مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَمَلَنِي خَالِي جَدُّ بْنُ قَيْسٍ فِي السَّبْعِينَ رَاكِبًا الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قِبَلِ الْأَنْصَارِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ : " يَا عَمِّ ، خُذْ عَلَى أَخْوَالِكَ " . فَقَالَ لَهُ السَّبْعُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، سَلْ لِرَبِّكَ وَلِنَفْسِكَ وَمَا شِئْتَ . فَقَالَ : " أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُكُمْ لِرَبِّي فَتَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ " . ¤ قَالُوا : فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ماموں سیدنا جد بن قیس رضی اللہ عنہ نے مجھے ستر افراد کے ساتھ شامل کیا جو سوار ہو کر وفد کی شکل میں ، انصار کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت عقبہ کی رات حاضر ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ، آپ کے ساتھ آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے چچا ! آپ اپنے ننھیالی رشتہ داروں سے عہد لے لیں ، ان ستر افراد نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اے سیدنا محمد ! آپ اپنے پروردگار کے حوالے سے ، اپنی ذات کے حوالے سے ، جو آپ چاہیں وہ طے کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک پروردگار کا تعلق ہے ، تو میں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ، جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے ، تو میں تم سے یہ کہتا ہوں : تم ہر اس چیز کے حوالے سے میری حفاظت کرو ، جس کے حوالے سے تم اپنی حفاظت کرتے ہو ، ان لوگوں نے عرض کی : جب ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔