مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
حدیث نمبر: 9890
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النُّقَبَاءُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَ لَهُمْ : " تُؤْوُونِي وَتَمْنَعُونِي " . قَالُوا : فَمَا لَنَا ؟ قَالَ : " لَكُمُ الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے نقباء کی ملاقات ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم لوگ مجھے پناہ دو گے اور میری حفاظت کرو گئے ، انہوں نے عرض کی : ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں جنت ملے گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔