَاهَا كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ . ¤ قَالَ : فَاعْتَرَضَ الْقَوْلَ - وَالْبَرَاءُ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الرِّجَالِ حِبَالًا ، وَإِنَّا قَاطِعُوهَا - وَهِيَ الْعُهُودُ - فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ نَحْنُ فَعَلْنَا ذَلِكَ ، وَأَظْهَرَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَرْجِعَ وَتَدَعَنَا ؟ قَالَ : فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بَلِ الدَّمَ الدَّمَ ، وَالْهَدْمَ الْهَدْمَ أَنْتُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْكُمْ ، أُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ ، وَأُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْرِجُوا إِلَيَّ مِنْكُمْ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا مِنْكُمْ يَكُونُونَ عَلَى قَوْمِهِمْ " . ¤ فَأَخْرَجُوا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا مِنْهُمْ تِسْعَةٌ مِنَ الْخَزْرَجِ ، وَثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَوْسِ . ¤ وَأَمَّا مَعْبَدُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنِي فِي حَدِيثُهُ عَنْ أَخِيهِ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ ، ثُمَّ تَبَايَعَ الْقَوْمُ ، فَلَمَّا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأْسِ الْعَقَبَةِ بِأَنْفَذِ صَوْتٍ سَمِعْتُهُ : يَا أَهْلَ الْجَبَاجِبِ - وَالْجَبَاجِبُ : الْمَنَازِلُ - هَلْ لَكُمْ فِي مُذَمَّمٍ وَالصُّبَاةُ مَعَهُ قَدْ أَجْمَعُوا عَلَى حَرْبِكُمْ ؟ قَالَ عَلِيُّ يَعْنِي : ابْنَ إسْحَاقَ : مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا أَزَبُّ الْعَقَبَةِ ، هَذَا ابْنُ أَزْيَبَ ، اسْمَعْ أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا وَاللَّهِ لَأَفْرُغَنَّ لَكَ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْفَعُوا إِلَيَّ رِحَالَكُمْ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَةَ بْنِ نَضْلَةَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَئِنْ شِئْتَ لَنَمِيلَنَّ عَلَى أَهْلِ مِنًى غَدًا بِأَسْيَافِنَا . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ أُؤْمَرْ بِذَلِكَ " . ¤ قَالَ : فَرَجَعْنَا فَنِمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَتْ عَلَيْنَا جُلَّةُ قُرَيْشٍ حَتَّى جَاءُونَا في مَنَازِلِنَا ، فَقَالُوا : يَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ ، إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّكُمْ قَدْ جِئْتُمْ إِلَى صَاحِبِنَا هَذَا ; تَسْتَخْرِجُونَهُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِينَا ، وَتُبَايِعُونَهُ عَلَى حَرْبِنَا ، وَاللَّهِ إِنَّهُ مَا مِنَ الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضُ إِلَيْنَا أَنْ تَنْشَبَ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ مِنْكُمْ . قَالَ : فَنَبْعَثُ مِنْ هُنَالِكَ مِنْ مُشْرِكِي قَوْمِنَا يَحْلِفُونَ لَهُمْ بِاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ هَذَا مِنْ شَيْءٍ ، وَمَا عَلِمْنَاهُ ، وَقَدْ صَدَقُوا لَمْ يَعْلَمُوا مَا كَانَ مِنَّا . ¤ قَالَ : فَبَعْضُنَا يَنْظُرُ إِلَى بَعْضٍ . قَالَ : وَقَامَ الْقَوْمُ ، وَفِيهِمُ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَعَلَيْهِ نَعْلَانِ جَدِيدَانِ قَالَ : فَقُلْتُ كَلِمَةً كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُشْرِكُ الْقَوْمَ بِهَا فِيمَا قَالُوا : مَا تَسْتَطِيعُ يَا أَبَا جَابِرٍ وَأَنْتَ سَيِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا أَنْ تَتَّخِذَ نَعْلَيْنِ مِثْلَ نَعْلَيْ هَذَا الْفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ ؟ قَالَ : فَسَمِعَهَا الْحَارِثُ فَخَلَعَهُمَا ، ثُمَّ رَمَى بِهِمَا إِلَيَّ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَتَنْتَعِلَنَّهُمَا ، قَالَ : يَقُولُ أَبُو جَابِرٍ : أَحْفَظْتَ - وَاللَّهِ - الْفَتَى ارْدُدْ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَا أَرُدُّهُمَا ، قَالَ : وَوَاللَّهِ صَالِحٌ ، لَئِنْ صَدَقَ الْفَأْلُ لَأَسْلُبَنَّهُ . ¤ فَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ مَالِكٍ عَنِ الْعَقَبَةِ ، وَمَا حَضَرَ مِنْهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤ وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ : فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيَنَا رَجُلٌ بِالْأَبْطَحِ فَقُلْنَا لَهُ : تَدُلُّنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ؟ قَالَ : فَهَلْ تَعْرِفَانِهِ إِذَا رَأَيْتُمَاهُ ؟ وَقَالَ أَيْضًا : وَتَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَلَا الْقُرْآنَ ، وَرَغَّبَ فِي الْإِسْلَامِ ; فَأَجَبْنَاهُ بِالْإِيمَانِ بِهِ وَالتَّصْدِيقِ لَهُ . ¤ وَقَالَ أَيْضًا : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْرِجُوا مِنْكُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا " . فَأَخْرَجَهُمْ فَكَانَ نَقِيبَ بَنِي النَّجَّارِ : أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ . وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي سَلَمَةَ : الْبَرَاءُ بْنُ مَعْرُورٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ . وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي سَاعِدَةَ : سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو . ¤ وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي زُرَيْقٍ : رَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ . وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، وَسَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ . وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ : عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ . ¤ وَنَقِيبُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ : أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَأَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التِّيهَانِ . وَكَانَ نَقِيبَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : سَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو بیعت عقبہ میں شرکت کرنے والے افراد میں سے ایک ہیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بھی کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ہم مشرکین سے تعلق رکھنے والے ، اپنی قوم کے حاجیوں ، کے ہمراہ روانہ ہوئے ہم لوگ نماز پڑھا کرتے تھے ہمارے ساتھ سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے جو ہمارے بڑے اور ہمارے سردار تھے ، جب ہم سفر پر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ سے نکلے ، تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: اے افراد ! اللہ کی قسم میری ایک رائے ہے ، اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ تم اس بارے میں میری موافقت کرتے ہو یا نہیں کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا: کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں اس عمارت یعنی خانہ کعبہ کی طرف پشت نہ کروں اور میں اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کروں ، ہم نے کہا: اللہ کی قسم ہمیں تو یہی اطلاع ملی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں ، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف نہیں کرنا چاہیں گے ، تو ہم نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے راوی کہتے ہیں : جب نماز کا وقت آتا تھا ، تو ہم شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ، اور وہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم لوگ مکہ آ گئے ، میرے بھائی نے کہا: ہم نے ان کے طرز عمل پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا لیکن وہ اپنی بات پر مصر رہے ، جب ہم مکہ آ گئے ، تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلو ، تاکہ میں ان سے اس چیز کے بارے میں دریافت کروں ، جو میں سفر کے دوران کرتا رہا ہوں ، اللہ کی قسم ! تم لوگوں نے اس بارے میں جو میرے برخلاف رائے رکھی ہے ، اس بارے میں میرے ذہن میں کچھ الجھن پائی جاتی ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نکلے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرنے لگے ، ہم آپ کو پہچانتے نہیں تھے کیونکہ ہم نے اس سے پہلے آپ کو نہیں دیکھا تھا ، اہل مکہ میں سے ایک شخص ہم سے ملا ، ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا: کیا تم دونوں انہیں پہچانتے ہو ؟ ہم نے کہا: جی نہیں ! اس نے کہا: کیا تم دونوں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو پہچانتے ہو ، جو ان کے چچا ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! کیونکہ ہم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو جانتے تھے ، وہ تجارت کے سلسلے میں ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ، پھر ان دونوں کو مسجد ( یعنی خانہ کعبہ کے پاس ) لایا گیا ، تو وہاں ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے ، جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ہم نے سلام کیا اور پھر آپ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوالفضل ! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ براء بن معرور ہے ، جو اپنی قوم کا سردار ہے ، اور یہ کعب بن مالک ہے ، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو ( آج بھی ) نہیں بھولا ، آپ نے فرمایا : وہ جو شاعر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں اس سفر پر نکلا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی ، لیکن میں نے اس تعمیر ( یعنی خانہ کعبہ ) کی طرف پشت نہیں کی ، میں اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتا رہا ، میرے ساتھیوں نے اس بارے میں میری مخالفت کی ، یہاں تک کہ اس حوالے سے میرے ذہن میں الجھن پیدا ہوئی یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جس قبلہ پر پہلے ہوا ، گر تم اس پر برقرار رہو ، تو یہ بہتر ہے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کی طرف رخ کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے ، ان کے اہل خانہ ، خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اس طرح نہیں ہے ، جس طرح لوگ بیان کرتے ہیں ، ہم اس کے بارے میں ، اُن لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طے کیا کہ ایام تشریق کے درمیانی دن میں عقبہ میں ملیں گے ، جب ہم حج سے فارغ ہو گئے اور وہ رات آ گئی ، جس کا ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا ، تو ہمارے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ تھے ، جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد ہیں ، وہ ہمارے سرداروں میں سے ایک تھے ، ہم اپنی قوم کے مشرکین سے اپنے معاملے کو چھپا رہے تھے ، ہم نے ان کے ساتھ بات چیت کی ، ہم نے ان سے کہا: اے ابوجابر ! آپ ہمارے سرداروں میں سے ایک ہیں ، اور ہمارے معززین میں سے ایک ہیں ، آپ کے بارے میں ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ جس صورت حال میں ہیں ، کہیں کل آپ آگ کا ایندھن نہ بن جائیں ، پھر میں نے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طے کیے ہوئے معاملے کے بارے میں بتایا ، تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور وہ بھی ہمارے ساتھ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے وہ نقیب تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہم اس رات اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائشی جگہ پر سو گئے ، یہاں تک کہ جب ایک تہائی رات گزر گئی ، تو ہم اپنی رہائشی جگہ سے نکلے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا ہوا تھا ، ہم آرام سے چھپ کر کھسکتے ہوئے نکلے ، ہیں جیسے ” قطا “ نامی پرندہ کھسکتا ہوا چلتا ہے ، یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں اکٹھے ہوئے ، ہم ستر افراد تھے ، جن کے ساتھ دو خواتین تھیں ، نسیبہ بنت کعب ام عمارہ ، جو بنو مازن بن نجار سے تعلق رکھتی تھیں ، اور اسماء بنت عمرو بن عدی بن ثابت ، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا ، اور وہ اُمّ منیع ہیں ، ہم گھائی میں اکٹھے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، اس دن آپ کے ساتھ آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے ، جو اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے ، لیکن وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اپنے بھتیجے کے معاملے میں موجود رہیں ، تاکہ اسے پختہ کروا دیں ، جب ہم بیٹھے تو سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بات چیت کا آغاز کیا ، اور اسے کہا: اے خزرج کے گروہ ! اس وقت عربوں کا یہ معمول تھا کہ وہ انصار کے قبیلے کو خزرج کے نام سے یاد کرتے تھے اس میں خزرج اور اوس دونوں شامل تھے ( انہوں نے کہا: ” محمد “ کا تعلق ہم سے ہے ، جیسا کہ تم جانتے ہو اور ہم نے انہیں اپنی قوم سے بچا کے رکھا ہوا ہے ، وہ قوم جو اس کے بارے میں ہمارے جیسی رائے رکھتی ہے ، اور یہ اپنی قوم میں نمایاں حیثیت کے مالک ہیں اپنے شہر میں نمایاں حیثیت کے مالک ہیں ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: آپ نے جو بات کہی ہے وہ ہم نے سن لی ہے ، یا رسول اللہ ! اب آپ کلام کیجئے اور آپ اپنے پروردگار کے حوالے سے اور اپنی ذات کے حوالے سے جو آپ مناسب سمجھیں وہ طے کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو شروع کی ، آپ نے تلاوت شروع کی ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی ، اسلام کی طرف ترغیب دی اور فرمایا : میں تم سے اس بات کی بیعت لیتا ہوں کہ تم میری بھی اسی طرح حفاظت کرو گے ، جس طرح تم اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرتے ہو ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولے : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ہم آپ کی بھی اسی طرح حفاظت کریں گے ، جس طرح اپنے گھر بار کی حفاظت کرتے ہیں ، یا رسول اللہ ! آپ ہم سے بیعت لیں ، اللہ کی قسم ! ہم جنگ کرنے والے لوگ ہیں اور اہل حلقہ ہیں ، اور یہ چیز نسل در نسل ہمیں وراثت میں منتقل ہوئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : جب سیدنا براء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، تو سیدنا ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ جو بنوعبداشہل کے حلیف تھے ، انہوں نے درمیان میں دخل دیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے اور لوگوں کے درمیان معاہدے پائے جاتے ہیں ایسی صورت میں وہ ختم ہو جائیں گے ، اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ نصیب کر دے ، تو آپ واپس تشریف لے جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ خون ، خون ہو گا اور ہدم ہدم ہو گا ، تم مجھ سے ہو گے اور میں تم سے ہوؤں گا ، جس سے تم جنگ کرو گے اُس سے میں جنگ کروں گا ، اور جس کے ساتھ تم سلامت رہو گے ، اس کے ساتھ میں سلامت رہوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے میں سے بارہ نقیب میرے پاس لے کر آؤ ! جو اپنی قوم کے نگران ہوں ، تو انہوں نے اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کیے ، جن میں سے نو کا تعلق خزرج قبیلے سے تھا ، اور تین کا تعلق اوس قبیلے سے تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : معبد بن کعب نے مجھے جو حدیث بیان کی ہے ، جو انہوں نے اپنے بھائی کے حوالے سے اپنے والد سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ، سب سے پہلے بیعت سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے کی ، پھر لوگوں نے یکے بعد دیگرے بیعت کی ، جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ، تو شیطان نے گھاٹی کے سرے سے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے رہائشی جگہ والو ! کیا تم قابل مذمت فرد اور اس کے ساتھ بے دین لوگوں میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ جو تم لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے رہے ہیں ؟ علی بن اسحاق کہتے ہیں : اللہ کا دشمن ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ) ” محمد “ نہیں کہتا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ گھاٹی سے آواز آئی ہے ، اور یہ ابن ازیب ہے ، اے اللہ کے دشمن ! تو سن لے ! اللہ کی قسم ! اب میں تمہارے لئے فارغ ہونے لگا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُٹھ کر اپنی رہائشی جگہ پر چلے جاؤ ، سیدنا عباس بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو کل ہم اپنی تلواریں لے کر تمام اہل منی پر حملہ آور ہو جاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم واپس آئے اور سو گئے ، جب صبح ہوئی تو قریش کے اکابرین ہمارے پاس آئے ، وہ ہماری رہائشی جگہوں پر ہمارے پاس آ گئے اور بولے : اے خزرج قبیلے کے لوگو ! ہمیں یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ہمارے ساتھی کے پاس گئے تھے تم انہیں ہمارے درمیان میں سے نکال کر لے جانا چاہتے ہو اور تم نے یہ بیعت کر لی ہے کہ ہمارے ساتھ جنگ کرو گے ، اللہ کی قسم عربوں میں سے کسی کے ساتھ بھی جنگ کی صورت حال پیدا کرنا ، ہمارے نزدیک اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہو گا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان یہ صورت حال پیدا ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت ہم نے اپنی قوم کے مشرک افراد کو بھیجا اور انہوں نے ان لوگوں کے سامنے اللہ کے نام پر قسم اٹھائی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں علم ہے اور انہوں نے سچ کہا: تھا ، کیونکہ ہم نے جو کچھ کیا تھا ، انہیں اس بارے میں پتہ ہی نہیں تھا ، راوی کہتے ہیں : وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ، پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ بھی تھے ، انہوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے راوی کہتے ہیں : میں نے ایک کلمہ کہا: جس کے ذریعے میں یہ چاہ رہا تھا کہ اپنی قوم کی کہی ہوئی باتوں میں ، خود کو ان کا حصے دار ظاہر کروں ، تو ان لوگوں نے کہا: اے ابوجابر ! تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، تم ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار ہو ، کہ تم قریش کے اس نوجوان کے دو نئے جوتوں جیسے دو جوتے پہن لو ؟ راوی کہتے ہیں : جب حارث نے یہ بات سنی ، تو انہوں نے جوتے اتار دیے اور پھر انہیں میری طرف پھینک دیا اور کہا: اللہ کی قسم ! تم ان دونوں کو ضرور پہنو گے ، تو سیدنا ابوجابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! تم نے حفاظت کر لی ہے ، تم اس کے جوتے اسے واپس کر دو ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں انہیں واپس نہیں کروں گا ۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم اگر یہ فال ٹھیک ہے ، تو میں انہیں حاصل کر لوں گا ۔ یہ ابن مالک کی نقل کردہ حدیث ہے ، جو بیعت عقبہ اور اس میں موجود افراد کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے بھی سماع کی صراحت کی ہے ۔ امام طبرانی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے ” ابطح“ کے مقام پر ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی ہم نے اُس سے دریافت کیا : تم محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کی طرف ہماری رہنمائی کرو گے ؟ اس نے دریافت کیا : جب تم انہیں دیکھو گے تو کیا تم انہیں پہچان لو گے ؟ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلام کیا ، اور قرآن کریم کی تلاوت کی اور اسلام کے بارے میں ترغیب دی تو ہم نے آپ پر ایمان لا کر اور آپ کی تصدیق کر کے آپ کی دعوت کو قبول کیا ۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے میں سے بارہ نقیب منتخب کرو ، تو انہوں نے ان کو منتخب کیا ، تو بنونجار کے نقیب سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے ، بنوسلمہ کے نقیب سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ تھے ، بنو ساعدہ کے نقیب سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ، بنوزریق کے نقیب سیدنا رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ تھے ، بنو حارث بن خزرج کے نقیب ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ تھے ، بنو اوس بن خزرج کے نقیب سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے ، بنو عبداشہل کے نقیب سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ہیثم بن ابوتیہان رضی اللہ عنہ تھے ، بنو عمرو بن عوف کے نقیب سیدنا سعد بن ابوخثیمہ رضی اللہ عنہ تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9881
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (460/3)»
حدیث نمبر: 9882
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بِعُكَاظٍ وَمَجَنَّةٍ ، وَفِي الْمَوْسِمِ بِمِنًى ، يَقُولُ : " مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ " . ¤ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ ، أَوْ مِنْ مُضَرِ كَذَا ، قَالَ : قَالَ : فَيَأْتِيِهِ قَوْمُهُ ، فَيَقُولُونَ : احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ ، وَهُوَ يَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ ، وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ ، حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ ، وَصَدَّقْنَاهُ ، فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ . ¤ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا ، فَقُلْنَا : حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ ؟ فَرَحَلَ إِلَيْهِ سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَا شِعْبَ الْعَقَبَةِ ، فَاجْتَمَعُوا عِنْدَهَا مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَا نُبَايِعُكَ ؟ قَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ والْيُسْرِ ، وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَنْ تَقُولُوا لِلَّهِ لَا تَخَافُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ ، وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمُ الْجَنَّةُ " . ¤ قَالَ : فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ ، وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ ، فَقَالَ : رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ ، فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً ، وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمُ السُّيُوفُ ، أَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ ، وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ ، وَأَمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خَبِيئَةً ، فَتُبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ أَعْذَرُ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ، قَالُوا : أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا ، وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ : فَقُمْنَا إِلَيْهِ ، فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا ، وَشَرَطَ ، وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک عکا ظاور مجنہ ( کے میلوں ) میں ، اور حج کے موقع پر منی میں ، لوگوں کے پاس ان کے رہائشی جگہوں پر تشریف لے جاتے رہے ، اور یہ فرماتے رہے : کون مجھے پناہ دے گا ؟ کون میری مدد کرے گا ؟ تاکہ میں اپنے پروردگار کی رسالت کی تبلیغ کروں ، اُسے جنت نصیب ہو گی ، یہاں تک کہ ایک شخص ، جو یمن سے یا فلاں جگہ کے مضر قبیلے سے چلتا ، تو اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جا کر یہ کہتے : تم قریش کے اس نوجوان سے بچ کے رہنا ، کہیں وہ تمہیں آزمائش کا شکار نہ کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن لوگوں کی رہائشی جگہوں کے درمیان چلتے رہتے اور وہ لوگ انگلیوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارے کرتے رہتے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرت سے بھیجا ، ہم نے آپ کو پناہ دی اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ، ہم میں سے ایک شخص نکلا ، وہ آپ پر ایمان لایا ، آپ نے اسے قرآن کی تعلیم دی ، وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس گیا ، اور اس کے اہل خانہ بھی اس کے اسلام کی بدولت مسلمان ہو گئے ، یہاں تک کہ انصار کے ہر ایک محلے میں کچھ مسلمان ہو گئے ، جو اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے ، پھر ان سب لوگوں نے مل کر یہ طے کیا اور یہ کہا: ہم کب تک اللہ کے رسول کو اس حالت میں رہنے دیں گے کہ آپ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان رہیں اور اندیشے کا شکار رہیں ، تو ہم میں سے ستر افراد سوار ہو کر حج کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے یہ طے کیا کہ عقبہ کی گھاٹی میں ملیں گے ، وہاں ایک ، ایک دو ، دو کر کے افراد اکٹھے ہونا شروع ہوئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کس بات پر آپ کی بیعت کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چستی اور سستی ، ہر حال میں اطاعت و فرمانبرداری کرنے ، اور تنگی اور خوشحالی ہر حال میں خرچ کرنے ، نیکی کا حکم دینے ، برائی سے منع کرنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونے اور میری مدد کرنے ، اور جب میں تمہارے پاس آؤں ، تو جس طرح تم اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو ، اس طرح میری حفاظت کرنے کی بیعت کرو ، تمہیں جنت نصیب ہو گی ، راوی کہتے ہیں : ہم اٹھ کر آپ کے پاس آئے اور آپ کی بیعت کر لی سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر آپ کا ہاتھ پکڑا ، وہ ان لوگوں میں سب سے کمسن تھے ، انہوں نے کہا: اے اہل یثرب ٹھہر جاؤ ! ہم سفر کر کے ان کے پاس آئے ہیں ، صرف اس وجہ سے کہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ، اور آج انہیں لے کر جانا ، تمام عربوں سے جدا ہونے کے مترادف ہے ، تمہارے بہترین لوگ قتل ہو جائیں گے ، تلواریں تمہیں کاٹ دیں گی ، اگر تو تم ایسے لوگ ہو کہ ایسی صورت حال پر صبر کرو گے ، تو تمہارا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا اور اگر تم ایسے لوگ ہو کہ تم اپنی ذات کے حوالے سے خوف رکھتے ہو ، تو تم اس چیز کو بیان کر دو ! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کرنے کے حوالے سے ، یہ تمہارے لئے زیادہ موزوں ہو گا ، تو اُن لوگوں نے کہا: اے اسعد ! تم ایک طرف ہٹ جاؤ ! اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور اسے کبھی ترک نہیں کریں گے ، تو ہم اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھے اور ہم نے آپ کی بیعت کر لی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی اور یہ شرط عائد کی کہ اس کے بدلے میں ہمیں جنت نصیب ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سنن “ کے مولفین نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ کی قسم ! ہم اس بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور ہم اسے کبھی واپس نہیں لیں گے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1756) اخرجه احمد فى المسند (322/3)»
حدیث نمبر: 9883
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ : وَقَالَ : تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً .
محمد محی الدین
امام أحمد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : انہوں نے کہا: ” اگر تم اپنی ذات کے حوالے سے کوئی خوف رکھتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (323/3)»
حدیث نمبر: 9884
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ مِنَ الْيَمَنِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” یہاں تک کہ ایک شخص یمن کے علاقے ، مضر سے سوار ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (323/3)»
حدیث نمبر: 9885
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ النَّاسِ حِبَالًا - وَالْحِبَالُ : الْحَلِفُ وَالْمَوَاثِيقُ - فَلَعَلَّنَا نَقْطَعُهَا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَوْمِكَ ، وَقَدْ قَطَعْنَا الْحِبَالَ وَحَارَبْنَا النَّاسَ ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ وَقَالَ : " الدَّمَ الدَّمَ الْهَدْمَ الْهَدْمَ " . ¤ فَلَمَّا رَضِيَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِمَا رَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْهَدُ أَنَّهُ لَصَادِقٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ وَبَيْنَ ظَهْرَيْ قَوْمِهِ وَعَشِيرَتِهِ ، فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنْ تُخْرِجُوهُ بَرَتْكُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ ، فَإِنْ كَانَتْ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَذَهَابِ الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ فَادْعُوهُ إِلَى أَرْضِكُمْ ، فَإِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقًّا ، وَإِنْ خِفْتُمْ خِذْلَانًا فَمِنَ الْآنَ ، فَقَالُوا عِنْدَ ذَلِكَ : قَبِلْنَا عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ مَا أَعْطَانَا ، وَقَدْ أَعْطَيْنَاكَ مِنْ أَنْفُسِنَا الَّذِي سَأَلْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخَلِّ بَيْنَنَا يَا أَبَا الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْنُبَايِعْهُ فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ بَايَعَ ثُمَّ كُلُّهُمْ ، وَصَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأَسِ الْجَبَلِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَذِهِ الْخَزْرَجُ وَالْأَوْسُ تُبَايِعُ مُحَمَّدًا عَلَى قِتَالِكُمْ فَفَزِعُوا عِنْدَ ذَلِكَ وَرَاعَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَرُعْكُمْ هَذَا الصَّوْتُ ; فَإِنَّهُ عَدُوُّ اللَّهِ إِبْلِيسُ لَيْسَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِمَّنْ تَخَافُونَ " . وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَرَخَ بِالشَّيْطَانِ : " يَا ابْنَ أَزَبَّ هَذَا عَمَلُكَ ، فَسَأَفْرَغُ لَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت سیدنا ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے کی تھی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان اور لوگوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں ، تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں انہیں توڑنا پڑے ، لیکن ایسا نہ ہو ، کہ آپ واپس اپنی قوم کی طرف تشریف لے جائیں اور ہم لوگوں سے معاہدے توڑ کر ان کے ساتھ جنگ کر چکے ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات پر ہنس پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خون ، خون ہو گا اور ہدم ، ہدم ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی بات کا جو جواب دیا تھا ، جب سیدنا ابوہیثم رضی اللہ عنہ اس بات سے راضی ہوئے ، تو وہ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے قوم ! یہ اللہ کے رسول ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ سچے ہیں ، آج یہ اللہ کے حرم میں اس کی امان میں ہیں ، اور اپنی قوم اور خاندان کے درمیان میں ہیں ، تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ اگر تم انہیں یہاں سے نکال کر لے گئے تو عرب تمہارے خلاف متحد ہو جائیں گے ، اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے حوالے سے مطمئن ہو ، اپنے اموال اور اولاد کے رخصت ہو جانے سے مطمئن ہو ، تو انہیں اپنے علاقے کی طرف آنے کی دعوت دے دو ، کیونکہ یہ اللہ کے حقیقی رسول ہیں ، اور اگر تمہیں رسوائی کا اندیشہ ہے ، تو پھر ابھی معذرت کر لو ، اس وقت ان لوگوں نے کہا: ہم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس چیز کو قبول کریں گے ، جو وہ ہمیں دیں گے اور ہم اپنا آپ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے ہیں ، یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں وہ طے کر لیں ، اے ابوالہیثم ! ہمارے اور اللہ کے رسول کے درمیان سے ہٹ جاؤ ! ہم ان کی بیعت کریں گے ، تو سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سب سے پہلے بیعت کروں گا ، پھر باقی سب افراد نے بیعت کر لی ۔ پہاڑ کے سرے سے شیطان نے چیخ ماری اور کہا: اے قریش کے گروہ ! یہ خزرج اور اس قبیلے کے لوگ ، تم سے لڑائی کرنے کے لئے ” محمد “ کی بیعت کر رہے ہیں ، تو وہ لوگ اس بات پر پریشان اور خوف زدہ ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ آواز تمہیں پریشانی کا شکار نہ کرے ، کیونکہ یہ اللہ کا دشمن ابلیس ہے ، جن لوگوں کے بارے میں تمہیں اندیشہ ہے ، ان میں سے کسی نے بھی اس کی بات نہیں سنی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے بلند آواز میں شیطان کو پکار کر کہا: اے سانپ کے بچے ! یہ تمہارا عمل ہے ، میں عنقریب فارغ ہو کر تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9885
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (250/19)»
حدیث نمبر: 9886
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْلِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ الْأَضْحَى ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا ، قَالَ عُقْبَةُ : إِنِّي أَصْغَرُهُمْ سِنًّا ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَوْجِزُوا فِي الْخُطْبَةِ ; فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلْنَا لِرَبِّكَ وَسَلْنَا لِنَفْسِكَ ، وَسَلْنَا لِأَصْحَابِكَ ، وَأَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعَلَيْكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِرَبِّي أَنْ تُؤْمِنُوا بِهِ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا . وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِنَفْسِي : أَسْأَلُكُمْ أَنْ تُطِيعُونِي أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ . وَأَسْأَلُكُمْ لِي وَلِأَصْحَابِي : أَنْ تُوَاسُونَا فِي ذَاتِ أَيْدِيكُمْ ، وَأَنْ تَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ . فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَلَكُمْ - عَلَى اللَّهِ - الْجَنَّةُ وَعَلَيَّ " . قَالَ : فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِ حَدِيثٍ مُرْسَلٍ يَأْتِي ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ أَيْضًا ، وَلَمْ يَسُقْ لَفْظَهُ ، وَذَكَرَهُ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن ، عقبہ کی بنیاد کے پاس ، ہم سے ملنے کا وعدہ کیا ، ہم ستر افراد تھے ، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان سب سے کمسن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم مختصر بات چیت کرنا ، کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے قریش کے کفار کا اندیشہ ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے ساتھ اپنے پروردگار کے لئے اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں طے کر لیں ، اور ہمیں یہ بتا دیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے ہمیں کیا اجر و ثواب ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کے حوالے سے یہ کہتا ہوں : تم اس پر ایمان لاؤ ، اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ، جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے تو میں تم سے کہتا ہوں کہ تم میری اطاعت کرنا میں سیدھے راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کروں گا ، اور میں اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں تم سے یہ کہتا ہوں : تم نے اپنی طرف سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور ہماری اسی طرح حفاظت کرنی ہے ، جس طرح اپنی حفاظت کرتے ہو تم لوگ ایسا کر لو گے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور میرے ذمہ یہ بات ہے کہ تمہیں جنت نصیب ہو گی ، راوی کہتے ہیں : تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور آپ کی بیعت کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد نے اسے ” مرسل “ روایت کی مانند نقل کیا ہے ، جو آگے چل کے آئے گی ، اس کی سند میں بھی ایک راوی مجالد ہے لیکن اس کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کیے ہیں ، انہوں نے اس کے بعد
یہ روایت ذکر کی ہے ، اور وہ ( روایت ) ، یہ ( یعنی درجہ ذیل ) ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256/17) اخرجه احمد فى المسند (119/4)»
حدیث نمبر: 9887
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ قَالَ : " لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِلْ ; فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا ; وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ " . قَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ : سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " أَسْأَلُ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ " . قَالُوا : فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " لَكُمُ الْجَنَّةُ " . قَالُوا : فَلَكَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بَعْدَهُ سَنَدًا إِلَى الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَالَ بِنَحْوِ هَذَا قَالَ : وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے اُن ستر افراد کی طرف تشریف لے گئے ، جو درخت کے نیچے عقبہ کے پاس موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک شخص بات چیت کرے اور طویل کلام نہ کرے ، کیونکہ تمہارے خلاف مشرکین کے جاسوس ہو سکتے ہیں ، اگر انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا ، تو وہ تمہیں پریشان کریں گے ، تو ان میں سے ایک صاحب نے یعنی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اپنے پروردگار کے لئے جو چاہیں طے کر لیں اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں طے کر لیں ، اور پھر ہمیں یہ بتا دیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے کیا اجر و ثواب ملے گا اگر ہم ایسا کر لیں گے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کے حوالے سے تم سے یہ کہتا ہوں : تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اور اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے حوالے سے تم سے یہ کہتا ہوں : تم نے ہمیں پناہ دینی ہے ہماری مدد کرنی ہے اور ہماری حفاظت کرنی ہے ، ہر اس چیز کے حوالے سے ، جس طرح تم اپنے آپ کی حفاظت کرتے ہو ، ان لوگوں نے دریافت کیا : اگر ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جنت ملے گی ، ان لوگوں نے کہا: تو پھر یہ بات طے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد نے اس کے بعد امام شعبی تک ایک سند نقل کی ہے ، جو سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہے ، پھر اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ ان میں سب سے کمسن تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، تو اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہو گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند ( 119/4)»
حدیث نمبر: 9888
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : مَا سَمِعَ الشَّيْبُ وَلَا الشُّبَّانُ خُطْبَةً مِثْلَهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : کسی بھی بوڑھے یا جوان نے اس کی مانند خطبہ نہیں سنا ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (120/4)»
حدیث نمبر: 9889
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْعَقَبَةِ قَالَ : شَهِدَهَا سَبْعُونَ فَوَاثَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَبَّاسُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ أَخَذَ بِيَدِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخَذْتُ وَأَعْطَيْتُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے بیعت عقبہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا کہ ستر افراد اس میں موجود تھے ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے لیا اور میں نے دیا ( یعنی یہ بات طے کر لی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (341/3)»
حدیث نمبر: 9890
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النُّقَبَاءُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ لَهُمْ : " تُؤْوُونِي وَتَمْنَعُونِي " . قَالُوا : فَمَا لَنَا ؟ قَالَ : " لَكُمُ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے نقباء کی ملاقات ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم لوگ مجھے پناہ دو گے اور میری حفاظت کرو گئے ، انہوں نے عرض کی : ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں جنت ملے گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1755) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1887) اخرجه احمد فى المسند (322/3)»
حدیث نمبر: 9891
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ خَطَبَ مَقْدَمَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّا نَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا ، وَأَوْلَادَنَا فَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَكُمُ الْجَنَّةُ " . قَالُوا : رَضِينَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر خطبہ دیا اور یہ فرمایا : ہم آپ کی اُسی طرح حفاظت کریں گے ، جس طرح ہم اپنی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کی کرتے ہیں یا رسول اللہ ! ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جنت ملے گی ، انہوں نے عرض کی : ہم اس سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9892
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَمَلَنِي خَالِي جَدُّ بْنُ قَيْسٍ فِي السَّبْعِينَ رَاكِبًا الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قِبَلِ الْأَنْصَارِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ : " يَا عَمِّ ، خُذْ عَلَى أَخْوَالِكَ " . فَقَالَ لَهُ السَّبْعُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، سَلْ لِرَبِّكَ وَلِنَفْسِكَ وَمَا شِئْتَ . فَقَالَ : " أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي فَتَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ " . ¤ قَالُوا : فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ماموں سیدنا جد بن قیس رضی اللہ عنہ نے مجھے ستر افراد کے ساتھ شامل کیا جو سوار ہو کر وفد کی شکل میں ، انصار کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت عقبہ کی رات حاضر ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ، آپ کے ساتھ آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے چچا ! آپ اپنے ننھیالی رشتہ داروں سے عہد لے لیں ، ان ستر افراد نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے سیدنا محمد ! آپ اپنے پروردگار کے حوالے سے ، اپنی ذات کے حوالے سے ، جو آپ چاہیں وہ طے کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک پروردگار کا تعلق ہے ، تو میں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ، جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے ، تو میں تم سے یہ کہتا ہوں : تم ہر اس چیز کے حوالے سے میری حفاظت کرو ، جس کے حوالے سے تم اپنی حفاظت کرتے ہو ، ان لوگوں نے عرض کی : جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1076) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1757)»
حدیث نمبر: 9893
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ ، قَالَ جَابِرٌ : وَأَخْرَجَنِي خَالَايَ ، وَأَنَا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرْمِيَ بِحَجَرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بیعت عقبہ کی رات ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے دو ماموں مجھے لے کر گئے تھے ، حالانکہ میں ایک پتھر بھی پھینکنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1741)»
حدیث نمبر: 9894
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ عَبَّاسٌ : وَاللَّهِ أَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَتَاهُ السَّبْعُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ الْعَقَبَةَ فَأَخَذَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِمْ وَشَرَطَ عَلَيْهِمْ ، وَذَلِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ وَأَوَّلِهِ قَبْلَ أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ أَحَدٌ عَلَانِيَةً . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِ اللَّدُودِ الَّذِي رَوَتْهُ عَائِشَةُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! جب ستر افراد ، جن کا تعلق انصار سے تھا ، وہ بیعت عقبہ کی رات آئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اُن کے ساتھ شرائط طے کیں اور یہ اسلام کے ابتدائی دور کی بات ہے ، اور اس سے پہلے کی بات ہے کہ کوئی اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے ، جسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4936)»
حدیث نمبر: 9895
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ; أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ تَدْرُونَ عَلَى مَا تُبَايِعُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ إِنَّكُمْ تُبَايِعُونَهُ أَنْ تُحَارِبُوا الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ وَالْجِنَّ وَالْإِنْسَ ، فَقَالُوا : نَحْنُ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَ ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرِطْ ، قَالَ : " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ تَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، وَالسَّمْعَ وَالطَّاعَةَ ، وَأَنْ لَا تُنَازِعُوا الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَأَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو ! کیا تم یہ جانتے ہو ؟ کہ تم کس چیز پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر رہے ہو ؟ تم اس چیز پر ان کی بیعت کر رہے ہو کہ تم عربوں ، عجمیوں ، جنوں اور انسانوں کے ساتھ جنگ کرو گے اُن لوگوں نے کہا: یہ جس کے ساتھ جنگ کریں گے ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے یہ جس کے ساتھ سلامت رہیں گے ہم اس کے ساتھ سلامت رہیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کوئی شرط طے کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات پر میری بیعت کرو کہ تم اس بات کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ، تم نماز قائم کرو گے اور تم زکوۃ دو گے ، اطاعت اور فرمانبرداری کرو گے ، اور حکومت کے معاملے میں اس کے اہل افراد سے جھگڑا نہیں کرو گے ، اور میری ان چیزوں کے حوالے سے حفاظت کرو گے ، جن کے حوالے سے تم اپنے آپ کی ، اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کرتے ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس راوی کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9896
وَعَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : جَاءَتِ الْأَنْصَارُ تُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْعَقَبَةِ فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ قُمْ يَا عَلِيُّ فَبَايِعْهُمْ " . فَقَالَ : عَلَامَ أُبَايِعُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ يُطَاعَ اللَّهُ وَلَا يُعْصَى ، وَعَلَى أَنْ تَمْنَعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَهْلَ بَيْتِهِ وَذُرِّيَّتَهُ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَذَرَارِيَّكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عقبہ کی رات ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انصار بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم اُٹھو ، اے علی ! ان سے بیعت لے لو ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس چیز پر ان سے بیعت لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے گی ، اس کی نافرمانی نہیں کی جائے گی اور اس بات پر کہ تم لوگ اللہ کے رسول اور ان کے اہل بیت اور ان کی ذریت کی اسی طرح حفاظت کرو گے ، جس طرح تم اپنے آپ کی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، عبداللہ بن مروان نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1766)»