حدیث نمبر: 9887
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ إِلَى السَّبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَةِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ قَالَ : " لِيَتَكَلَّمْ مُتَكَلِّمُكُمْ وَلَا يُطِلْ ; فَإِنَّ عَلَيْكُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ عَيْنًا ; وَإِنْ يَعْلَمُوا بِكُمْ يَفْضَحُوكُمْ " . قَالَ قَائِلُهُمْ وَهُوَ أَبُو أُمَامَةَ : سَلْ يَا مُحَمَّدُ لِرَبِّكَ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ سَلْ لِنَفْسِكَ وَلِأَصْحَابِكَ مَا شِئْتَ ، ثُمَّ أَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكُمْ إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " أَسْأَلُ لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَسْأَلُكُمْ لِنَفْسِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُؤْوُونَا وَتَنْصُرُونَا وَتَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ " . قَالُوا : فَمَا لَنَا إِذَا فَعَلْنَا ذَلِكَ ؟ قَالَ : " لَكُمُ الْجَنَّةُ " . قَالُوا : فَلَكَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بَعْدَهُ سَنَدًا إِلَى الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، وَقَالَ بِنَحْوِ هَذَا قَالَ : وَكَانَ أَبُو مَسْعُودٍ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

امام شعبی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے اُن ستر افراد کی طرف تشریف لے گئے ، جو درخت کے نیچے عقبہ کے پاس موجود تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک شخص بات چیت کرے اور طویل کلام نہ کرے ، کیونکہ تمہارے خلاف مشرکین کے جاسوس ہو سکتے ہیں ، اگر انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا ، تو وہ تمہیں پریشان کریں گے ، تو ان میں سے ایک صاحب نے یعنی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: اے سیدنا محمد ! آپ اپنے پروردگار کے لئے جو چاہیں طے کر لیں اور اپنے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو چاہیں طے کر لیں ، اور پھر ہمیں یہ بتا دیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے کیا اجر و ثواب ملے گا اگر ہم ایسا کر لیں گے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے پروردگار کے حوالے سے تم سے یہ کہتا ہوں : تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، اور اپنی ذات اور اپنے ساتھیوں کے حوالے سے تم سے یہ کہتا ہوں : تم نے ہمیں پناہ دینی ہے ہماری مدد کرنی ہے اور ہماری حفاظت کرنی ہے ، ہر اس چیز کے حوالے سے ، جس طرح تم اپنے آپ کی حفاظت کرتے ہو ، ان لوگوں نے دریافت کیا : اگر ہم ایسا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں جنت ملے گی ، ان لوگوں نے کہا: تو پھر یہ بات طے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد نے اس کے بعد امام شعبی تک ایک سند نقل کی ہے ، جو سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہے ، پھر اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ ان میں سب سے کمسن تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اگر اللہ نے چاہا ، تو اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہو گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند ( 119/4)»