حدیث نمبر: 9886
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَصْلِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ الْأَضْحَى ، وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا ، قَالَ عُقْبَةُ : إِنِّي أَصْغَرُهُمْ سِنًّا ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَوْجِزُوا فِي الْخُطْبَةِ ; فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ " . فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلْنَا لِرَبِّكَ وَسَلْنَا لِنَفْسِكَ ، وَسَلْنَا لِأَصْحَابِكَ ، وَأَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَعَلَيْكَ ؟ قَالَ : " أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِرَبِّي أَنْ تُؤْمِنُوا بِهِ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا . وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِنَفْسِي : أَسْأَلُكُمْ أَنْ تُطِيعُونِي أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ . وَأَسْأَلُكُمْ لِي وَلِأَصْحَابِي : أَنْ تُوَاسُونَا فِي ذَاتِ أَيْدِيكُمْ ، وَأَنْ تَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ . فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَلَكُمْ - عَلَى اللَّهِ - الْجَنَّةُ وَعَلَيَّ " . قَالَ : فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِ حَدِيثٍ مُرْسَلٍ يَأْتِي ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ أَيْضًا ، وَلَمْ يَسُقْ لَفْظَهُ ، وَذَكَرَهُ بَعْدَ هَذَا وَهُوَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن ، عقبہ کی بنیاد کے پاس ، ہم سے ملنے کا وعدہ کیا ، ہم ستر افراد تھے ، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان سب سے کمسن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم مختصر بات چیت کرنا ، کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے قریش کے کفار کا اندیشہ ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے ساتھ اپنے پروردگار کے لئے اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں طے کر لیں ، اور ہمیں یہ بتا دیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے ہمیں کیا اجر و ثواب ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کے حوالے سے یہ کہتا ہوں : تم اس پر ایمان لاؤ ، اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا ، جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے تو میں تم سے کہتا ہوں کہ تم میری اطاعت کرنا میں سیدھے راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کروں گا ، اور میں اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں تم سے یہ کہتا ہوں : تم نے اپنی طرف سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور ہماری اسی طرح حفاظت کرنی ہے ، جس طرح اپنی حفاظت کرتے ہو تم لوگ ایسا کر لو گے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور میرے ذمہ یہ بات ہے کہ تمہیں جنت نصیب ہو گی ، راوی کہتے ہیں : تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور آپ کی بیعت کر لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام أحمد نے اسے ” مرسل “ روایت کی مانند نقل کیا ہے ، جو آگے چل کے آئے گی ، اس کی سند میں بھی ایک راوی مجالد ہے لیکن اس کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کیے ہیں ، انہوں نے اس کے بعد
یہ روایت ذکر کی ہے ، اور وہ ( روایت ) ، یہ ( یعنی درجہ ذیل ) ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256/17) اخرجه احمد فى المسند (119/4)»