مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 9891
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ خَطَبَ مَقْدَمَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّا نَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا ، وَأَوْلَادَنَا فَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَكُمُ الْجَنَّةُ " . قَالُوا : رَضِينَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر خطبہ دیا اور یہ فرمایا : ہم آپ کی اُسی طرح حفاظت کریں گے ، جس طرح ہم اپنی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی اولاد کی کرتے ہیں یا رسول اللہ ! ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جنت ملے گی ، انہوں نے عرض کی : ہم اس سے راضی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔