مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ ابْتِدَاءِ أَمْرِ الْأَنْصَارِ ، وَالْبَيْعَةِ عَلَى الْحَرْبِ باب: انصار کے معاملے کے آغاز کا بیان اور ان کا جنگ پر بیعت کرنا
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : كَانَ أَوَّلَ مَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ النَّاسِ حِبَالًا - وَالْحِبَالُ : الْحَلِفُ وَالْمَوَاثِيقُ - فَلَعَلَّنَا نَقْطَعُهَا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَوْمِكَ ، وَقَدْ قَطَعْنَا الْحِبَالَ وَحَارَبْنَا النَّاسَ ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ وَقَالَ : " الدَّمَ الدَّمَ الْهَدْمَ الْهَدْمَ " . ¤ فَلَمَّا رَضِيَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِمَا رَجَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ أَقْبَلَ عَلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْهَدُ أَنَّهُ لَصَادِقٌ وَأَنَّهُ الْيَوْمَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ وَبَيْنَ ظَهْرَيْ قَوْمِهِ وَعَشِيرَتِهِ ، فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنْ تُخْرِجُوهُ بَرَتْكُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ ، فَإِنْ كَانَتْ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ بِالْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَذَهَابِ الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ فَادْعُوهُ إِلَى أَرْضِكُمْ ، فَإِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقًّا ، وَإِنْ خِفْتُمْ خِذْلَانًا فَمِنَ الْآنَ ، فَقَالُوا عِنْدَ ذَلِكَ : قَبِلْنَا عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ مَا أَعْطَانَا ، وَقَدْ أَعْطَيْنَاكَ مِنْ أَنْفُسِنَا الَّذِي سَأَلْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَخَلِّ بَيْنَنَا يَا أَبَا الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْنُبَايِعْهُ فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : أَنَا أَوَّلُ مَنْ بَايَعَ ثُمَّ كُلُّهُمْ ، وَصَرَخَ الشَّيْطَانُ مِنْ رَأَسِ الْجَبَلِ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَذِهِ الْخَزْرَجُ وَالْأَوْسُ تُبَايِعُ مُحَمَّدًا عَلَى قِتَالِكُمْ فَفَزِعُوا عِنْدَ ذَلِكَ وَرَاعَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَرُعْكُمْ هَذَا الصَّوْتُ ; فَإِنَّهُ عَدُوُّ اللَّهِ إِبْلِيسُ لَيْسَ يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِمَّنْ تَخَافُونَ " . وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَرَخَ بِالشَّيْطَانِ : " يَا ابْنَ أَزَبَّ هَذَا عَمَلُكَ ، فَسَأَفْرَغُ لَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت سیدنا ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ نے کی تھی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان اور لوگوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں ، تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں انہیں توڑنا پڑے ، لیکن ایسا نہ ہو ، کہ آپ واپس اپنی قوم کی طرف تشریف لے جائیں اور ہم لوگوں سے معاہدے توڑ کر ان کے ساتھ جنگ کر چکے ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات پر ہنس پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خون ، خون ہو گا اور ہدم ، ہدم ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی بات کا جو جواب دیا تھا ، جب سیدنا ابوہیثم رضی اللہ عنہ اس بات سے راضی ہوئے ، تو وہ اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے قوم ! یہ اللہ کے رسول ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ سچے ہیں ، آج یہ اللہ کے حرم میں اس کی امان میں ہیں ، اور اپنی قوم اور خاندان کے درمیان میں ہیں ، تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ اگر تم انہیں یہاں سے نکال کر لے گئے تو عرب تمہارے خلاف متحد ہو جائیں گے ، اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے حوالے سے مطمئن ہو ، اپنے اموال اور اولاد کے رخصت ہو جانے سے مطمئن ہو ، تو انہیں اپنے علاقے کی طرف آنے کی دعوت دے دو ، کیونکہ یہ اللہ کے حقیقی رسول ہیں ، اور اگر تمہیں رسوائی کا اندیشہ ہے ، تو پھر ابھی معذرت کر لو ، اس وقت ان لوگوں نے کہا: ہم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس چیز کو قبول کریں گے ، جو وہ ہمیں دیں گے اور ہم اپنا آپ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے ہیں ، یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہیں وہ طے کر لیں ، اے ابوالہیثم ! ہمارے اور اللہ کے رسول کے درمیان سے ہٹ جاؤ ! ہم ان کی بیعت کریں گے ، تو سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں سب سے پہلے بیعت کروں گا ، پھر باقی سب افراد نے بیعت کر لی ۔ پہاڑ کے سرے سے شیطان نے چیخ ماری اور کہا: اے قریش کے گروہ ! یہ خزرج اور اس قبیلے کے لوگ ، تم سے لڑائی کرنے کے لئے ” محمد “ کی بیعت کر رہے ہیں ، تو وہ لوگ اس بات پر پریشان اور خوف زدہ ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ آواز تمہیں پریشانی کا شکار نہ کرے ، کیونکہ یہ اللہ کا دشمن ابلیس ہے ، جن لوگوں کے بارے میں تمہیں اندیشہ ہے ، ان میں سے کسی نے بھی اس کی بات نہیں سنی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے بلند آواز میں شیطان کو پکار کر کہا: اے سانپ کے بچے ! یہ تمہارا عمل ہے ، میں عنقریب فارغ ہو کر تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔